سید منور حسن رحمہ اللہ – الطاف جمیل ندوی




!……‏انا للہ وانا الیہ راجع
سید منور حسن ایک عہد کا نام ہے انہوں نے سعادت کی زندگی گذاری اور وبائی مرض کی وجہ سے شہادت کی موت نصیب ہوئی . وہ حق گوئی و بے باکی کی بہترین مثال تھے ان کی مثال کچھ ایسی تھی جیسے کہہ رہے ہوں کہ

ہم چمن میں رہے یا قفس میں رہے
اپنی خوددار فطرت کی بس میں رہے

کل جوں ہی نماز جمعہ سے فارغ ہوکر گھر لوٹ آیا ……. لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظر پڑی تو جیسے زمین ہل رہی ہو . سکرین پر نظریں جمائے ہوئے سکتے کے جیسے عالم سے ہوش آیا تو آنکھوں سے چھن چھن آنسو بہہ رہے تھے ……کیونکہ کچھ دنوں سے یہ سن رہا تھا کہ وہ غم کا مارا خود بھی غم زندگی سے جدوجہد کر رہا ہے. بیمار ہے اسپتال میں زیر علاج ہے….. آئی سی یو میں ہے. پر یہ سوچ کر کہ اللہ خیر کا معاملہ فرمائے گا دل کو تسلی دیتا رہا ……. پر آج اک بجلی کی چمک نے میرے روحانی مرشد کو مجھ سے دور بہت دور کردیا .جس کی زمین اس کے دل کی رفیق تھی جس کا لہجہ گر چہ بڑا گرم تھا جس میں دھاڑ تھی پر دل کا وہ بہت پیارا تھا امت پر جب بھی کوئی آفت آئی تو مرشد تڑپتا اس کے اپنے دیس میں کسی پر ظلم ہوا تو یہ تڑپ اٹھا اس نے کبھی ظالم کی حمایت جان کے ڈر سے نہ کی آہ آج دکھ و کرب سہہ سہہ کر وہ دنیا سے کوچ کر گیا.

آئے وہ جو اس کے وطن کے باسی ہیں
اب تمہارے لئے کون تڑپ جائے گا
کون اعلان کرے گا کہ میں باطل سے نہیں ڈرتا
کون تمہارے حق کے لئے لاٹھی اٹھا کر چل پڑے گا
کون تمہارے غریبوں کی بات کرے گا
وہ جو درد دل کا مالک تھا
سنا ہے اسے اپنے خالق نے اپنے پاس بلا لیا ہے
وہ اب اس دیار سے کوچ کر گیا ہے
اف یہ کرب کی خبر دل پر بجلی بن کر گر گئی
میں اپنا حال دل نہیں کہہ سکتا
کیوں کہ مجھے اس درویش خدا مست قلندر
سے عقیدت تھی محبت تھی اس کی باتیں عزیز
تھی پر اب جبکہ داغ مفارقت دے کر چلا گیا
تو کیسے مان لوں مجھے اس مرد درویش کی یاد نہیں ستائے گی
اس کی یاد آتی رہے گئی آنسوؤں کی سوغات لے لے
کر پر کیا کروں کچھ بھی سمجھ نہیں آتا
چلو رب الکریم کی مرضی کے آگئے کیا کیا جائے
وہی تو ہے جو ہم سب کا خالق و مالک و مختار ہے
بس ……..!
التماس ہے میری میرے رب سے
یاربی میرے مرشد کو اپنی رحمتوں کا سایہ
عطا فرما میرے مرشد کی قبر بقعہ نور بنا دے
یاربی یہ میرا مرشد تیرے نام سے ہی دنیا
سے بیگانہ سا ہوگیا تھا
یہ ستم رسیدہ اب تیرے در پر آچکا ہے
یاربی یہ مسافر دنیا کا تھکا ماندہ چل پڑا ہے
یا ربی اس کی دستگیری فرمانا
اسے اپنی محنت کا نیک بدلہ عطا فرمانا
اس کی خطاؤں سے درگزر فرما یا ربی

استاد منصوری صاحب کہتے ہیں ….:
آقا ص فرما گئے تھے اللہ جس سے محبت کرتا ہے اس کے لئے بندوں کے دلوں میں محبت پیدا کر دیتا ہے عجیب بے باک و جی دار شخص تھا جس سے محبت کا اظہار کرنے والے مجھے لمبی مسافتوں میں نہ جانے کہاں کہاں ملے۔۔۔!کراچی کے مسافر کا زکر سن کر پوچھتے کہ وہاں ہمارا ایک سید بستا ہے وہ کیسا ہے ؟ ممکن ہو تو اس کا ہاتھ چومنا اور ہمارا سلام کہنا کہ دور دیس کے باسی پہنچ نہیں سکتے مگر اس سے پیار ضرور کرتے ہیں۔۔

سید صاحب یہ پیار ،یہ دور دور تک پھیلی اس محبت کی خوشبو دنیا میں اس قربانی کا انعام ہے جو آپ نے دو عالم سے خفا ہو کر دی تھی کہ جب سوشلزم سے ٹوٹ کر یہ ہیرا اسلام کی گود میں گرا تھا ۔۔ ! سید صاحب آپ کے دائیں بائیں کتنے تھے جو آپ کی طرح اس کیمپ میں آئے تو مگر پھر وقت پیسے اسٹیٹس کی بھول بھلیوں میں کہیں دور جا نکلے مگر آپ نے جس بات کو حق جان کر قبول کیا پھر آپ اسی کے ہو کر رہ گئے دو کف جو کبھی آپ کی کشتی امید کا ساحل نہ بن سکے۔۔۔ سادہ باوقار بے نیاز زندگی سفر جدوجہد کوشش امکانات چیلنجر مقابلے جھپٹنا پلٹنا اور مسلسل کشمکش آپ کے ہم سفر تھے آپ نے دنیا کی طرف کبھی پلٹ کر نہ دیکھا کچھ نہ بنایا بس جو ہو سکا سب آگے بھیج دیا

سید صاحب مجھے یقین ہے آپ نے دنیا کو جنت بنانے کے بجائے جنت کو ہی اپنی جنت بنانے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ نفع کا سودا تھا سو اب اپنے سودے کی کامیابی پر اپنے مہربان رب کی ضیافت اٹھائیے اللہ آپ سے راضی ہو۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں