میں تجھے کس پھول کا کفن دوں – سمیحہ راحیل قاضی




دل کر رہا ہے عائشہ باجی کے پاس اڑ کر پہنچ جاؤں جیسے وہ جمیل کے فوت ہونے کی اطلاع ملتے ہی میرے پاس پہنچ گئ تھیں …… میں تو انکی محبتوں کی سر تا پا مقروض۔ امتل خالہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے لاہور کے دورہ سے واپس آکر ابھی گھر میں داخل ہو کر برقع اتارا ہی تھا کہ جمیل کے انتقال کی خبر ملی اور عائشہ باجی کا فون آگیا کہ مجھے راحیل کے پاس جانا ہے ۔
اسی وقت ہی جہاز کی ٹکٹیں لیں اور پہلی دستیاب فلائیٹ سے واپس لاہور پہنچ گئیں ۔عائشہ باجی میں بھی آپکے پاس ایسے ہی آنا چاہتی ہوں اور مجھ سے زیادہ آپکے غم کو بھلا کون سمجھ سکتا ہے . اپنے بہت ہی محترم بزرگ کے لئیے وہی شعر جو آغاجان کے لئیے کسی نے مجھے بھیجا تھاجب وہ جنوری کی ایک یخ بستہ رات اسی طرح رخصت ہو گۓ تھے۔
میں تجھے کس پھول کا کفن دوں
تو جدا ایسے موسم میں ہوا کہ درختوں کے ہاتھ خالی ہیں
کرونا کی اس وبا کے موسم میں جب ملنا ، سفر کرنا ، جمع ہونا بھی ممنوع کر دیا گیا ہے۔عائشہ باجی ہم آپ سے گلے مل کر آپ کا غم جو ہمارا بھی ہے نہیں بانٹ سکتےمگر میں ہر جگہ آپکا ذکر کرتی ہوں کہ آپ اور آغاجان نے جماعت اسلامی کو ایک پارٹی کی بجاۓ ایک خاندان بنا دیا ہے۔ آج جماعت اسلامی کے ہر گھر میں ایسا ہی غم ہے جیسے اپنے خاندان کا بزرگ چلا گیا ہو۔اللہ ان سے راضی ہو جاۓ اور آپکا ، طلحہ اور فاطمہ بیٹی کا حامی وناصر ہو …….

اپنا تبصرہ بھیجیں