اللہ تعالی کی حکمت – رملہ کامران




’’ یاہو ! ہم کل جا رہے ہیں کتنا مزا آئے گا ‘‘ اچھلتے کود تےماریہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بتایا ۔ ’’ ارے یہ تو بتا دو کہ کدھر جا رہے ہیں ؟؟؟ ‘‘ فائزہ نے بےچینی سے پوچھا ۔ ’’ ابو کے سب سے اچھے دوست کے بیٹے کی شادی لاہور میں ہے اسی لیے ہم کل وہاں جا رہے ہیں ‘‘ ماریہ نے پوری تفصیل بتائی ۔ ’’ سچ !! کیا واقعی ؟؟؟ ‘‘
فائزہ بھی خوشی کے مارے چلائی ۔ ’’ ہاں بھئی ، میں نے خود امی ابو سے سنا ہے ۔ امی ابو سے باتیں کر رہیں تھیں لیکن میں نے کمرے کے دروازے کے پیچھے سے سن لیا ‘‘ ماریہ نے فائزہ کو یقین دلاتے ہوئے کہا ۔ ’’ چلو آؤ بھائی کو چل کے بتاتے ہیں ۔ ‘‘ فائزہ کے کہنے پر وہ دونوں بھیا کے کمرے کی طرف چل پڑیں۔ ’’ بھیا بھیا ! ہم جارہے ہیں ۔ ‘‘چند لمحوں بعد فائزہ اور ماریہ بھیا کو یہ اطلاع دے رہی تھیں ۔ ’’ ارے بھئی جا کہاں رہے ہیں ؟؟ْ؟ ‘‘ بھیا نے بھی اسی انداذ میں پوچھا ۔ ’’ لاہور ۔ ‘‘ ماریہ فائزہ کا منہ کھلنے سے پہلے ہی بول اٹھی ۔ ’’ تم سچ کہہ رہی ہو ؟؟ْ؟ ‘‘ بھیا نے حیرت زدہ ہو کہ پوچھا ۔ ’’ ہاں ہم کل جا رہے ہیں اور اسی بہانے ہم پورا لاہور بھی گھوم لیں گے ۔ ‘‘ فائزہ نے بھیا کو یقین دلاتے ہوئے کہا ۔فائزہ اور ماریہ دو بہنیں تھیں ۔ ماریہ تیسری جماعت میں پڑھتی تھی جبکہ فائزہ نویں کی طالبعلم تھی اور ان دونوں کا بھائی حسن کالج میں پڑھتا تھا ۔ ان دنوں ان سب کی گرمیوں کی چھٹیاں تھیں لیکن ابو کی اپنے کام میں مصروفیت کے باعث وہ گھر میں بیٹھے بور ہو رہے تھے اور جب ان سب نے سنا کہ وہ لاہور جا رہے ہیں تو وہ سب بہت خوش ہوئے اور سامان پیک کرنا شروع ہوگئے۔
’’ ماریہ ، یہ والے کپڑے بھی رکھ لو ۔ ‘‘ فائزہ نے الماری سے ایک نیا سوٹ نکال کے ماریہ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے ہوئے کہا ۔ اسی وقت امی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ ’’ ارے بچوں ، کہاں جانے کی تیاریاں ہو رہیں ہیں ؟؟؟ ‘‘ امی نے حیرانی سے سب کچھ دیکھتے ہوئے کہا ۔ ’’ ارے امی ہم نے آپ ہی سے تو سنا تھا کہ کل ہم لاہور جا رہے ہیں ۔ ‘‘ فائزہ بولی ۔ ’’ اوہو ، تو آپ لوگوں کو پتہ بھی چل گیا ۔ میں نے سوچا تھا کہ آپ لوگوں کو سرپرائز دوں لیکن اب دھیان سے سنو ہم کل دوپہر میں یہاں سے نکل جائیں گے اس لیے اس سے پہلے ہی تیاری مکمل کر لینا ‘‘ امی مسکراتے ہوئے بولیں ۔ ’’ ٹھیک ہے امی ، ہم دوپہر تک تیار ہو جائیں گے۔ ‘‘ ان سب نے امی کو یقین دلاتے ہوئے کہا۔
’’ یہ کمرا کتنا اچھا ہے ‘‘ فائزہ نے پورے کمرے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔ اتنے میں ماریہ بھاگتے ہوئے بیڈ پر چڑھ کہ اچھلنے لگی ۔ سامنے سے سامان لاتے ہوئے ویٹر کو دیکھتے ہی ابو گڑبڑا گئے اور فوراً ابو نے ماریہ کو گود میں لیتے ہوئے ایک طرف بٹھا دیا ۔ ’’ اس بیڈ پر تو میں ہی سوں گی ۔ ‘‘ ماریہ نے واپس چڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔ ’’ نہیں اس پر کوئی بڑا ہی سو سکتا ہے اس لیے میں ہی سوں گا اس پر ‘‘ بھیا نے بھی اس پر اپنا حق جماتے ہوئے کہا ۔ ’’ ابو دیکھیں نہ بھیا کو ، مجھے سونا ہے اس پر ‘‘ ماریہ بھی چپ رہنے والی نہیں تھی ۔ ’’ اچھا بھئی اب لڑو نہیں ، ساتھ والا کمرا بھی ہے اور چلو کھانے کا وقت ہورہا ہے ۔ نیچے چل کہ کھانا کھاتے ہیں ۔ ‘‘
آخرکار جس دن کا انھیں انتظار تھا وہ آہی گیا یعنی شادی کا دن ۔ اس دن ابو امی صبح ہی شاپنگ اور تحفے وغیرہ خریدنے کے لیے چلے گئے اور پھر شام کو ہی واپس لوٹے ۔ رات کو وہ سب نہا دھو کر اچھا سا تیار ہو گئے ۔ ہوٹل سے نکل کر وہ گاڑی میں بیٹھے ۔ ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ اچانک گاڑی رک گئی ۔ ’’ افوہ ، یہ گاڑی کو کیا ہو گیا ہے ؟؟ْ؟ ‘‘ فائزہ نے منہ بنایا ۔ ’’ رکو میں دیکھتا ہوں ۔ ‘‘ ابو نے گاڑی سے نیچے اترتے ہوئے کہا ۔ ابو نے گاڑی کو اچھی طرح جب چیک کیا تو دیکھا کہ گاڑی کے دو ٹائر پنکچر ہو چکے ہیں ۔ قریب ہی ایک مکینک کی دکان تھی ۔ تو ابو گاڑی کو وہاں لے گئے ۔ ’’ اتنی دیر ہوگئی ہے ابھی تک گاڑی ٹھیک نہیں ہوئی کیا ؟ْ؟؟ ‘‘ فائزہ نے تنگ آکر کہا کیونکہ یہ لوگ ایک گھنٹے سے گاڑی سے کچھ دور ایک بنچ پہ بیٹھے ہوئے گاڑی کے ٹھیک ہونے کا انتظار کر رہے تھے ۔ آخر اللہ اللہ کر کے گاڑی ٹھیک ہوئی تو ابو شادی ہال کے بجائے ہوٹل کی جانب روانہ ہو گئے ۔ امی کے پوچھنے پر ابو نے بتایا کہ ’’ بہت زیادہ دیر ہوگئی ہے اس وجہ سے ہم واپس جا رہے ہیں ۔ ‘‘ اس پر ان بچوں کو بہت غصہ آیا لیکن ابو کے آگے بولنے کی کسی میں ہمت نہ تھی اس لیے سب خاموش رہے ۔
ٹرن !! ٹرن !! فون کی گھنٹی بج رہی تھی ۔ ’’ اف او !! اس وقت کون فون کر رہا ہے ۔ ‘‘ ابو نیند میں بڑبڑاتے ہوئے اٹھ بیٹھے اور جیسے ہی ٹیلی فون اٹھایا ۔ دوسری طرف سے بات سن کر حیرت زدہ رہ گئے ’’ کیسی حالت ہے اب ؟؟؟ ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں ؟؟ْ؟ ابو نے فکرمند لہجے میں پوچھا ۔ ’’ اچھی حالت نہیں ہے ۔ ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ آپریشن کرنا ہوگا ۔ ‘‘ دوسری طرف سے جواب آیا ۔ ’’ اچھا ٹھرو میں وہیں آتا ہوں ۔ ‘‘ ابو نے جلدی سے کہہ کر فون رکھ دیا ۔ ’’ کس کا فون تھا ؟ ‘‘ امی جو کہ فون کی گھنٹی سے ہی جاگ چکی تھیں ابو کے فون رکھتے ہی پوچھ ڈالا ۔ ’’ میرے دوست کا فون تھا جسکے بیٹے کی کل شادی تھی ، کہہ رہا تھا کہ کھانے میں کچھ خراب اجزا شامل ہوگئے تھے جسکی وجہ سے اسکے بھائی کے بچوں کو فوڈ پوائسنینگ ہوگئ ہے ۔ بہت ہی بری حالت میں ہیں وہ ۔‘‘ ابو نے امی کو وضاحت دی ۔ ’’ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟؟؟ ‘‘ بھیا بھی اسی وقت جاگ گئے تھے اور یہ بات سننے کے بعد انھوں نے بہت حیران کن لہجے میں پوچھا ۔ ’’ اوہ ، تو پھر تو ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالی نے ہی ہمیں شادی میں جانے سے روکا تھا اور اس مصیبت کو ہم سے دور کیا تھا ۔ ‘‘ امی نے سب بچوں کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔ پھر امی ابو ہسپتال چلے گئے ۔ ان لوگوں نے لاہور میں رک کر بہت مزے کیے اور چھٹیاں ختم ہونے سے ایک دو دن پہلے وہ لوگ اپنے شہر لوٹ آئے ۔
یہ واقعہ انکی زندگی کا یادگار واقعہ تھا کیونکہ اس سے انہوں نے یہ سیکھ لیا تھا کہ اللہ تعالی کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اور ہمیں ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں