اس دور کے انداز ہی نرالے ہیں – روبینہ اعجاز




طارق عزیز کی وفات کی خبر نے جہاں سب کو افسردہ کر دیا……. وہاں نیلام گھر جیسا معلوماتی پروگرام بھی یاد آگیا ۔ پھر آجکل کے شوز سے موازنہ کیا جائے تو زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے ۔
پروگرام کا خاص معیار تھا ….. میزبان کی معلومات …… سوالات کرنے کا انداز …… بیت بازی ……انعامات کی تقسیم۔کسی اچھی کتاب کا تعارف سب سے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ …… آج بھی دلوں میں زندہ ہے ۔ پروگرام کے میزبان طارق عزیز اچھے ادبی ذوق کے مالک تھے ۔ اپنے ہر پروگرام میں ایک نئی کتاب کا تعارف اسی لئے کروتے کہ لوگ اس سے مستفید ہوں ۔ اکثر ادیبوں اور شعراء کو بطور مہمان خصوصی بلاتے ۔ خود بھی اچھے شاعر تھے ۔ بیت بازی میں غلط اشعار کو فوراً درست کر دیتے ۔ اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ اور اصحابہ کرام سے خاص عقیدت تھی ۔بہت عزت واحترام سے ذکر کرتے ۔اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے ۔درجات بلند فرمائے ۔
آجکل کےپروگراموں میں انعامات بغیر کسی معلومات کے بانٹے جاتے ہیں تو عجیب وغریب قسم کی حرکات سے عزت ںفس مجروح کی جاتی ہے۔ کبھی خواتین سے گانے گنوائے جاتے ہیں تو کبھی اپنے ساتھی کے ساتھ اسکوٹر پر چکر لگوائے جاتے ہیں ۔غرض بھاگ دوڑ اوٹ پٹانگ کاموں کے بدلے قیمتی تحائف بانٹے جاتے ہیں ……. شرکاء تحائف مانگنےمیں عار محسوس نہیں کرتے ۔
مگر کیا کہئیے کہ آجکل لوگ اتنے لالچی کیوں ہو گئے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے تحائف حاصل کرنے کیلئے سب کچھ کر گزرتے ہیں ۔ ٹی وی چینلزکو پروگراموں کے معیار کو بڑھانا چاہیے کہ اسکا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں