اور محلہ صاف ہو گیا! – سید عکاشہ بلال




آج تو گھر میں بے حد پر مسرت ماحول تھا کیونکہ معوذ نے پورےاسکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی …..
جبکہ ابیحہ کے بھی تمام مضامین میں اعلی نمبر آۓ تھے اور اس کے ساتھ ساتھ چھٹیاں بھی شروع ہو چکی تھیں۔ آج اسی خوشی میں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کا کھانا کھانے باہر جا رہے تھے، جاتے وقت ابو نے بتایا کہ کل تمھارے چاچو آ رہے ہیں،اب تو بچوں کی خوشی اور بھی بڑھ گئی …….. کیونکہ ہر سال جب بھی چاچو آتے تو ڈھیر سارے تحائف ساتھ لاتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ دبئ کی مزیدار چاکلیٹ بھی کھانے کو ملتی تھی۔ انہوں نے خوب ہلہ گلہ کیا، وہ کھانا کھانے کے بعد گاڑی کے پاس آ کر رکے ہی تھے ، کہ بہت تیز، گرج ،چمک کے ساتھ بارش شروع ہو گئی ،وہ لوگ بمشکل اپنے گھر پہنچے۔ بارش رات ۱۱ بجے سے صبح ۵ بجے تک جاری رہی۔ صبح اٹھ کر انہوں نے گھر صاف کیا۔ اب سب لوگ چاچو کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔
ابو ، چاچو کو لینے کے لیئے روانہ ہو گئے تھے، جب ابو چاچو کو لے کر گھر آئے تو دونوں کے کپڑے کیچڑ سے گندے ہو رہے تھے ، چاچو نے پہلے غسل کیا اور پھر معوذ اور ابیحہ کو تحائف پیش کیے۔ شام کے وقت محلے سے بلال انکل، کامران بھای، اسحاق صاحب اور عمر بھائ چاچو سے ملنے آئے۔ سب نے چاچو کو خوش آمدید کہا…… چاچو نے بھی دبئ کی کچھ خاص سوغات ان لوگوں کو دیں، بات کرتے ہوئے ، حال میں ہونے والی بارش اور اس کے سبب ہونے والا کیچڑ موضوع گفتگو بن گیا۔ عمر بھائ نے کہا ’بارش کا ہونا ہمارے لئے ایک مسئلہ بن جاتا ہے‘۔ ابو نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور بولے ’ ہاں بھئ ! بارش تو واقعی ہمارے لئے ایک عذاب ہے‘۔ اسحاق صاحب اور بلال انکل نے بھی ان کی حمایت کی اور بولے ٍہاں بھئ یہ حکمران تو کچھ کرتے ہی نہیں ہیں، سارا مال کھا جاتے ہیں ‘۔ چاچو نے سب کی بات کو تحمل سے سنا اور پھر کہنے لگے’ ارے ، بے شک یہ حکمرانوں کی ذمہ داری اور نا اہلی ہے لیکن کچھ فرض عوام کا بھی تو بنتا ہے نا
اگر لوگ اپنا کچرا گلی میں ڈالنے کے بجائے کوڑے دان میں ڈالیں اور گٹر کی نالیوں میں موٹے موٹے کچرے اور پلاسٹک بیگ نہ پھینکیں اور آپس میں مل کر اپنے محلے کے کچرے اور پانی کی نکاسی کو درست طریقے سے ٹھکانے لگانے کا بندوبست کریں تو آلودگی میں کافی حد تک کمی آجائے گی اور علاقہ صاف ستھرا رہے گا ‘ ،چاچو کی بات سب کو سمجھ آچکی تھی اور سب نے اس نقطہ سے اتفاق کیا تھا ۔ اگلے دن معوذ ، ابیحہ اور ان کے دو دوستوں طحہ اور حنانہ نے بڑوں کی مدد سے محلے والوں سے پیسے جمع کے اور پھر بلال انکل اور ابو کی نگرانی میں مزدوروں کو بلا کر سڑکوں کے دونوں اطراف نالیاں بنوائی گئیں ۔
سب محلے والوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ آخر میں چاچو نے ہر جگہ پودے لگوائے اور کچرےدان رکھوائے اور سب کو ہدایت کی کہ کچرا ہمیشہ کوڑے دان میں ڈالیں اور اپنے علاقہ کو صاف ستھرا رکھیں۔ اب سے معوذ اور ابیحہ کا محلہ صاف ستھرا رہتا ہے۔ ۔ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں