ایک عزم ایک دور ایک نام و ولولہ – بنت مناظر




نسیم صدیقی صاحب ………. ایک عزم ایک دور ایک نام و ولولہ! آپ اپنے اندر بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ۔ اپنی ذات میں خود ایک انجمن تھے۔ الحمد اللہ…….. بنیادی طور پر چودہ ، پندرہ سالہ عثمان کی پی ۔ ٹی ۔ ایم کا ساتھ رہا ہے۔ یوں تو بظاہر یہ کوئی ایسا اھم و بڑا ساتھ نہی لگتا۔ لیکن جب ہر تین ماہ بعد گاہے بگاہے فرد سے ملاقات و گفت شنید رہے۔ تو شخصیت کے کئی در کھلتے ہیں۔
ملاقاتوں میں اسکول وبچوں کی تربیت میرا خاص موضوع رہا ۔ مشوروں سے بھی رجسٹر کے صفحات کو سیاہ کیا۔ لیکن سیاہ صفحات کو روشنی دینے والی شخصیت نسیم صاحب کی تھی۔ دوسرے دن ہی گھر فون آجاتا ۔ اس کے ذیل میں مزید مشورے درکار ہیں ۔ یہ فکر یہ انداز یقینا اپنے اندر ایک مکمل تحریک لئے ہوئے ہوتا۔ اللہ معمار قوم کی تعمیر کے لئے اس عرق ریزی کو قبول فرمائے۔ آمین …….. بیٹوں کا حفظ قرآن سے لے کر دوبارہ ایڈمیشن کے مراحل تک اصولوں ونظم و ضبط کی پابندی ہی نظر آئی۔ لیکن نرم مزاجی کا عنصر بھی شخصیت سے جھلکتا تھا ۔ الحمد اللہ …… پانچ بچے عثمان میں زیر تعلیم تھے۔ چھوٹی بیٹی کا نام میرٹ داخلہ لسٹ میں آچکا تھا ۔ ہمارے شوہر صاحب نے کچھ مصروفیات کے باعث فیس جمع کرنے میں تاخیر کردی۔ اور کچھ دن کے لئے کوئٹہ چلے گئے۔ میں مطمئن فیس جمع ہوگئ ہے۔
اسکول بچے کو تیار کر کے لے گئ ۔ وہاں پہنچ تو دیکھا ایڈمیشن کینسل ۔ فائل ضائع کر دی گئ۔
میری فکر مندی پریشانی حد درجہ …….. سارے بچے عثمان میں اس کو الگ کیسے رکھوں ۔ تعلیم و تربیت مختلف۔۔۔ ؟؟؟ شوہر صاحب بھی دوستوں میں رہے بات بھی کی ۔ تو وضاحت نا ہوسکی ….. شوہر صاحب کا حکم کہ ……. اب عثمان میں نہیں کرانا۔ کسی بھی اسکول میں کرادیں۔ ہم نے بھی عثمان کو ہر مسئلہ کے باوجود سر فہرست رکھا ہوا تھا ۔ کیسے چپ سادھ لیتے ؟ ایک درخواست کی میں خود ایک بار کیمپس 7 جا کر بات کرتی ہوں اصل وجہ بتاتی ہوں ۔ پھر آپ کی مرضی کہیں بھی کرا دیجئے گا۔ بس ایک بار اصولی بات کرنے دیں۔ بڑی مشکل سے شوہر صاحب کو راضی کیا۔ وہ خاصے نالاں تھے۔ کیمپس 7 نرسری کلاس ایڈمیشن روم میں جا کر بات کی۔ ناممکن کا سگنل ہر جگہ ملا۔ فائل ھی نہی۔ بڑے دل برداشتہ شکستہ قدم واپسی کا سوچا۔ اب عثمان نرسری سسٹم سے واسطہ ختم ہو چلا ہے۔ کیوں نا استاذہ کو خدا حافظ کہہ کر رخصت ہوں۔ اندر پرنسپل روم فون کرایا کہ ملنا چاہتی ہوں…….. بریک کا ٹائم تھا ۔ الحمد اللہ محترمہ میڈم نے احترام سے بلایا۔ اور آنے کی و باقی بچوں کی خیریت دریافت کی۔
ناچاہتے ہوئے بھی جذبات نے سب کچھ کہہ دیا ۔ میڈیم بھی کچھ نا امید کہ اصول پسندی میں نا کو ہاں کہنا ناممکن بات ہے۔ لیکن آپ کی بات کی شاید وضاحت نا ہوسکی ہو۔ میں ضرور ابھی آگاہ کرتی ہوں …….. میرے سامنے ھی فون ملایا ۔ میرٹ لسٹ میں نام آنے اور بوجہ فیس جمع نا کرانے کی ساری وجوہات رکھ دیں ۔ ساتھ باقی بچوں کے شاندار تعلیمی ریکارڈ اور غیر نصابی سرگرمیوں کا بھی حوالہ دیا۔ ساری صورت حال کا جائزہ لے کر نسیم صاحب نے انتظار کرنے کو کہا ۔ دس منٹ بعد میڈم کو فون آیا کہ یہ نام میرٹ لسٹ میں ہے۔ باقی وجوہات میرے علم میں نا تھیں۔ دوبارہ ایڈمیشن فائل بنانے کا کہہ دیا ھے۔ الحمد اللہ۔ میں بھی میڈم کی مشکور ھوں کہ درست سمت رہنمائی کی۔ اللہ ان کو جزا دے۔ بڑی بات یہ کہ دوسرے دن دس بجے خود نسیم صاحب کا ہمارے گھر معزرت کا تفصیلی فون آیا ۔ کہ یہ تو مس انڈراسٹینڈنگ کا مسئلہ تھا۔ ایسی کوئی بات ھو تو صورت حال کی مکمل وضاحت کرنی چائیے۔ ان کی نرمی و انکساری کے وہ جملے آج بھی کانوں میں گونجتے ھیں۔
وہ اپنی ذات میں مزید قد آور نظر آتے ہیں۔ اللہ ان کی ہر نیکی کو بڑھ بڑھ کر قبول فرمائے۔ دانستہ نا دانستہ ہر لرزش کو معاف فرمائے۔ ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ سارے مراحل آسان کر دے ۔ اور روزمحشر بس ہم سب سے راضی ہوجائیے گا آمین۔ کبھی کبھی مکمل بات سے لاعلم ہو تو بھی بد گمانیاں جنم لیتی ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا المیہ رہا ہے۔ فرد چلا جائے تو گن گن کر اس کی خوبیاں نظر آتی ہیں ۔
ہماری زمین کلمہ طیبہ سے زرخیز ہے۔ اللہ ہمارے دیس کو ہزاروں گوہر نایاب عطا فرمائے ۔ آمین۔
۔

اپنا تبصرہ بھیجیں