احساسِ شکر – ایمانِ فاطمہ




رات کی تاریکی اور سیاہی چاروں جانب پھیلی ہوئی تھی ، میں آنگن میں موجود جھولے پر بیٹھی رمشا کی تکلیف دہ باتوں کو سوچ کر رو رہی تھی جو اسنے یونیورسٹی میں بڑے انہماک اور غرور سے کی تھیں. ہوا کا تازہ جھونکا بظاہر مجھے پرُ سکون کر رہا تھا لیکن رمشا کی باتیں مسلسل احساسِ محرومی اور احساسِ نا شکری میں مبتلا کر رہی تھیں.
رمشا upper class سے تعلق رکھنے والی ہوشیار مگر مغرور لڑکی ہے …….. وہ ہمیشہ سے کلاس میں اپنی امیری کی دھاک بٹھاۓرکھتی اور اپنی ہم جماعت طالبات کو خود سے کمتر سمجھتی تھی اور ہر کسی کو نیچا دکھانے کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی …….. آج یونیورسٹی میں junior batch کی ویلکم پارٹی تھی جس میں ہمارے (senior batch) نے بہت کچھ پلان کیا تھا اور بھاری رقم بھی جمع کی گئی تھی اور ساتھ ہی dress theme بھی رکھی گئی تھی جسے ہم میں سے کچھہ طالبات نے نہیں اپنایا، جس پر ہمیں رمشا کی زہر آلود باتوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ رمشا کو ایک بار پھر نیچا دکھانے کا موقع مل گیا تھا. یہ کس قسم کی تھرڈ کلاس ڑریسنگ کی ہے تم سب نے ؟؟ آج تو یہ اسکارف اتار دیتی تم سب……. کیا gate up بنایا ہوا ہے…..! رمشا کے یہ جملے سن کر میں زادو قطار رو پڑی اور وہاں سے باہر نکل آئی..
………………………………………..
میں خیالات کے سمندر میں غوطہ کھاتی ہوںٔی point میں یونیورسٹی کے لیے سفر کر رہی تھی، دیر رات تک رونے کی وجہ سے سر درد سے کراہ رہا تھا لیکن یونیورسٹی جانا بھی ضروری تھا ، سورج کی کرنوں کی حدت بہت زیادہ تھی چہرے پر گرمی کا احساس ہو رہا تھا، بس اسٹاپس پر رک کر لڑکیوں کو لیتی ہوئی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی اور میرے زہن میں رمشا کی باتیں مسلسل گردش کر رہی تھیں، اور میں بے شمار الجھنوں کی گُتھی سلجھانے کی کوشش کررہی تھی اور خود سے یکے بعد دیگرے سوالات کر رہی تھی کہ
” کیا انسان تمام عمر لاحاصل چیزوں کے لیے ترستا رہے گا؟؟ کیا انسان ہمیشہ لوگوں کی باتوں کا نشانہ بنتا رہتا ہے؟؟ کیا کبھی انسان کی خواہشات کے خوابوں کی تعبیر تکمیل تک نہیں پہنچے گی؟؟ جو انسان سوچتا ہے ویسا کیوں نہیں ہوتا؟؟؟”
اُف میری سوچ کتنی منفی ہوتی جا رہی ہے… میں نے خود سے کہا
“ایک مسلمان کو تو اللّٰہ نے اتنی نعمتوں سے نوازا ہے اور میں اتنی نا شکری کر رہی ہوں” میری مثبت سوچ نے میرے منفی پہلو کی اصلاح کرتے ہوئے سوال کیا……. جبکہ “حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم راتوں کو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک سوج جاتے تو عاںٔشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ( صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اللّٰہ کے رسول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اتنا لمبا قیام کرتے ہیں کہ قدم سوج جاتے ہیں ! حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپکی گزشتہ اور پیوستہ تمام لغزشیں معاف کر دی ہیں! تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو کیا میں اللّٰہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں!
بخاری، مسلم
ہم پر تو اللّٰہ تعالیٰ بارش کے قطروں کی طرح اپنی رحمت سے نعمتیں چھما چھم برساتے ہیں، انسانوں کو تو شکر کے ساتھ ساتھ حکمِ الٰہی کو بجا لا کر عملی تقاضہ بھی پیش کرنا چاہیے…..
……………………………………………..
گرمی کی شدت اور سورج کی تپش چہرے پر محسوس ہورہی تھی، نہ چاہتے ہوئے بھی چہرا آسمان کو دیکھنے کے لیے اوپر کیا اور فوراً نیچے جھکا لیا اوراس ہی لمحے میری سوچ نے اِک نیا رخ اختیار کیا……… یہ سورج ،چاند ، ستارے ، درخت ، پرندے اور نہ جانے اس کائنات میں موجود بےشمار نظارے سب اللّٰہ کی حمدوثنا میں مشغول رہتے ہیں اور تو اور اپنے رب کی کبریائی بیان کرنے میں عمل کے کئی تقاضوں کو بھی سر انجام دے رہے ہیں اور ہم؟؟ ہم نہ صرف قرآن کی آیات پر اپنے لیے اصول نہیں لیتے بلکہ شکر کے پیمانے کو بھی توڑڈالتے ہیں.. کیا کاںٔنات میں موجود چیزیں بھی عملی تقاضے پورے کر رہی ہیں؟؟ میں نے خود سے سوال کیا، جی ..
وہ ایسے کہ سورج ( جوکہ ہاںٔڈروجن اور مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے) تقریباً 220 km/ s کی مسافت طے کرتے ہوئے اللّٰہ کے حکم سے روشنی کی ڈھیروں کرنیں اپنے اندر سموئے پورے عالم کو روشن کرنے کے لیے اور دھوپ ( جو بذاتِ خود ایک نعمت ہے) سے اللّٰہ کے بندوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مشرق سے طلوع ہوتا ہوا پورا دن زمین کے گرد چکر کاٹ کر تمام تر احکاماتِ الٰہی کو پورا کرتے ہوئے اپنی ساری خصوصیات کو سمیٹ کر مغرب کی طرف غروبِ آفتاب کے حکم پر عمل پیرا ہوکر ڈوب جاتا ہے اور اپنے تاںٔیں علامہ اقبال کی نظر میں ایک چھپا پیغام بھی چھوڑ جاتا ہے کہ :
یہی درس دیتا ہے ہمیں ہر شام کا سورج،
مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے
یہ سورج جس کی روشنی سے پودے اور درخت photosynthesis کا پروسیس سر انجام دے کر خود کے لیے غذا بناتے ہیں اور انسانوں کو دن میں آکسیجن اور رات میں کاربن ڈائی آکسائڈ فراہم کرتے ہیں …….. “سورج کا متضاد؟ چاند بھی تو یہی رویہ اختیار کرتا ہے ..” میں نے خود سے کہا ، چاند بھی اسلامی مہینے کی پہلی تاریخ کو اللّٰہ کے حکم سے نکلتا ہے اور سورج سے لی ہوئی روشنی کے زریعے ( کیونکہ اللّٰہ نے چاند کو بے نور بنایا ہے اسلیے چاند اللّٰہ کے حکم سے سورج سے روشنی لیتا ہے) زمین سے تقریباً 4 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہونے کے باوجود رات کے اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کردیتا ہے اور 28 دنوں میں زمین کے گرد چکر مکمل کرتا ہے…. “چاند کے اندر ایک شر بھی چھپا ہے” میں نے خود کلامی کی ……… جس سے بچنے کے لیے سورت فلق میں اللّٰہ فرماتے ہیں:
وَمِنْ شَرِْ غَاسِقِِ اِذَ وَقَبْ …….. ترجمہ : اور رات کی تاریکی کے شر سے جبکہ وہ چھا جائے..
چاند کو بےنور بنایا گیا ہے تو اس چاند کی بے نوری کو تاریکی کے زمرے میں لیا جاۓ تو ……….. یہاں کچھہ مفسرین اس آیت کا مطلب اس طرح بھی بتاتے ہیں کہ چاند پانی کو attract کرتا ہے، اپنی طرف کھینچتا ہے تو انسانی جسم میں موجود fluid کوبھی attract کرتا ہے اگر دماغ کےfluid کو اپنی طرف کھینچے گا تو یقیناً انسان کی دماغی کیفیت میں ضرور کمی آۓ گی جبھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر چودھویں کے چاند کی رات طوفان آۓ وہ زیادہ خطرناک ہوگا . طوفان سے بارش کا عمل بھی زہن میں گھومتا ہے کہ کس بارش کے قطرے بھی اللّٰہ کا حکم بجا لاتے ہیں. کس طرح پانی آبی بخارات کی شکل میں evaporation کا عمل کر کہ آسمان کی طرف بادلوں میں چھپ کر condensation کا عمل مکمل کرتا ہے اور جب بادل زیادہ بھاری ہو جاتے ہیں تو precipitation کے عمل کے زریعے زمین پر بارش کی صورت میں وہ قطرے برستے اور نہروں اور دریاؤں میں پانی جمع ہو جاتا جس سے water cycle کا آخری عمل collection بھی سر انجام ہو جاتا..
” یہ چاند اور سورج کا نکلنا اور چھپ جانا ، بارش کا برسنا اور پانی کا جمع ہونا اور پودوں اور درختوں کا آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ فراہم کرنا حکمِ خداوندی پر عمل ہی تو ہے ، پھر انسان اس پر کیونکر غور نہیں کرتا؟؟؟ بےشک کاںٔنات کی ہر شے مسلم ہے. ابھی بس موڑ مڑ رہی تھی کہ سڑک کنارے موجود بڑے بڑے درختوں پر نظر پڑی جن پر پرندوں کی آوازیں ٹریفک کے شور میں بھی سنائی دے رہی تھیں جیسے پرندے بھی گرمی کے ستاۓ ہوئے ہیں بلکہ نہیں! یہ ہی تو پرندوں کا حمدوثنا کرنے کا طریقہ ہے. ” آج تو سارے نظارے میری سوچ کو مثبت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، جیسے یہ مناظر بھی چاہتے ہیں کہ میں اپنے رب کا شکر ادا کروں..” دل نے ہنس کر خود سے کہا، خود کے بنائے ہوئے گھونسلوں میں یہ پرندے اپنی زندگی گزارتے ہیں اور آندھی طوفان میں جب ان کا گھونسلہ ہوا کی نظر ہو جاتا ہے تو نا شکری نہیں کرتے اور نہ ہی شکوے کرتے ہیں بلکہ فوراً سے پیشتر دوبارہ کنکریاں ڈھونڈ کر نیا گھر تعمیر کرتے ہیں . کس طرح پرندے سب ختم ہونے کے بعد بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کسی ہوائی مدد کا انتظار نہیں کرتے…
ہم یونیورسٹی پہنچنے ہی والے تھے، راستے میں ایک فقیر پر نظر پڑی جو بظاہر معذور دکھائی دے رہا تھا اور ایک چوکی کی مدد سے جس کے نیچے پہییے لگے ہوئے تھے، اپنے ہاتھ سے سڑک پر ہاتھ رکھ کر اپنی چوکی کو آگے بڑھا رہا تھا ایک موٹر سائیکل سوار نے رک کر اسے کچھ پیسے دیے غالباً لال نوٹ تھمایا اور کچھ کہہ کر آگے بڑھ گیا ( شاید کہہ رہا ہو کہ میرے لیے دعا کرنا )، اُس فقیر کو دیکھ کر جس کے کپڑے بھی پیوند شدہ تھے میں نے سوچا کہ غریب سے غریب تر طبقے کا ایک آدمی جس کے پاس پیٹ بھرنے کو اچھا کھانا، پہننے کو کپڑے اور رہنے کو گھر تک میسر نہ ہو اس انسان کے پاس بھی اتنی نعمتیں ہیں کہ اگر وہ اسکا شمار کرنا چاہے تو وہ انگنت ہوں گیں. اور میرے پاس بےشک اس فقیر سے کہیں زیادہ نعمتیں ہیں جن کا مجھے شکر بھی ادا کرنا ہے اور سورج ،چاند تاروں کی طرح عملی ثبوت بھی دینا ہے (احکاماتِ الٰہی کو بجا لا کر)
میں نے دل میں خود سے عہد کیا ..
ایک جھٹکے سے بَس رُکی اور پتہ چلا کہ یونیورسٹی آ گںٔی ہے، بظاہر جھٹکا ہلکا تھا لیکن میرے خیالات کو بھک سے اڑا نے کے لئے یہ جھٹکا کافی تھا . جیسے دل سکون میں آگیا ہو اور کہہ رہا ہو کہ
فَبِاَیِّ اٰلٓاْءِ رَبِکُمَاْ تُکَذِْبَاّنْٗ…..!

اپنا تبصرہ بھیجیں