اپنی خوددار فطرت کی بس میں رہے – زبیر منصوری




ہم  چمن  میں رہے یا قفس میں  رہے
اپنی خوددار فطرت کی بس میں رہے

سید اس شعر کے ساتھ ہمیشہ یاد رہیں گے ……. دارالضیافہ میں مجھے جس کے پڑوس کا شرف رہا ، عجب بے نیاز آدمی تھا فجر کی آذان کم ہی اس نے کبھی اپنے کمرے میں سنی ہو گی . لاک کھلنے کی آواز ….. نرم قدموں کی چاپ …… بندہ مسجد روانہ

راستے سے یوں گزرتا ہوا گویا دنیا وما فیہا سے بے نیاز کہیں اور ہی …… کسی اور سے ہی غیر مرئی تار سےجڑا ہوا وہ شخص ، اسی کے پاس لوٹ گیا جس کے لئے نمازیں پڑھیں . جس کے لئےعمر بھر خواہشات رائے مرضی سب ہی کچھ کی قربانی دی جس کے نام کی مالا جپتے جیا اور جس کے لئے زندگی کو امانت کی طرح موت کے سپرد کر دیا …… آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے تھے …….اللہ جس سے محبت کرتا ہے اس کے لئے بندوں کے دلوں میں محبت پیدا کر دیتا ہے .عجیب بے باک و جی دار شخص تھا جس سے محبت کا اظہار کرنے والے مجھے لمبی مسافتوں میں نہ جانے کہاں کہاں ملے۔۔۔! کراچی کے مسافر کا زکر سن کر پوچھتے کہ وہاں ہمارا ایک سید بستا ہے…. وہ کیسا ہے ؟ ممکن ہو تو اس کا ہاتھ چومنا اور ہمارا سلام کہنا کہ دور دیس کے باسی پہنچ نہیں سکتے مگر اس سے پیار ضرور کرتے ہیں۔۔

سید صاحب یہ پیار ، یہ دور دور تک پھیلی. اس محبت کی خوشبو دنیا میں اس قربانی کا انعام ہے …..جو آپ نے دو عالم سے خفا ہو کر دی تھی کہ جب سوشلزم سے ٹوٹ کر یہ ہیرا اسلام کی گود میں گرا تھا ! سید صاحب آپ کے دائیں بائیں کتنے تھے جو آپ کی طرح اس کیمپ میں آئے تو مگر پھر وقت پیسے اسٹیٹس کی بھول بھلیوں میں کہیں دور جا نکلے ……مگر آپ نے جس بات کو حق جان کر قبول کیا پھر آپ اسی کے ہو کر رہ گئے. دو کف جو کبھی آپ کی کشتی امید کا ساحل نہ بن سکے۔ سادہ باوقار بے نیاز زندگی سفر جدوجہد کوشش امکانات چیلنجر مقابلے جھپٹنا پلٹنا اور مسلسل کشمکش آپ کے ہم سفر تھے آپ نے دنیا کی طرف کبھی پلٹ کر نہ دیکھا کچھ نہ بنایا بس جو ہو سکا سب آگے بھیج دیا ……….

سید صاحب …….مجھے یقین ہے آپ نے دنیا کو جنت بنانے کے بجائے جنت کو ہی اپنی جنت بنانے کا جو فیصلہ کیا تھا ، وہ نفع کا سودا تھا سو اب اپنے سودے کی کامیابی پر اپنے مہربان رب کی ضیافت اٹھائیے اللہ آپ سے راضی ہو۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں