سیدی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں – افشاں نوید




” بھائی ساری رات سید منور حسن صاحب کے ساتھ رہا ہے …… ان کی طبیعت کچھ بہتر ہے۔ ایک طویل فہرست ہے …..ان لوگوں کی جو ان کی تیمارداری کرنا چاہتے ہیں مگر ہر ایک کو موقع کیسے مل سکتا ہے۔ ون بائی ون لوگوں کو موقع دیا جارہا ہے ….. مختلف ااوقات میں تیمارداری کا۔ میرا بھائی بہت خوش نصیب ہے اس کو تیمارداری کی سعادت ملی ہے۔”
ایک ساتھی کچھ دیر قبل مسرت سے بھرپور لہجے میں بتارہی تھیں ۔ میں سوچنے لگی ہم اس سماج کا حصہ ہیں جہاں اگر گھر کا کوئی فرد ہسپتال میں داخل ہو تو پورے خاندان کو فکر اس بات کی لگ جاتی ہے کہ اسپتال کے پھیرے کون لگائے گا۔…؟ اگر سید صاحب کی تیمارداری کی خواہش رکھنے والوں کو قطار بنانے کو کہا جائے تو یقین ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ اسپتال سے قطار کا دوسرا سرا میٹرویل ضلع غربی تک جائےگا۔ دوسری قطار گلشن حدید تک, تیسری اسپتال کے باہر سے شاہراہ قائدین تک اور چوتھی ملیر ائرپورٹ تک ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ یہاں “قیادت” اسٹیج پر بیٹھے ہوئے فرد کو نہیں کہتےجس کی چاپلوسی سے اپنے مفادات حاصل کرنا مقصد ہو۔ یہاں قیادتوں سے “روح” کے رشتے ہوتے ہیں۔ اسی لیے آج بھی مائیں اپنے بچوں کے نام ابوالاعلیٰ رکھتی ہیں ۔ اسی لیے میاں طفیل محمدؒ کی اولادوں کی اولادوں کو بھی قدرومنزلت دی جاتی ہے کہ ایک عظیم ہستی سے ان کی نسبت ہے۔
ہم اپنے محسنوں کا حق ادا کرنے سے عاجز ہیں جنھوں نے ساری زندگی ایک عظیم مشن کے لیے وقف کردی۔ہر طرح کی صعوبتیں جھیل کر کبھی کسی آسائش کی تمنا نہ کی۔ دنیا سے کوئی صلہ نہ چاہا۔ اسی لئے کراچی کے نوجوان کرونا مہم میں اپنے دسترخوان اور اپنے لنگر کے مراکز کے نام قاضی حسین احمدؒ سے منسوب کرکے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں….. اسی لیے امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق جب اسٹیج پر سید منور حسن کو آنے کی دعوت دیتے ہیں تو ہمیشہ مرشد سیّدی کہہ کر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک کے ان کو بلاتے ہیں اور خود سہارا دے کر ان کو اسٹیج پر لاتے ہیں …… اس عظیم تحریک جس کی عظیم الشان روایات ہیں۔ یہاں ہر ایک نہ صرف تحریک کے لیے بلکہ اپنے سے جڑے ہر فرد کے لیے دعا کوہاتھ اٹھاتا اور خدمت کے لیے تیار رہتا ہے۔ بات پرانی نہیں ابھی کرونا وبا نے اسکے مظاہر سڑکوں , ستیوں میں روزوشب دیکھے ہیں۔
اس وقت امیر حلقہ کراچی نعیم الرحمن بھائی سید منور حسن صاحب کی صحت سے متعلق کارکن کو باخبر رکھنا اپنی ذاتی تنظیمی ذمہ داری سمجھ رہے ہیں …… کبھی آڈیو کبھی وڈیو پیغام کے ذریعہ ان کی صحت علاج معالجہ,ڈہوٹی پر موجود ڈاکٹرز کی تفصیل جاری کررہے ہیں۔ہمہ وقت انکی تیمارداری میں مصروف ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں اس جماعت میں” روحانیت” کا فقدان ہے۔یہاں تو رشتے ہی روح کے ہیں۔ بسا اوقات خون کے رشتوں پر بھاری ہوتے ہیں قلبی رشتے۔اور یہی روح کی بالیدگی کے سامان ہیں ۔ آج شرق وغرب میں لاکھوں ہاتھ دعا کو اٹھے ہوئے ہیں۔
ان کی زندگی اور صحت کی دعا مانگ رہے ہیں۔ سیّدی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ ہزاروں برس نرگس بے نوری پر روتی ہے ……تب چمن میں ایسا بے باک, نڈر دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ اللہ کریم انکو صحت والی زندگی عطا فرمائے۔آمین یا رب اللعالمین

اپنا تبصرہ بھیجیں