اور راستہ مل گیا – بنت بلال




اس دن جب میری آنکھ کھلی توفضا فجر کی اذان سے گونج رہی تھی اور ماحول بے حد پر سکون تھا ۔ میں پہلی مرتبہ فجر کے وقت اٹھا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں اس فجر کی اذان کے سحر میں ڈوب گیا ۔ مجھے اپنی دادی جان یاد آگئیں جو وقت فجر کا منظر ایسے بتاتی تھیں کہ ہم سب اس میں کھو جاتے۔ میں اذان کے الفاظ پر غور کرنے لگا۔۔۔
مجھے ان الفاظ کا مطلب سمجھنے میں کوئی خاص دشواری نہیں ہورہی تھی۔ حی علی الصلوۃ کی پکار پر مجھے یاد آنے لگا کہ کس طرح دادی جان نے ہم تینوں کزنز کو نماز کا طریقہ سکھایا تھا۔ لیکن ایسا نہیں تھا کہ ہم نے اسے ترک کر دیا ہو۔ ہم سب باقاعدگی سے پانچوں ۔۔۔۔ نہیں بلکہ چاروں وقت کی نماز پڑھتے ہیں۔ البتہ فجر کی نماز ہمیشہ رہ جاتی ہے۔ کبھی قضا ادا کر لیتے ہیں لیکن کبھی تو قضا بھی نہیں پڑھ پاتے۔ لیکن شاید کچھ اور بھی سکھایا تھا دادی جان نے ہمیں ۔۔۔ میں اپنے ذہن پر زور دے رہا تھا کہ اچانک امی جان کی آواز سماعت سے ٹکڑائی ۔عبداللہ، میری جان جلدی سے اٹھ جاؤ! تیار ہونا ہے۔۔۔ شاباش۔ انہوں نے پیار بھرے اندازمیں کہا اور کمبل تہہ کرنے لگیں۔ میں ان کی بات ٹھیک سے سن نہیں سکا یا پھر یوں کہنا چاہیئے کہ مجھے دادی جان بہت شدت سے یاد آنے لگی تھیں اور ساتھ ہی یہ احساس بھی مجھے ستانے لگا کہ ہم سب اتنے عرصے تک فجر کے اس پرکشش اور خاموش ماحول سے محروم رہے۔
خیر۔۔۔ سوچوں کا تسلسل اس وقت ٹوٹا جب امی جان نے یہ خبر دی کہ تمہارے بابا پھوپھی کو پک کرنے ایئرپورٹ جا چکے ہیں اور اب سے کچھ دیر بعد پھوپھی اور ان کے بچے ہمارے گھر میں ہوں گے ۔ امی کا یہ خبر سنانے کا انداز ایسا تھا کوئ ایئرہاسٹس جہاز اڑنے سے قبل حفاظتی بیلٹ باندھنے کا کہتی ہے۔ معلوم نہیں یہ امی کے انداز گفتگو کا اثر تھا یا اس خبر کی اہمیت کا ۔۔۔ کہ میں جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور امی جان کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ چھا گئ جیسے وہ اپنے کسی مشن میں کامیاب ہو گئ ہوں۔ خیر۔۔۔ میرا دل تو اس وقت پھوپھی لوگوں کی آمد پر باغ باغ ہورہا تھا۔ اور دماغ ۔۔۔ دماغ میں اس کے علاوہ کوئ مشن نہیں تھا کہ مجھے تیار ہونا ہے ۔۔۔ بلکہ نہیں! ایک اور کام بھی تھا ۔۔۔ سب کاموں سے اہم کام ۔۔۔ یعنی نماز فجر کی ادائیگی ۔ میں فوراً وضو کرنے چلا گیا۔ جب باہر نکلا تو امی جان موبائل پر کچھ لکھ رہی تھیں۔ میں خاموشی سے جائےنماز لینے کے لیے ریک کی جانب بڑھ گیا، لیکن مجھے معلوم ہے کہ امی جان موبائل کی سکرین پر نظریں جمائے ہوئے بھی کن اکھیوں سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔ میں چپ چاپ جائےنماز لے کر اسٹڈی روم میں چلا گیا تاکہ تنہائ میں سکون سے اپنے رب سے باتیں کر سکوں۔
نماز کے دوران میری تائی کی بیٹیاں جو ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں، شرارتیں کرنے لگیں۔ نماز ختم کرنے کے بعد میں سوچنے لگا کہ جب بھی کوئی نیک کام کرنے لگتے ہیں تو لوگ ہمیں کیوں تنگ کرتے ہیں حالانکہ ہما بھی میری طرح بارہ سال کی ہے، اور وہ بھی یقیناً میری طرح آج پہلی بار فجر کی اذان کی آواز سن رہی تھی پھر کیا اس نے محسوس نہیں کیا ہو گا کہ اللہ ہمیں بلا رہا ہے فلاح کی طرف۔۔۔ نماز کی طرف۔ میں دعا مانگنے کے بعد سوچوں میں گم تھا کہ اچانک شورشرابے کی آواز آئی۔ یقیناً پھوپھی لوگ آچکے تھے……. جب میں سٹڈی روم سےباہرنکلا تو گھر میں شور ہی شور تھا۔ اور شور کیوں نہ ہوتا؟ آخر گھر کے مکینوں کی تعداد دگنی ہو چکی تھی۔ یعنی کل رات تک اس گھر میں سات افراد رہتے تھے اور اب پھوپھی اور ان کے چھ بچوں کی آمد کے بعد ہم چودہ افراد ہو گئے تھے۔ بہرحال، وہ سارا دن کھیل تماشوں، موج مستیوں اور تھکاوٹ سے بھر پور تھا۔ رات کو جب سونے کے لئے لیٹا تو احساس ہوا کہ آج کا دن بے حد پر سکون گزرا۔ بہت سوچنے پر یاد آیا کہ آج فجر کی نماز ادا کی تھی جبکہ باقی نمازیں تو ہم روز ہی پڑھتے تھے لیکن شاید یہ نماز فجر کی ہی برکت تھی۔ لہذا یہ خیال ذہن میں آتے ہی برابر میں رکھی ٹیبل کلاک میں الارم لگایا اور سو گیا۔
رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے اگلے دن الارم کا پتا نہ چلا اور میری آنکھ فرح آپی کے جھنجھوڑنے پر کھلی تو امی پھوپھی سے کہہ رہی تھیں باجی آپ کے بچوں کی تو عادت صبح سویرے جاگنے کی ہے مگر عبداللہ کل سارا دن کا تھکا ہارا رات دیر سے سویا ہے۔ ابھی اٹھائیں گے تو اسے تکلیف ہو گی۔ امی بہت دھیمی آواز میں پھوپھی سے محو گفتگو تھیں۔ میں جیسے ہی اٹھ کر بیٹھا تو پھوپھی میری جانب دیکھ کر بولیں لو بھئ اٹھ گئے تمہارے صاجزادے۔ ان کی نظروں کے تعاقب میں امی جان بھی میری طرف متوجہ ہو گئیں۔ کیا ہوا عبداللہ سب ٹھیک ہے نا ؟؟ میرے چہرے پر پریشانی دیکھ کر پھوپھی نے استفسار کیا۔ میں نے الارم لگایا تھا۔۔۔ فجر کی اذان سننی تھی مجھےکیونکہ کل مجھے کل فجر کی اذان سن کر بہت طمانیت محسوس ہوئی تھی۔ میں شاید بہت افسردہ تھا۔ اوہ ہو! تو تہیں بھی اپنی دادی جان کی طرح فجر کی اذان سننے کا شوق ہے۔ چلو ٹھیک ہے، میں کلتمہیں خد جگاوں گی انشاءاللہ ۔اب جلدی سے نماز پڑھنے جاو، شاباش۔ میں فوراً سے اٹھ کر وضو کرنے چلا گیا۔ فراز بھائی، یاسر بھائی، تایا جان اور ابو جان کے ساتھ نماز ادا کرنے مسجد گیا۔ میں نے نماز فجر کے وقت مسجد کا جیسا تصور کیا تھا، وہاں ویسا کچھ بھی نہیں تھا۔ واپسی پر میں شدید مایوس تھا۔
گھر پہنچنے پر ایک نہایت منفرد اور دلچسپ منظر میرا استقبال کر رہا تھا۔ پھوپھی جان سامنے زمین پر براجمان تھیں جبکہ تمام لڑکیوں، امی جان اور تائی جان کی میری جانب پیٹھ تھی۔ اس سے پہلے کہ میں یا کوئی اور سلام کرتا، ہدا کی خوبصورت آواز میں پڑ ھی جانے والی آیت مجھے اپنے کانوں سے ٹکڑاتی محسوس ہوئی……..نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے ( بنی اسرائیل: ۷۸) ہدا یہ آیت پڑھ کر خاموش ہو گئی۔ اور اس کے خاموش ہوتے ہی جیسے ساری دنیا کو چپ لگ گئی تھی …….. افق سے نکلتے ہوئے سورج کی روشنی دھیرے دھیرے سارے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ ایسےمیں ہمارے گھر کے لاؤنج میں چودہ نفوس کی موجودگی کے باوجود پرنور سی خاموشیتھی۔ ابو جان کے قدم جو مسجد سے گھرپہنچتے ہی کمرے کی جانب بڑھ رہے تھے، یہ آیت سنتے ہی ایک دم ٹھہر گئے۔ تایا جان پانی نکالنے کے لیئے فریج کھولنے کے بعد اسے بند کرنا ہی بھول گئے۔ اور میں۔۔۔ میں تو کسی اور دنیا میں پہنچ چکا تھا۔ اس خاموشی کو پھوپھی کے اس جملے نے توڑا کہ کیا تم اس کتاب کے ایک حصے پر عمل کرتے ہو اور دوسرے کا انکار کرتے ہو؟ پھوپھی کا انداز بے حد متاثرکن تھا لیکن یہ الفاظ ۔۔۔ جو پھوپھی نے بولے تھے۔۔۔
شاید میں پہلے بھی کہیں سن چکا تھا۔ اور اس خیال کی تصدیق اس وقت ہویٔ جب پھوپھی نے بتایا کہ یہ ان کے نہیں بلکہ اللہ کے الفاظ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جس شخص نے دین پر دنیا کو فوقیت دی، نیند کو، مال واسباب اور اولاد وغیرہ کو اہمیت دی تو اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے۔ پھوپھی جان نے سانس لینے کے لئے وقفہ کیا تو تایا جان نے فریج کا دروازہ بند کر دیا۔ باقی سب لوگوں پر سے بھی سکتہ ختم ہو گیا۔ پھوپھی جان نے بات جاری رکھتے ہوۓ کہا کیا ایسا نہیں لگتا کہ یہ آیت ہمارے لئے اتری ہے۔ ہم جیسے لوگوں کے لئے، جو آیت کے ایک حصے پر عمل کر کے خود کو بہت اعلی مسلمان سمجھتے ہیں جبکہ حقیقتاً ہم فجر کی برکت اور نور سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ پانچوں نمازیں وہ گلدستہ ہیں جن کے پھول کی اپنی خوشبو ہے مگر فجر کی نماز کا مقام بلندتر ہے۔ اس بابرکت وقت میں بیدار مغز ہی بیدار ہو سکتا ہے۔ اب یہ ہمیں سوچنا ہے کہ کیا ہم بیدار مغز ہیں؟ کیا ہم اپنی زندگی مین کشائش رزق اور آسودگی کی طلب رکھتے ہیں؟ درحقیقت فجر کے وقت ہی ہم عبادت کا اصل لطف لے سکتے ہیں۔ شاید یہ دادی جان جیسی باعمل مومنہ کی بیٹی ہونے اور کئ سال تک قرآن پڑھانے کا اثر تھا کہ پھوپھی جان اپنے دلفریب اور جاذب انداز بیاں کے ذریعے ہمیں قائل کر گئیں۔
آج اس واقعے کو پندھرہ سال بیت چکے ہیں لیکن اس دن سے لے کر آج تک کبھی میری کوئی نماز قضاء نہیں ہوئی ۔ فجر تا عشاء تمام نمازیں ابو جان، میں اور میرا بیٹا مسجد میں ادا کرتے ہیں۔ مسجد سے واپسی پر ورزش کرتے ہوۓ گھر لوٹتے ہیں۔ گھر میں سب مل کر قرآْن پاک پڑھتے ہیں اور پھر مزے سے ناشتہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد میں اور ابو جان دفتر چلے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میری زندگی میں اس قدر خوشیاں، اطمینان اور نور صرف نماز فجر کی برکت سے ہیں۔

7 تبصرے “اور راستہ مل گیا – بنت بلال

  1. ماشاءاللہ بہت خوب انداز بیان پایا ہے آپ نے۔۔۔ عام فہم الفاظ میں بہت اہم بات بیان کردی۔۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔۔۔ اللہ آپ کی صلاحیت اور علم میں برکت عطا فرمائے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں