اور حل مل گیا – سید عکاشہ بلال




طویل چھٹیوں نے گھر میں ایک شور وغل برپا کر رکھا تھا……. ہم سب کزنز دادی جان سے کہانی سننے کے لے بے طاب و بے چین تھے
جبکہ دادی جان ہم سب کے لے بیسن کے لڈو تیار کرنے میں مصروف تھیں۔ دراصل قرنطینہ میں دادی جان روز رات کو ہم سب کزنز کو سونے سے پہلے کہانی سناتی تھیں۔ لہذا عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر تایا زاد ، چاچو زاد اور ہم دونوں بھائی دادی جان کے کمرے میں جمع ہو گئے تھے۔ ’’خاموش!‘‘ دادی جان کے خاموش کہنے پر ہم سب کو چپ لگ گئی۔ دادی جان نے جیسے ہی لڈو کی پلیٹ میز پر رکھی تو معوذ اس کی جانب لپکا تاکہ سب سے بڑا لڈو ہاتھ آجائے، لیکن فوراً ہی میں بول پڑا کہ ’’دادی جان دیکھئیے معوذ ہاتھ دھوئے بغیر لڈو کھا رہا ہے‘‘۔ سب کی نظریں میری نظروں کے تعاقب میں اٹھیں۔ ’’ارے دادی کی جان! میں نے بتایا تھا ناں کہ آج کل ایک وائرس آیا ہوا ہے لہذا سب بار بار ہاتھ دھوئیں اور کھانے سے قبل تو خصوصاً ہاتھ دھونے چاہئیں‘‘۔ معوذ لڈو چھوڑ کر واپس اپنی جگہ پر آیا اور انداذ میں پوچھنے لگا ’’دادی جان یہ وائرس کیا ہوتا ہے؟ ‘‘
دادی جان نے مسکرا کر جواب دیا ’’بیٹا وائرس ایک جراثیم ہوتا ہے جو گندگی اور آلودگی کی وجہ سے آتا ہے‘‘۔ میں نے بھی دادی جان سے پوچھا کہ ’’دادی جان یہ کرونا وائرس کیا ہے؟‘‘ دادی جان نے بتایا کہ ’’کرونا ایک جراثیم ہے جو دنیا میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، یہ چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے آیا تھا اور اب پوری دنیا میں تباہی مچا رہا ہے، اب تک لاکھوں لوگ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ وارس ایک بندے سے دوسرے میں بہت تیزی سے منتقل ہو تا ہے۔‘‘ اطیب نے مزید کہا کہ اس کی وجہ سے تعلیمی ادارے اور دکانیں بھی بند ہو گئں ہیں۔ شفا اطیب کی حمایت کرتے ہوے بولی’’ہاں، بھائی جان کا کالج اور بابا کا دفتر بھی آج کل بند ہے‘‘ معوذ نے پھر ایک معصومانہ سوال داغا کہ ’’دادی جان کیا اب ہم دوبارہ کبھی اسکول نہیں جائیں گے؟ ‘‘دادی نے بڑے پیار سے جواب دیا کہ ’’ نہیں بیٹا! کرونا تو ہمارے لئے اللہ کی طرف سے ایک وقتی آزمائش ہے۔ ہمارے گناہوں کی سزا اور استغفار کا موقع۔۔۔‘‘ ’’دادی جان ! اللہ تعالی تو ہم سے بہت پیار کرتے ہیں ، پھر انھوں نے اتنی بڑی آزمائش کیوں دی ہمیں؟ ‘‘ اروی نے سوال کیا۔
’’بچوں!! دراصل ہم لوگ اللہ کو بھول گئے ہیں، ہم نے نمازیں پڑھنیں چھوڑ دی ہیں، ہم قران کریم کی تعلیمات کو بھلا چکے ہیں۔‘‘ طحہ نے سوال کیا ’’دادی جان ! ہم تو اب مشکل میں ہیں ، اب ہم کیا کریں گے۔ ۔ ۔ اللہ نہ کرے اگر ہمیں کچھ ہو گیا تو؟؟ ‘‘ . ’’بیٹا اس سے بچنے کی کچھ تدابیر ہیں ، اس دن آپ کے چاچو نے بھی بتایا تھا ناں؟؟ ‘‘ میں نے دادی کی ہاں میں ہاں ملائی اور بولا ’’اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے ہم ہر تھوڑی دیر میں صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں اور رش والی جگہ پر نہ جائیں (مثلا بازار وغیرہ) طحہ نے کہا کہ ’اسکے علاوہ ہمیں ماسک پہننا چاہئیے کیونکہ یہ وائرس ناک کے ذریعہ سے اندر جاتا ہے اور ساتھ ساتھ جب پیسوں کا تبادلہ کریں تو اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔‘‘ حنانہ بھی بات کو بڑھاتے ہوئے بولی ’’جی! امی نے بتایا تھا کہ آج کل ہمیں ہاتھ ملانے سے گریز کرنا چاہئے بلکہ دور سے ہی سلام کرنا چاہئے‘‘. ’’ بیٹا آپ لوگوں کو تو بہت مفید باتیں معلوم ہیں ماشاءاللہ‘‘ دادی جان تعریف کرتے ہوئے بولیں ۔ حنانہ پھر سے بولی ’’دادی، امی نے بتایا تھا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے‘‘ …… ’’اللہ کا عذاب نہیں پیاری گڑیا !!! اللہ کے عذاب کی ایک جھلک ہے یہ !! اور وہ اس لئے تاکہ ہم توبہ و استغفار کریں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور نماز قائم کریں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم احتیاطی تدابیر کریں اور پھر اللہ پر بھروسہ کریں۔ بے شک اللہ تعالی اپنے بندوں کی مدد کرتے ہیں اور ہماری بھی کریں گے (آمین)۔‘‘
’’دادی جان ہم انشاء اللہ کل سے ساتھ بیٹھ کر قران پاک بھی پڑھیں گے اور آخر میں دعا اور استغفار کر کے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش بھی کریں گے! ‘‘ سب نے مل کر انشاءاللہ کہا۔ پھر سب نے مل کر لڈو کھائے اور پھر صحابہ کرام کی کہانی سن کر سو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں