مسجد اقصیٰ روتی ہے – قرة العين




اسریِٰ عظیم کے زمینی حصے کا آخری پڑاؤ…….. سوا لاکھ انبیاء کی حبیب کبریا کی امامت میں بیک وقت سجدہ ریزی کی گواہ اور انکی قدم بوسی کا شرف حاصل کرنے والی سر زمین اقصیٰ …….. وہ واحد مقام ہے جس نے زمانے کے ان گنت اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کیا ۔
بیت المقدس سے موسوم یہ علاقہ ، دنیا کا قدیم ترین شہر مانا جاتا ہے اور آسمانی مذاہب کی ماننے والی تینوں اقوام مسلمان، یہودی اور عیسائی اس کے تقدس کے قائل ہیں ۔ عیسائیت کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش اور صلیب ، یہودیت کے لئے عبادت کا مرکز (ہیکل سلیمانی ) و قبلہ ، اور امت مسلمہ کے لئے قبلہ اول و تیسرا حرم …….. نیز رسول خدا کے سفرِ معراج کا اہم حصہ ہونے کے ساتھ اور بھی کئی شرف اس مقام کو حاصل ہیں ۔ چنانچہ تاریخ میں یہ تینوں اقوام اس کے حصول کے لئے سرگرداں نظر آتی ہیں ۔ بیت المقدس، القدس اور یروشلم تینوں ناموں سے معروف یہ ایک وسیع علاقہ ہے اور اسکے بڑے احاطے کوزمانہ قدیم سے مسجد اقصیٰ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے. اسی لئے قرآن میں بھی یہی لفظ استعمال ہوا ہے…….. حالانکہ تب یہ رومی عیسائیوں کے قبضے میں تھا۔ یہی وہ مسجد تھی جسے سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروایا تھا ۔
بیت المقدس کئی بار تخت و تاراج ہوا لیکن مدنی ریاست کا حصہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں 636ء میں بنا۔ خلیفہ دوم نے خود اس کی چابیاں وصول کیں اور مقام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر کے اپنے ہاتھوں سے اسکی صفائی کی…….. پھر بلال رضی اللہ عنہ سے اذان کا کہا اور نماز پڑھی ۔ اسی جگہ مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اموی دور میں یہاں عظیم الشان مسجد تعمیر کی گئی اور اس کے ساتھ قحبہ الصخرا بھی بنایا گیا ۔ اس کے نیچے وہ چٹان ہے جہاں سفر معراج میں براق باندھا گیا تھا اور یہود کے نزدیک اسی چٹان پر ابراہیم علیہ السلام نے اپنا بیٹا قربان کیا تھا ۔ شروع میں وسیع حصے کو مسجد اقصی کہا جاتا تھا……. بعد میں صرف عمری مصلی کو کہا جانے لگا ۔ 1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے بعد بیت المقدس عیسائی قبضے میں چلا گیا ……… جسے قریبا ایک صدی کے بعد مرد حر، صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں دوبارہ فتح کر لیا۔عیسائیوں نے قبضے کے بعد مسجد کے اندر اور باہر کلیسے قائم کردیے تھےاور مسجد کوکئی رہائشی کمروں میں تبدیل کر کے اسے معبد سلیمانی کا نام دے دیا تھا۔
سلطان نے صلیبیوں سے 16 جنگیں لڑنے کے بعد اس شہر کو حاصل کیا ، سخت خونریز لڑائیاں ہوئیں کیونکہ ان میں پورے یورپ کے عیسائی اپنے مذہب کے نام پر شامل تھے ، بہرحال فتح کے بعدعیسائی غلاظتوں کو دور کیا گیا اور پھر محراب وممبر کی تعمیر کر کے مسجد کی حرمت بحال کی گئی۔ اس کا محراب سلطان اپنے ساتھ بنوا کر لائے تھے اورہر جنگ میں اپنے ساتھ رکھتے کہ فتح کے بعد نصب کریں گے۔ 1517ء میں بیت المقدس سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنا اور پہلی جنگ عظیم 1917ء تک رہا۔جنگ کے خاتمے پر برطانیہ کے زیر اثر آگیا اور 1948ء تک اسی کے زیر تسلط رہا۔برطانوی سامراج نے اس کا انتظام یہودیوں کے حوالے کیا اس سے پہلے یہودیوں کی اس زمین آبادکاری پر پابندی تھی مگر 1917ء اعلان بالفور کے خفیہ معاہدے میں خاص منصوبہ بندی کے تحت یہاں یہودیوں کی باقاعدہ آباد کاری شروع کر دی گئ ۔ 1917ء میں اس وقت یہاں صرف چھپن ہزار یہودی تھے،1931ء تک یہ تعداد 38 ہزار ہو گئی اور 1947ء تک چار لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
پوری دنیا سے یہودی یہاں لا کر بسائے گئے ……..خصوصا دوسری جنگ عظیم میں نازی مظالم کے دوران بڑی تعداد یہاں آکر آباد ہو گئی۔یہ سب کچھ صیہونی تحریک کی منصوبہ بندی سے عمل پذیر ہوا، صیہون یروشلم (بیت المقدس کو عبرانی میں یروشلم کہتے ہیں ) کی ایک پہاڑی کا نام ہے …….. جو کہ یہودیوں کے لئے خصوصی اہمیت کی حامل ہے، اس سے موسوم یہ تحریک 1897ء میں شروع ہوئی جسکا مقصد ہی فلسطین میں یہودی ریاست کا قیام اور یہودیوں کی بہبود تھا ۔ یہ تنظیم آج بھی مختلف شاخوں کے ساتھ کا م کر رہی ہے۔ 1947ء تک یہود کی اتنی بڑی تعداد کے ساتھ ان کا اختیار بھی یہاں وسیع ہو گیا۔ چنانچہ برطانیہ سرزمین فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے گیا تاکہ اس کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جا ئے۔ لہذا تقسیم فلسطین طے ہوئی جسکے تحت 55 %حصہ یہودیوں کو اور 45% حصہ مسلمانوں کو دیا گیا۔ بیت المقدس کو بین الاقوامی کنڑول میں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ تقسیم غیر منصفانہ تھی جسے مسلمانوں نے قبول نہ کیا مگر پھر بھی یہود نے اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ مزید علاقوں پر قابض ہو گئے ۔
1948ء میں مغربی یروشلم پر قبضے کے ساتھ آزاد اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا……. جسے امریکہ اور برطانیہ نے فورا تسلیم کر لیا ۔ اس قیام کے ساتھ ہی 7 لاکھ فلسطینیوں کو جبر وتشدد کے ذریعے یہاں سے نکال دیا گیا۔ فلسطینی اس دن کو “یوم نکبہ” کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ اس کے بعد عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی ، عربوں کو کامیابی نہ ہوئی نتیجتاًاسرائیل 78% حصے پر قابض ہو گیا. مغربی حصہ اسرائیل جبکہ شرقی حصہ اردن کے قبضے میں رہا ۔ تیسری عرب اسرائیل جنگ 1967ء میں ہوئی اور 7 جون 1967ء کو اسرائیل شرقی حصہ بیت المقدس پر بھی قابض ہو گیا اور آج تک یہ تسلط قائم ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے خلاف بیت المقدس کو اپنا دارلحکومت قرار دیا …. جسے کسی ملک نے قبول نہ کیا اور تل ابیب میں ہی تمام سفارت خانے کھولے گئے کیونکہ سب اس قبضے کو ناجائز ہی گردانتے ہیں لیکن مئی 2018ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے مفادات کے پیش نظر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ یہاں منتقل کر دیا۔
درحقیقت یہودی مسجد اقصی کو منہدم کر کے ہیکل سلیمانی کو ایک مرتبہ پھر تعمیر کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کے نزدیک ہیکل کا اصل مقام دیوارِگریہ اور اس سے ملحقہ احاطہ ہے……. بلکہ وہ اس دیوار کو اسی کی باقیات سمجھتے ہیں . حالانکہ یہ مسلمانوں کی تعمیر کردہ مسجد کی دیوار ہے۔ واضح رہے کہ مسجد اقصی ایک بڑے احاطے کو کہا جاتا تھا جس میں مسجد اقصیٰ ، قحبۃ الصخرہ اورپورا حرم قدسی شامل تھا ……..تاہم اب یہ نام حرم کے بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں موجود بڑی مسجد کے لئے ہی خاص ہے۔ قحبۃ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے جو عموماً تصویروں میں دکھایا جاتا ہے اور لوگ اسی کو مسجد اقصیٰ سمجھ لیتے ہیں ۔ قابض یہودی اپنی کارستانیوں سے باز نہیں آتے اور مستقل اس مسجد کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنا ہیکل تعمیر کر سکیں مگر نہتے فلسطینی اپنی جان ہتھیلی پر لئے ان کی راہ کا سنگ گراں بنے ہوئے ہیں ۔21 اگست 1969ء میں ایک یہودی سیاح ڈینس مائیکل نے مسجد میں آگ لگا دی جو قریبا 4 گھنٹے بھڑکتی رہی اور اس میں سلطان ایوبی کا تاریخی محراب بھی جل کر خاکستر ہو گیا۔
بیت المقدس پر یہودی قبضے کو 53 سال پورے ہوگئے ہیں ، ہنوز مسجد اقصیٰ یہود کے ناجائز تسلط میں ہے۔ آئے دن غاصب یہودی اسکی حرمت پامال کرتے ہیں ، نمازیوں پر مسلح حملے کیے جاتے ہیں ۔ وہ زمین جس نے سوا لاکھ انبیاء کی قدم بوسی کی آج ناپاک یہودی فوجیوں کے بوٹوں تلے روندھی جا رہی ہے۔ مسجد کے درودیوار مغموم کسی ایوبی کے منتظر ہیں مگر مسلم امہ شاید اپنے ذمہ قبلہ اول کی حفاظت کے فرض کو بھلا چکی ہے۔ نہتے فلسطینیوں نے اس غاصبانہ قبضے کے خلاف جو مزاحمت شروع کی ……وہ آج تک جاری ہے۔ پتھر وغلیل سے شروع ہونے والی یہ خونچکاں داستان اسرائیلی مظالم کےلرزا دینے والے احوال سے لبریز ہے۔ اسرائیلی جیلیں ہزاروں معصوم فلسطینی جوانوں ، بوڑھوں، عورتوں اور حتی کہ بچوں سے بھری پڑی ہیں ۔ ہزاروں معصوم جام شہادت نوش کر چکے ہیں لیکن اسرائیل کے آگے بند باندھنے والا کوئی نہیں ۔ شرقی یروشلم ……. جو کہ 1993ء کےاوسلو معاہدے کے تحت بھی متنازعہ علاقہ اور مسلم یہودی دونوں کے کنڑول سے باہر ہے اور بین الاقوامی حیثیت رکھتا ہے.
اسمیں یہودی بستیوں کا قیام جاری ہے، اسرائیل کے عزائم واضح ہیں، یہودی گریٹر اسرائیل کا خواب لئے دن رات سرگرداں ہیں ۔حال ہی میں اس کے وزیراعظم نیتن یاہو نے ان بستیوں کے ساتھ اردن کی وادی اورشمالی بحر مردار کو اسرائیلی ریاست میں شامل کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ امت مسلمہ کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی اشد ضرورت ہے۔7 جون کو یہودی قبضے کے خلاف یوم بیت المقدس منانے کا مقصد فراموش کئے ہوئے فرض کی تذکیر ہے، ہم عہد کریں کہ ہمارے ذمہ اس مٹی کا جو قرض ہے وہ ہم چکائیں گے اور اپنے فلسطینی مجاہدوں کا تا دم مرگ ہر ممکن ساتھ دیں گے۔
اور کچھ نہیں تو اپنی نسلوں کو اس فرض سے آگاہ کر دیں ہو سکتا ہے ان میں کوئی جگر ایوبی لے کر اٹھ کھڑا ہو۔مسجد اقصی ہم تمہیں ہرگز نہیں بھولے مگر ہم بے بس ہیں ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں