انسان کسی حال میں خوش نہیں ! – ماہین خان




اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو بڑے پیار سے تخلیق کیا۔ اس کو سب فرشتوں سے سجدہ کروایا اور علم دے کر تمام مخلوقات پر فوقیت بھی دی۔ پھر اللہ کی محبت یہیں پر بس نہیں ہوئی۔۔۔۔۔ انسان کو اپنی غلطی پر شرمساری سکھائی اور جنت سے ناکلنے پر اس کے لیے دنیا کا سامان پیدا کیا ۔
اللہ نے انسان کی محبت میں اس کی ہر آسائش کا خیال رکھا اور اس کو محفوظ ٹھکانا عطا کیا ۔۔۔۔۔۔ اس کے لیے سورج ،چاند ،ستارے پیدا کیے۔ جانور پیدا کیے پانی کا انتظام کیا ۔ سبزہ اگایا۔ انسان کو مزید کھوج لگانے کے لیے کہکشائیں مرتب کیں ۔ یہ سب اس رب کائنات کا کرم تھا کہ انسان کو زمین پر اتارنے سے پہلے پہلے اس کے لیے سارے انتظامات کئے جاچکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسی کہکشاوں کی گرماہٹ اور اپنی زمین یعنی جس پر اس کو چلنا تھا ، کے سورج کی تپش سے بچنے کے لیے ایک ہوائی تہہ ترتیب دی جو دنیا کے گرد ایسے لپیٹ دی گئی جیسے ہم کرکٹ کی گیند کی حفاظت کے لیے اس پر ٹیپ باند دیتے ہیں ۔۔۔۔۔
آئیے اب ہم اس کو سائنسی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں ۔ اس تہہ کو اوزون لئیر کہتے ہیں جو ہماری زمین کے گرد پندرہ سے تیس کلو میٹر اوپر ایک اکسیجن کی لئیر ہے ۔۔۔۔۔۔ جس کی بدولت خلا سے آنے والی خطرناک گیسیں اور مواد اور ریز اس لئیر کے خاص آکسیجن مولیکیول (ozone ) کی بدولت دنیا میں داخل نہیں ہو پاتیں ۔۔۔۔ بلاشبہ سورج ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہے لیکن ہر چیز کے منفی و مثبت دونوں پہلو ہوتے ہیں ۔۔۔اسی طرح سورج بھی ہے۔ سائنسی اعتبار سے سورج ہمارے سب سے زیادہ قریب ترین ستارہ ہے جس کی گرمائش اتنی زیادہ ہے کہ اس پر منٹوں منٹوں کی بنیاد پر ہائیڈروجن ایکسپلوژنز ہوتے ہیں جو اسی اوزون لئیر کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اس سے حاصل ہونے واکی روشنی بہت فائدہ مند ہوتی ہے لیکن اس کچھ اجزاء یعنی کہ الٹراوایلیٹ ریز وغیرہ زمین پر اگنے والے اناج کے لیے اور خود انسان کے لیے نقصان دہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ سو یہ اوزون لئیر ان سب تباہ کاریوں سے ایک محفوظ حصار ہے ورنہ یہ دنیا آج تک ایک آگ کا گولا بن چکی ہوتی ۔
ابتدا میں انسان اس تہہ کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا ۔ لیکن جب انساننے ترقی کی اور شیر کے ساتھ جنگل میں رہنے والا انسان ” ویل مینیجڈ ” ہوتا گیا ۔ اپنے آپ کو مزید آسائشوں کی طرف لے جاتے ہوئے حب الٰہی کے اس مظہر اوزون لئیر کو بر باد کرتا گیا ۔۔۔۔۔۔ فیکٹریوں سے نکلنے والے زہریلے مادے اور دھواں سب کچھ آلودگی پھیلاتے ہوئے اس کو تباہ کرنے لگے ۔۔۔۔۔۔ اس وقت صرف انسانی نظر میں ایک معمولی سا سوراغ تھا ۔1987 میں جب پہلی بار اس بات کا انکشاف ہوا تو دنیا میں ایک مرجانے والا شور مچ گیا لیکن انسان اسی ڈھٹائی کے ساتھ دنیا کرہ ارض پر غلاظت پھیلاتا رہا ۔۔۔۔۔۔ انسان کچھ جدت پسند واقع ہوا ہے ۔۔۔۔ بس اس کی اسی جدت پسندی مے اس سوراغ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا جس سے انسان بہت سے موسمی تبدیلیوں کا شکار ہوا ۔۔۔۔ اسی کے ساتھ یہ اپنی غذایت بھی بھول گیا جوچکہ ۔۔۔ گھر میں چولہے پر پکی ہانڈی سے منتقل ہو کر فیکٹریوں کی چمنیوں تک پہنچ گیا ۔۔۔۔۔۔ ایسے میں اللہ کی محبت اس پھر جوش میں آئی اور اللہ رب العزت نے ایک چھٹا سا جرثومہ انسانوں کے ہاتھوں ہی تیار کروا کے ان سب کو گھروں میں بیٹھا دیا ۔۔۔۔ جس سے آلودگی میں واضح کمی دیکھی گئی ۔۔۔۔۔
دیکھا جائے تو اپنا شہر کراچی دنیا کے آلودگی میں ساتویں نمبر پر تھا اور آج یہ اکوسیوں نمبر کے قریب پہنچ گیا ۔۔۔۔۔ اگر کچھ عرصے تک یہی حال رہا تو بعید نہیں کہ یہ اوزون لئیر پھر سے صحتیاب ہو جائے۔۔۔۔۔۔ ایک بات ہے کہ جب بھی کوئی اپنی فطرت کے خلاف جاتا ہے تو اس کو ہمیشہ نقصان اٹھا نا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔ بس اب ہم نے یہ کوشش کرنی ہے کہ ہم اپنی اس فطرت سے بغاوت سے ہاتھ روک لیں ۔۔۔۔ تس یہ دنیا اور اس کے باسی پھر سے گلزار ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔ انشا اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں