حق پر ڈٹنے والے




سولہ سترہ برس کی بالی عمر رہی ہوگی ……. ان دنوں ترقی پسند تحریک کا پڑھے لکھے طبقے میں خاصا جھکڑ تھا . اس تحریک سے نظریاتی وابستگی رکھنے والے مشن کی طرح کمیونزم کے لئے کام کرتے تھے . اس کم عمر نوجوان کا واسطہ ایسے ہی ایک صاحب سے پڑ گیا جو محلے کے بچوں کو لادینیت پر لیکچر دیا کرتا تھا .
انہیں دین سے برگشتہ کرکے مارکس لینن کی طرف بلاتا تھا……. اس صاحب سے نوجوان سید زادے کی خوب فکری جھڑپیں ہوتیں . یہ سلسلہ جاری تھا، اسی دوران کمیونسٹ نوجوان کو اپنا گھر بسانے کی فکر ہوئی رشتہ دیکھا گیا اور نکاح کی تاریخ بھی رکھ دی گئی….. نکاح کا وقت ہوا. سب احباب جمع ہوئے مولانا صاحب نے گلا کھنکار کر گفتگو شروع ہی کی تھی کہ وہ لڑکا کھڑا ہو گیا اور اونچی آواز میں کہنے لگا . مولانا صاحب ٹھہر جائیں یہ شادی نہیں ہو سکتی..!
یہ سن کر سب حیران ہوگئے اور اس لڑکے کی جانب دیکھنے لگے کہ کیا ماجرہ کیا ہے اور دولہا بھی ہکا بکا اس سید زادے کو تکنے لگا مولانا نے پوچھا، کیوں جی شادی کیوں نہیں ہو سکتی آپکو کیا اعتراض بھلا؟ سید زادہ کہنے لگا …..نکاح کے لئے لڑکی لڑکے کا مسلمان ہونا شرط ہے .یہ صاحب تو ہمیں الحاد کا درس دیتے ہیں……. روز محلے میں سب لڑکوں کو کمیونزم کے فائدے بتاتے ہیں….. اب ایک لادین کی کسی مسلمان سے شادی کیسے ہو سکتی ہے . اب دولہے کے چہرے پر ایک رنگ آئے اور ایک جائے وہ اس نوجوان کی منتیں کرنے لگا کہ بیٹھ جائے چپ ہو رہے لیکن اسے کون بٹھائے کون چپ کرائے؟ سید زادے نے کہا کہ نکاح سے پہلے اسے کلمہ پڑھنا ہوگا. مولانا نے دولہے کی طرف دیکھا اور کہا بات تو ٹھیک ہے……. آپ کو کلمہ پڑھنا ہو گا. دولہے نے فوراً کلمہ پڑھنے کی حامی بھری اور جھٹ سے کلمہ بھی پڑھ لیا.
اب دوبارہ نکاح پڑھایا جانے لگا تو وہ سید زادہ پھر کھڑا ہو گیا اور دولہے سے کہا دیکھو….! اب آپ نے اسلام قبول کر لیا ہے. آپ مسلمان ہو چکے ہو…… اب اگر کوئی دین سے پھیرنے والی بات کی تو یاد رکھنا ، اسلام میں ارتداد کی سزا کیا ہے . اللہ بخشے……. سید منور حسن ایسے ہی حق گو تھے جو بات حق سمجھتے اس پر ڈٹ جاتے وانا آپریشن کے خلاف تھے …… کہہ گئے کہ وانا میں قبائلیوں سے لڑائی میں مارے جانے والے شہید نہیں کہلائے جا سکتے، یہ نہایت سخت بیان تھا فوج کی جانب سے ردعمل بھی اتنا ہی سخت آیا لیکن سید صاحب آخر وقت تک اپنی بات پر ڈٹے رہے . میں نے ایک بار انکے خلاف بڑا سخت کالم لکھا جماعت اسلامی کراچی میں اس پر کافی ناراضگی ہوئی لیکن اس کے باوجود سید صاحب سے جب بھی ملاقات ہوئی مسکراتے ہوئے ملے اسی شفیق انداز میں ، محبت بھرے لہجے میں حال پوچھتے بے تکلفی سے بات کرتے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں…
افسوس کہ وبا کے ان دنوں میں بہت بڑا نقصان ہو گیا….. پاکستان میں غلبہء اسلام کی تحریک کے لئے یہ اس صدی کا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی نقصان ہے وہ اپنی سعی کر کے اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے انہوں نے بڑا طویل سفر کیا ہے یقیناً تھک گئے ہوں گے میرے رب نے انہیں محبتوں سے اپنے پاس بلایا ہوگا کہ اے سید بس اب ہمارے پاس آؤ اور آرام کرو…. اللہ انکی نیکیاں انکی بخشش کے لئے بہت کافی کرے .

اپنا تبصرہ بھیجیں