سیدی،ہم آپ سے مخاطب ہیں – سمیرا غزل




نجانے کتنی ہی ہاتھ ایسے ہوں گے جو آپ کے مصافحے کی خوشبو سے مہکتے ہوں گے۔ کتنے ہی سینے ایسے ہوں گے جو آپ کے معانقے سے مصفی ہوئے ہوں گے……. کتنے ہی کان ہوں گے جن میں آپ نے اذانیں کہیں ہوں گی ….. کتنے ہی نکاح ہوں گے جو آپ نے پڑھائے ہوں گے …… کتنے ہی لوگوں نے گفتار کا سلیقہ آپ سے سیکھا ہوگا۔
کتنے ہی لوگوں نے حروف میں چاشنی بھر کر لفظ برتنا آپ سے سیکھا ہوگا ……. کتنے ہی لوگوں کو ناز ہوگا کہ آپ کا دست شفقت پایا …… کتنے ہی لوگوں کا دامن آپ کے دامن سے راہ یاب ہوا ہوگا ……. کتنے ہی بے راہ ہوتے آپ کے درس سے ہدایت پر آئے ہوں گے ……… کتنے ہی خود کو آپ کا سب سے قریبی سمجھتے ہوں گے……. کتنے ہی لوگ ہوں گے جنھیں محبت الہی کے چشمہ صافی کے جام آپ نے پلائے ہوگے اور اس سے ان کے دلوں کو دھویا ہوگا۔ زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ ہے گواہ ہے گواہ رہے گا کہ سیدی! آپ نے اپنی ذات کو کارواں بنایا ہے،سیدی!آپ کے کردار کو نمونہ عمل بناتے ہوئے کتنے ہی لوگ اسلام دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہوں گے اور کتنے ہی راہ عشق پر چلتے ہوئے متحدہ جیسی فاشسٹ تنظیموں کے عقوبت خانوں سے سرخرو ہو کر لوٹے ہوں گے کچھ شہید ہوں گے کچھ غازی ہوں گے۔
کتنے ہی کشمیر کی گلیوں میں کشمیر کی بیٹیوں کی عصمت پر قربان ہوئے ہوں گے۔ سیدی! لوگ کہتے ہیں آپ چلے گئے میں کہتی ہوں کہ آپ نہیں گئے،آپ تو زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے آسمان کے سب تارے گواہ ہیں کہ آپ آسمان پر سب تاروں میں سب سے زیادہ چمکنے والا تارا ہیں،آپ دنیا میں ایک ایسی کہکشاں چھوڑ کر گئے ہیں جو روشنی کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ چاند بھی عینی شاہد ہے کہ آپ نے اپنی حلاوت سے اپنا جادہ سفر پیچھے آنے والوں کو منتقل کردیا ہے۔ ایک ایک پتہ،بوٹا،ڈالی دالی گواہ ہے کہ آپ مہک رہے ہیں،چمک رہے ہیں،لہلہا رہے ہیں دلوں میں ذہنوں میں عمل کا چھتنار درخت بن کر۔ سیدی! گنتی نہیں کی جاسکتی کہ کن گلیوں میں آپ کے تیار کردہ سپاہی حق پر جان دینے کے لیے تیار ہیں۔ سیدی کون بتا سکتا ہے کہ صرف آپ کے بیٹے ہی نہیں بیٹیاں بھی بہت بہادر ہیں جب جب ضرورت پڑتی ہے وہ سر اٹھا کہ باوقار آگے بڑھتی ہیں۔ سیدی! فلک کی سرخی آپ کے اس پسینے کی گواہ ہے جو راہ خدا میں ٹپکا ہے۔
سیدی!آپ نے منافقت سے پاک لوگ تیار کیے۔ سیدی!آپ نے کھرے اور کھوٹے کی پہچان کی اور ایک ایسی کھیپ تیار کی جو حق کو پہچان سکے اور اس کے حصول کے لیے جان دے سکے۔ سیدی آپ نے زمانے کے روایتی چلن کو توڑ کر بت شکنی کی بنیاد رکھتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ کی یاد تازہ کی۔ سیدی!آپ نے قاتلوں کی پہچان کرنی سکھائی . سیدی!آپ نے گھاٹے کی سودا گری سے نجات دلائی ….. سیدی آپ نے فاطمہ جیسی بیٹی اور طلحہ جیسے بیٹے کی تربیت کی ان کی شادیاں کرتے ہوئے نئ مگر حقیقی صورت گری کی۔ سیدی! لوگ کہتے ہیں کہ آپ چلے گئے نہیں میں کہتی ہوں کہ آپ دلوں میں دماغوں میں نظاروں میں زندہ ہیں۔ فاطمہ کے علاوہ آپ کی بے شمار بیٹیاں ہیں طلحہ کے علاوہ بے شمار بیٹے ہیں جو آپ کے مشن حنیفی کو تھامے ہوئے ہیں جن کی نظریں مقصد پر گڑی ہیں کہ آپ نے انھیں یہی سکھایا آپ ان سب کی صورت زندہ ہیں۔ آپ شہید ہوجانے والوں کے نقش پا اور ان کی اولاد کے اچھے اعمال کی صورت میں زندہ ہیں دیکھیے سیدی ٹہل رہے ہیں،دیکھیے سیدی چل رہے ہیں دیکھیے سیدی جنت کے بالا خانوں سے جھانک کر اپنے سپاہیوں کی پیشانی پر بوسے ثبت کر رہے ہیں۔
وہ دنیا میں اپنے بنائے کرداروں میں زندہ ہیں۔ جنت میں خدا کے ناز و نعم میں تابندہ ہیں۔ کون کہتا ہے سیدی نہیں رہے سیدی اپنی نذر پوری کرچکے ہیں بات بس اتنی ہے اور ہاں وہ تھکے بھی نہیں تھے وہ تھکنے والوں میں نہیں ان کا سفر بے شک کڑا تھا مگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنھیں باد مخالف کی تندی مزید اونچا اڑاتی ہے۔ جنھیں مشکلیں بڑا آدمی بناتی ہیں۔ بڑا آدمی رب کی جنت میں بڑے مقام پر فائز ہوگیا ہے سیدی زندہ ہیں راہ خدا پہ چلتے چلتے جان سے گزرنے والے مرتے نہیں ہیں بات بس اتنی ہے کہ وہ اپنی نذر پوری کر چکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں