اور اسے سمجھ آگئی – سیدہ ابیحہ مریم




امی پڑوس میں آنٹی کی مزاج پرسی کے لیئے گئی ہوئی تھیں جب اسجد عصر کی نماز پڑھ کر واپس آیا. اسے بہت دکھ ہوا جب اس نے ننھی نور العین کو پانی ضائع کرتے دیکھا. نور اس سے آٹھ برس چھوٹی تھی. ابھی دوسری جماعت کی طالبہ تھی تو اس سے بات بھی معصومانہ انداز میں کرنی ہوتی تھی. کچھ سوچ کر وہ راہداری کے نل کے سامنے کھڑی نور کی طرف بڑھا.
“السلام علیکم نور ! کیا کر رہی ہو ؟” گھر میں داخل ہو کر گھر میں موجود افراد کو سلام کرنا اس کی پرانی عادت تھی.
“وعلیکم السلام بھیا جان! منہ دھو رہی تھی. آپ آ گئے؟؟” اس نے نلکا بند کرتے ہوۓ جواب دیا.
اسجد: “ہممم آ گیا… نور جان, کبھی تم نے سوچا ہے یہ پانی کہاں سے آتا ہے؟” وہ اس بے وقت سوال پر کچھ حیران و پریشان ہوئی تھی.
“ہیں..؟ پتا نہیں بھیا جان !؟ آپ نے پڑھا ہے اپنی موٹی والی کتاب میں ؟؟”
“نہیں ناں! جبھی تو پوچھ رہا ہوں. سوچو کہاں سے آتا ہوگا!؟” اسجد نے مصنوعی انداز میں غور کرتے ہوۓ کہا.
نور العین: “پانی والے انکل کے پاس سے!!”، اسجد بے ساختہ ہنس پڑا. اس کی معصوم سی بہن کا جواب بھی نہایت معصوم سا تھا.
اسجد: “اور ان کے پاس کہاں سے آتا ہوگا… ؟؟”
نور العین: “بڑی والی ندی… نہیں… دریا سے…” ، اس نے ایک فاتحانہ اور مسرور سی مسکراہٹ اسجد کی طرف اچھالی.
اسجد: “واہ بھئی تمہیں تو سب پتا ہے, اب یہ بتاؤ دریا میں کہاں سے آتا ہے؟” ، وہ سوال پر سوال داغ رہا تھا جبکہ نور چڑ رہی تھی.
نور العین: “اتنے مشکل سوالات کیوں پوچھ رہے ہیں اسجی بھیا!” …… لاڈوں میں پلنے والی نور العین کو یوں دماغ پر زور دینا شاید اچھا نہیں لگا تھا, لہذا کچھ پل منہ پھلاۓ اپنے بھیا جان کو دیکھا لیکن پھر جیسے ہی کچھ ذہن میں آیا, وہ بول پڑی.
“آہ… اللہ میاں ڈالتے ہوں گے اتنا سارا پانی دریا میں. ہے ناں؟؟” اس سوال کا جواب درست دینا اس کے لیئے انتہائی قابل فخر بات تھی کیونکہ اس کے خیال میں یہ سوال اسجد کے لیول کا تھا. اسجد بھی واقعتاً خوش ہوا تھا
“ارے واہ.. زبردست گڑیا رانی! تمہیں تو سب پتا ہے, اس کا مطلب یہ ہوا کہ پانی اللہ تعالی کی نعمت ہے, لیکن اس کے علاوہ اور کون کون سی نعمتیں ہیں اللہ کی تمہارے پاس؟؟ ”
نور العین تو جیسے اسی سوال کے انتظار میں بیٹھی تھی, اسجد کی بات ختم ہوتے ہی بول پڑی.
“گاڑی, نئی والی گھڑی اور گڑیا بھی جو دادو نے عید پر دی تھی!” ، اسجد کھلکھلا اٹھا. چھوٹی سی بہن کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں…. “اور اس کے علاوہ مزید اہم اور ضروری چیزیں؟؟”
نور العین: “اممم… پانی اور.. گھر اور… “شہریار نے اسے چھیڑتے ہوۓ بات کاٹی ، “اور وہ چاول بھی, جو کل میری پیاری سی بہن میز پر گرا رہی تھی.”
نور العین: “جی بھیا! وہ بریانی.. مزے کی تھی ناں؟؟”
شہریار: “بالکل, مزے کی تو تھی لیکن کیا آپ نےکھانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کیا تھا؟؟”
نور العین: “جی ہاں اسجی بھیا! میں اللہ کی ہر نعمت پر شکر ادا کرتی ہوں, ہر نماز کے بعد بھی اور نماز میں سورۃ الفاتحہ بھی پڑھتی ہوں! مس بھی صبح صبح دعائیں پڑھواتی ہیں.”
اسجد: “اوہ! زبردست بھئی ….. لیکن یہ سب تو زبان سے شکریہ ہوا. کبھی عمل سے الحمدللہ ظاہر کیا ہے؟”، اسجد نے بغور ننھی بہن کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی.
نور العین: “عمل سے… یعنی کیسے؟” ، اس کے انداز میں واضح تذبذب تھا.
اسجد: “اللہ تعالی کی نعمتوں کی قدر کر کے! اس پانی کو ضائع نہ کر کے کھانا گراۓ بغیر کھا کے اور امی ابو بہن بھائی کی عزت کر کے.”
نور العین:”ہیں… آپ بھی نعمت ہیں؟؟؟” ، نور کی حیرانی کی انتہا نہ تھی, وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کے بھائی بھی نعمت ہوں گے….!!!
اسجد: “بالکل! کتنی ہی بچیاں ہوں گی جن کے بھائی نہیں ہوں گے…… رہنے کے لیئے گھر نہیں ہوگا. اس لیئے نعمتوں کی قدر کیا کرو جان! دل سے بھی, زبان سے بھی, اور عمل سے بھی.” وہ حقیقت میں بہت پریشان ہوئی تھی, یہ سوچ ہی اس کو بے چین کرنے کے لیئے کافی تھی کہ اگر وہ ان نعمتوں کا صحیح استعمال نہیں کرے گی, ان کی قدر نہیں کرے گی تو یہ سب نعمتیں اللہ تعالی اس سے چھین لیں گے. یعنی امی, بابا, بھیا جان… اوہ نو… یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ بے اختیار ننھی نور کے آنسو بہنے لگے وہ ایک دم سے اسجد کے گلے لگ گئی.
“آپ بہت اچھے ہیں…… سچی بھیا!” ، تب پہلی بار اسے احساس ہوا تھا کہ وہ جو اکثر اپنی امی سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو جایا کرتی تھی , یہ حرکت اس کے لیئے کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی.
“اگر اللہ نہ کرے امی کہیں دور چلی گئیں تو…” ، یہی سوچتے ہوۓ ایک بار پھر وہ رو پڑی.
“نہیں.. اللہ میاں!! اب سے میں آپ کی ہر نعمت پر شکر ادا کروں گی کوئی شے بھی ضائع نہیں کروں گی, امی بابا بھیا… سب کا بہت سارا خیال رکھوں گی!!!” ، اسجد کے گلے لگ کر وہ اپنے رب سے سرگوشیوں کی صورت میں نئے وعدے… نئے عہد کر رہی تھی.

اپنا تبصرہ بھیجیں