اپنوں کو اپنوں سے ملادے یارب! – بنت شیروانی




نفیسہ کو برقی پیغام موصول ہوا ……… اس میں ایک ماہ کے لۓ بنایا گیا خوبصورت رنگوں سے مزین کیلنڈر تھا اور ان رنگوں کے ذریعہ قید انسانوں کو مختلف تاریخوں اور کچھ اوقات کے لۓ رہائی ملنے کی اطلاع دی گئی تھی۰تاریخوں کے آگے بڑھنے سے باہر آنے جانے کے اوقات کار میں بھی اضافہ ہورہا تھا۰
مساجد کے کھلنے کی نوید بھی اس کیلنڈر کے نیچے لکھے جملوں سے ملی تھی تو بند مطعم بھی اب انسانوں کے منتظر ہوں گے اور انھیں خوش آمدید کہیں گے۰یہ بھی معلوم ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی بازاروں کے کھلنے اور ان میں انسانوں کی موجودگی کا بھی بتایا گیا تھا۰
نفیسہ نے جب یہ کیلینڈر دیکھا تو اسے بےحد خوشی ہوئی …… لیکن اس کے ساتھ ہی اسے ڈاکٹر عافیہ کی یاد ستائی ، اسے کشمیری بہن بھائی یاد آۓ ، وہ لا پتہ افراد کے غم میں کھوئی ، اسنے جیلوں میں موجود بے گناہ افراد کی تکلیف کو محسوس کیا ……. اسے اپنے لاک ڈاؤن کے وقت میں گزارے لمحات یاد آۓ کہ نہ جانے کتنی بار اس کی آنکھوں سے چند قطرے نکلے تھے اپنوں کی یاد میں، حالانکہ وہ تو اپنوں سے بات کر لیتی تھی لیکن ان کے وجود کو چھونے کی چاہ نے اسے تڑپایاتھا،اسے اس لاک ڈاؤن میں نہ جانے کتنی بار بے سی بھی محسوس ہوئ تھی۰کہ پرندے آزاد ہیں اور انسان قید ہیں۰اس کا تو لاک ڈاؤن وی آئ پی لاک ڈاؤن تھا کہ جس میں اسے ان گنت نعمتیں میسر تھیں لیکن پھر بھی وہ لمحات اس کے لۓ تکلیف دہ تھے۰
اور اس وقت وہ ان تمام افراد کے درد کو محسوس کرتے ہوۓ رب سے دعا کر بیٹھی کہ یارب ….! تو ڈاکٹرعافیہ سمیت تمام بے گناہ افراد کو رہائی عطا کر، مالک ہر لاپتہ فرد کو اس کے اپنوں سے ملادے،ہر ماں کا کلیجہ ٹھنڈا رکھ …… کہ یہ لاک ڈاؤن اسے کشمیریوں،ڈاکٹر عافیہ اور لاپتہ افراد کے غم کو محسوس کرنا سکھا گیا تھا۰

اپنا تبصرہ بھیجیں