میں پھر تیار ہوں – ایمن سلیم




میں زور زور سے رو رہی تھی ،بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ چیخیں مار مار کر رو رہی تھی مگر مجھے لگتا تھا کہ کوئی ایسا نہیں جو میری آواز سنے ،
کوئی ایسا نہیں جس تک میری چیخیں پہنچ رہی ہوں ، آخر میں نے ایک فیصلہ کیا ،اور اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور ایک عزم کے ساتھ میں اٹھ کھڑی ہوئی ،” میں اپنی آواز،اپنا دکھ سب تک پہنچاؤں گی” ….. میں سب سے پہلے انسان کے پاس گئی کیونکہ مجھے تباہ وبرباد کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ انسان کا ہی تھا مگر اتنی بے رخی ،ایسا بےگانہ رویہ ۔۔۔۔۔ مجھے تو امید بھی نہیں تھی ، میں جو اس کو کتنی آفات سے بچائے ہوئے تھی میرے ساتھ انسان ایسا کرے گا میں سوچ بھی نہیں سکتے تھی . پھر میں نے سورج کے پاس جانے کی ٹھانی ،اس کی تیز شعاعوں سے میں مزید جھلسنے لگی تھی اس کے قریب کیسے جاتی ؟ کیسے ممکن تھا کہ میں اس کو اپنی بات سمجھاتی ،میں ناکام ونامراد پھر انسان کی دنیا کی طرف چلدی اس کو اپنے زخم دکھائے ،میری جلد جگہ جگہ سے پھٹ گئی تھی اور اس میں نقصان انسان کی دنیا کا ہی تھا مگر وہ نہیں سمجھا آخر میں نے اللّہ تعالیٰ سے فریاد کی ،سب سے پہلے مجھے اللّہ کے پاس ہی جانا چاہیے تھا میں نے غلطی کی تھی ،میں پتہ نہیں کیوں بھٹک گئی،
اب میں نے پہلے اللّہ تعالیٰ سے رو رو کر گڑ گڑا کر معافی مانگی اور پھر اس کو اپنے زخم دکھائے اور وہ ۔۔۔۔وہ اللّہ تعالیٰ واقعی بہت رحیم اور کریم ہے اس نے انسان کو بتا دیا کہ اس کے ہاتھ میں ہے سب ۔اس نے وہ فیکٹریاں بند کروا دیں جن کا دھواں مجھے نقصان دے رہا تھا ،پھر ڈیزل اور پیٹرول کے خطرناک دھوئیں اور بدبو سے مجھے نجات دلائ ساری کیمکل والی کثافتوں کو بند کرادیا اور میں خوش ہوگئ ،میرے زخم بھرنے لگے ہیں ،میں بہت چین اور سکون میں ہوں انسان اس کو لاک ڈاؤن کہتا ہے ،مگر میرے لئے تو یہ اللّہ کی رحمت ہے اس اللّہ کی رحمت جس نے بہت پیار سے مجھے اور اس دنیا کو بنایا ۔
او ہو آپ سب مجھے پہچانے نہیں؟؟؟
میں اوزون ہوں جس میں اتنا بڑا سوراخ ہوگیا تھا مگراب اللّہ تعالیٰ کا شکر ہے بس وہ بند ہونے ہی والا ہے ۔ لیکن پلیز اب دوبارہ اس فضا کو گندا نہیں کریے گا ورنہ میں دوبارہ زخمی ہو جاؤں گی

اپنا تبصرہ بھیجیں