پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیمِ مساوات – ماریہ صفیہ




شوراٹھا ہے……. !! اژدھام مچا ہے……!! سنا ہے، اسٹریلیا کے جنگلات میں آگ لگ گئی ہے۔ ہائے کان پڑی آواز نہیں آرہی کیا ہوا ہے؟ ایک حاملہ ہتھنی ماری گئی …… کیرالہ انڈیا کا شہر جہاں یہ واقعہ ہوا۔ اس ملک کے لئے یہ بہت بڑی خبر تھی ظاہر ہے …… کیونکہ انسانوں کو مارنا ہی دیکھا تھا یہ کیا ہوا ایک جانور مر گیا ۔ خبر سنی آپ نے ویرات کوہلی ، انشکا شرما ٹویٹ کررہے ہیں ۔ رو رو کے بدحال ہیں ہاتھنی مرگئی۔
ارے کہاں تھے تم لوگ …..! جب کشمیر میں انسانوں کی جانوں کا کھیل چل رہا تھا۔ حکومت نے اعلان کرادیا NGOs دوڑ پڑیں کہ قاتل ملے تو حساب برابر کریں !! اور جو انسان …… ارے ارے ، مسلمان کا لہو بہ رہا ہے اور قاتل بھی پتہ ہیں تو اب کیا ہوا؟ کونگے کا گڑ کھالیا یا اندھے ہو!؟ ارے نہیں جانور قیمتی ہے !!! پیسوں سے خریدا ہے یا نسل ختم ہوجائیگی نا نایاب ہے۔ میں سمجھی ہوں کہ آپ کا بچہ مرے اور کتا بھی مرے تو کتے کا ماتم ہوگا۔ کیونکہ بچے تو دنیا میں بہت ہیں نا۔ ایک مرگیا تو کیا ہوا …..! ارے آپ روئیں ، آپ جانوروں کے لئے چارٹر بنائیں ، اسٹیٹس لگائیں ٹویٹ کریں ۔ مجھے یہ بتادیں کہ آپکے ہاں انصاف کی کیا تعریف ہے؟ وہ جو آگ لگی اس ہتھنی کو وہ اپکو کبھی میرے کشمیر کے بچوں کی اندھی آنکھوں میں نظر نہ آئی؟ وہ جو کینگرو جل گئے وہ اپکو میرا کندوز میں مدرسہ یاد آیا؟..
وہ جو کابل میں اٹیک ہوا تھا وہ تو مزاق تھا نا …… !پکو یاد نہیں ہوگا لیکن مجھے انڈیا میں لوگوں سمیت مسجدوں کا جلنا یاد ہے!! آے دنیا کے منصفوں!!!! کونسی انسانیت ہے۔ یا تو کہدو وہ کابل میں جلنے والے بچے جانور ہیں!! ارے جانوروں کے تو بہت حقوق ہیں ۔ یوں ہی کہدو کے جانور سے بھی بدتر ہیں ۔ ادھر طوفان کھڑا ہے #black life matters…. ارے انسان بنو ساری انسانیت کا احساس کرو …… تمہاری عینک ہوگی خراب مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا۔ مجھے چائنا کے مسلمان بھی یاد ہیں، فلسطینی بھی یاد ہیں اور برما وشام بھی!!! مجھے کوئی یہ بتادو ایک طرف ہاتھی ہے دوسری طرف انسانی جانیں ہیں !!! مجھے یہ ںتادو میں کس سے انصاف مانگوں؟ آہ انسان ہوتے ہوئے شرم آتی ہے….! اقوامِ متحدہ سے بڑا کوئی فراڈ ہے کیا….! انصاف کی نام لیوا یہ تنظیم اس کا چہرہ دنیا کو دیکھنا ہوگا۔ انصاف صرف اس پر جو نامسلم ہے ۔۔۔مسلمان ہے تو لازمی یہ ہی مجرم ہے اور انصاف یہی ہے کہ اس کو جانور سے بھی کم سمجھو۔۔۔! غزہ کی داستان ۔۔۔کسی کے ملک میں گھس کر اس کو بے دخل کردو ۔
ان سے ایسا ہتک امیز سلوک کرو کہ روح تک کانپ جائے۔ جیتے جاگتے انسانوں پہ بم گرادو ۔ ہنستے چہروں ، جو ابھی دنیا میں آئے ہی تھے ماردو ۔ شہر کے شہر کھنڈر بنادو دہشت گردوں کے صفائے کے نام پہ …… یہ سب کسی ایک نامسلم کے ساتھ ہوتا تو جب تک حقائق نہ اجاتے کیس چلتا یہاں بس تم مسلمان کا نام لے لو اور ختم کرو۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ جو مسلمانوں کے لئے نہیں باقی کیڑے سے لے کر سیاروں تک کے لئے ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ خون میں ایک کو نہلا کر ، بارود اور دھماکوں سے شہر کے شہر تباہ کردینا اور کہنا کہ ہم عدل انصاف کرتے ہیں۔ ایک مظلوم ، معصوم عورت کو زندان میں بند کرکے اس پہ تشدد کہاں ہیں ۔۔۔چھیاسی سال!! فیمینسٹ؟! کہاں ہیں لال لال لہرائے گا؟ کہاں ہے UNICEF نظر نہیں آتے میرے خون میں ڈوبے بچے! ان کی معصومیت؟یہ ظلم نظر نہیں آتا آپکو!؟
یہ سراسر ظلم ہے!
روحِ بغداد پہ برپا ہوا ایسا محشر
دیکھ کر جس کو لگا موت کو بھی خوف وخطر
سوئے لبنان و فلسطین اٹھی جس کی نظر۔۔
اس نے ہر شہر کو ویران بیاباں دیکھا۔۔
کابل و شام ، جس کی جبیں پر بھی لہو۔۔
میں نے روتا ہوا دیکھا تو مسلمان دیکھا۔!!!
اہل ایمان اپنے خواب میں مگن صدف کی شادی اور انڈین ایکٹر کی خودکشی پہ روتے ہیں۔ اے میری امت کے جوانوں تمہارے ابا صلی اللہ علیہ وسلم کا چلن خطرے میں ہے۔۔۔اے میری قوم کی بیٹیوں تمہاری نسبت فاطمہ خاتونِ جنت سے ہے…… جاگو دیکھو کھلی انکھوں سے۔۔۔اج دنیا میں اہلِ ایمان اس لئے رل رہے ہیں کہ ہم نے اپنی نسبت بھلادی ہے .ہم نے دنیا کو ابدی جان لیا ہے۔۔۔ ہم نے کبوتر کی طرح انکھیں بند کرلی ہیں ۔ ان کفار کی لیڈرشپ کو قبول کرلیا ہے ہم ان سے مرعوب ہیں اور ان کے نقشِ قدم پہ چل رہے ہیں۔
آخر کب تک ہم اقوامِ متحدہ کو انصاف کی دیوی مانیں گے! آخر کس دن خوابِ غفلت ختم ہوگا! اے کاش ….!یہ امت جاگ جائے اور اپنی نسبت پہچان لے…..آمین.

اپنا تبصرہ بھیجیں