حضرت خنسا رضی اللہ عنہ – اُنیسہ حق




یہ جنگ شروع ہونے سے ایک رات پہلے کا منظر ہے۔ وہ ضعیف العمری کے باوجود اپنے فرزندوں کے ہمراہ شریکِ جنگ ہیں۔ رات کی تاریکی میں وہ اپنے بیٹوں کو کل ہونے والی جنگ کے لیے تیار کر رہی ہیں ۔ وہ خاتون جانتیں ہیں کہ قادسیہ کا میدان جہاں وہ کھڑی ہیں کل میدانِ جنگ بنا ہوگا۔ وہ اپنے چاروں جانباز بیٹوں کو مخاطب کر کے کہتی ہیں…….
“میرے بچوں ! تم اپنی خوشی سے اسلام کے پرچم تلے داخل ہوئے اور تم نے اپنی خوشی سے ہجرت کی۔ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ جس طرح تم سب ایک ماں کی اولاد ہو اسی طرح تم ایک ہی باپ کی اولاد ہو۔میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی اور نہ تمہارے ماموں کو ذلیل و رسوا کیا، تمہارا نصب بے عیب ہے اور تمہارا حسب بے داغ۔ خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ جہاد سے بڑھ کر کوئی کارِ ثواب نہیں۔ آخری کی کامیابی اس فانی دنیا کی کامیابی سے کہیں بہتر ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے:
اے مسلمانوں صبر کرو اور ثابت قدم رہو اور آپس میں مل کر رہا اور اللہ تعالی سے ڈرو کہ تم کامیاب ہو…….. (سورۃ آلِ عمران:200)۔
لہذا جب کل کا سورج طلوع ہو تو دشمن کے خلاف بہادری اور شجاعت سے لڑنا، ان پر قابو پا لینا اور ان کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرنا۔اگر کامیاب رہے تو غازی اور اگر شہادت نصیب ہو تو اس سے بڑھ کر کامیابی کوئی نہیں۔” چاروں فرزندوں نے اپنی والدہ کو یقین دلایا کہ وہ ان کی توقعات پر پورا اتریں گے۔اور جب صبح جنگ شروع ہوئی تو وہ بے مثال بہادری سے لڑے اور چاروں شہادت کے رتبے پر فائز ہوۓ۔ جب ان کی والدہ کو اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو وہ بول اٹھیں: “میں اللہ کی شکرگزار ہوں جس نے شہداء کی ماں بنایا اور میرے بیٹوں کو شہادت کی سعادت بخشی۔ مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے جنت میں ان کہ ساتھ متحد کرے گا۔”
یہ واقعہ تھا ان کا جو عرب کی سب سے مشہور شاعرہ مانی جاتی ہیں۔ علمائے عرب کے نزدیک ان کے برابر کی کوئی شاعرہ پیدا نہیں ہوئی۔ نہ ان سے پہلے نہ ان کے بعد۔۔۔ ابھی تک نہیں پہنچا پائے کہ یہ کون ہیں۔۔۔یہ حضرت خنسا رضہ ہیں جن کے فصیح و بلیخ کلام پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اظہارِ حیرت کیا کرتے تھے۔عہدِ فاروقی میں جب ایران کے خلاف جہاد کا اعلان ہوا تو وہ ضعیف ہونے کے باوجود اپنے بیٹوں کے ہمراہ لشکر میں شامل ہوئیں۔
یہ تھیں دورِ نبوی کہ مائیں جو اپنے بیٹوں کو جہاد کرنے کی تلقین کرتی تھیں اور جب وہ شہادت کے رتبے پر فائز ہو جاتے تھے تو رونے اور غمزدہ ہونے کے علاوہ اللہ کا شکر گزار ہوتی تھیں کہ اللہ نے ان کو شہداء کی مائیں بنایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں