مجرد اورہم – قانتہ رابعہ




کرونا کے فائدے اور نقصان دونوں پلڑے میں ڈالے جارہے ہیں اور بہت مدت مذید تک ڈالے جاتے رہیں گے ……. فائدہ ہو یا نقصان بہرحال ایک بات مسلم ہے کہ کووڈ – 19 نے ہم جیسے نکموں کو میڈیا ایکسپرٹ بنانے کا ارادہ کیا ہوا ہے اور اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ کرونا کب جاے گا تو آنکھیں بند کر کے جواب دے دیں ۔ جب سب پاکستانی آی ٹی ایکسپرٹ ہوجائے گی …….!
ہم بھی آج کل اسی عالم میں ہیں کہ کبھی زوم کے بند قلعے میں جھانکنے کا کہا جاتا ہے اور کبھی واٹس ایپ پر اجتماع ارکان کے ایجنڈہ پر عمل پیرا ہونے کے لیے کمر کس لی جاتی ہے ۔ ابھی کل ہی کی بات ہے……. واٹس ایپ پر ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ارکان کی دستور ڈسکشن تھی . عام لفظوں میں دستور فہمی کی کلاس ۔ یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں …….. مہینے بھر سے ہم اسی دو انچی سکرین پر ہی تفسیر اور مطالعہ کے علاوہ بڑے بڑے معرکے سر انجام دے رہے ہیں ۔ مسئلہ تو تب ہوا جب سیدھی سادھی جماعت کے سیدھے سے دستور کی دفعہ پندرہ …… سولہ …… سترہ پر ہمارے دماغ کی سوئی اٹک گئی ۔ مرکزی نظم اور امیر جماعت کی تعریف پڑھتے پڑھتے ایکدم امیر محترم کے انتخاب میں ایک لفظ تھا ……. مجرد اکثریت سے منتخب کیا جاے گا .
ہم نے دوبارہ اور سہہ بارہ آنکھیں مل مل کے دیکھا لفظ یہی تھا ۔ بس ایک لمحہ کو سوچا کوئی بات نہیں …… فقرہ یہی تھا . انتخاب میں مجرد اکثریت فیصلہ کن ہوگی . لیجئیے جناب نیا محاذ ….! مال اور جان سے نہ سہی لفظوں کے میدان میں ہی جہاد کا موقع مل رہا تھا . کیوں ضائع کرتے ، دوچار منٹ مجرد اکثریت کو معنی مطلب کے ساتھ لائن حاضر کیا ۔ اگر تو یہ جراد سے ہے یعنی ٹڈی ۔ تو دستور تو قیام پاکستان کے فوری بعد بناھا کرونا والے ٹڈی دل کا یہاں کیا مزکور ……. اونہوں کہہ کے یہ مفہوم پس پشت ڈالا . مجرد. چھڑا ۔ کنوارہ کے مطلب میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے . سید مودودی نے امیر جماعت کے انتخاب میں کنواروں کو اتنی اہمیت کیوں دی ؟؟ ایکدم ذہن میں جھماکا سا ہوا ۔ یہ صلہ رحمی کا کیا مطلب اگر فائدہ نہ اٹھایا جاے ۔۔ہم نے فوری طور پر اپنی ماموں زاد بہنوں کے نمبر نکالے اور سوال داغا ۔ چونکہ ماموں زاد بہنوں کی عقل اور علم ہم سے کئی ہاتھ کیا…… کئی گز بلکہ کئی کلومیٹر آگے ہے ، لہذا امید تھی تسلی بخش جوابلے گا اور الحمد لله جواب مل بھی گیا مگر مجرد کے بعد جواب کے خانے میں خالص اکثریت لکھا تھا.
بس ایک لمحہ کے لیے دل باغ باغ ہوا ۔ جواب لکھنے بیٹھے تو امیر جماعت کے انتخاب میں ……. خالص اکثریت ، کچھ انسیت سی محسوس نہ ہوئی . حفظ ماتقدم ہم نے اپنی علم سےبمالا مال سہیلیوں کو بھی یہ مہسج بھیج دیا تو ایک علم دوست نے جوادیا ۔ واہ واہ ……! ہم نے اپنے آ کو عقلمند قرار دیا ۔ مگر جب فقرے میں ان کا بھیجا مفہون سمونا چاہا تو فقرہ بری طرح سے خفا ہوگیا …….. ہونا بھی چاہئے تھا کہ امیر جماعت کے انتخاب میں اکیلوں کی اکثریت کچھ گراں سا تھا . اکیلوں کی اکثریت ؟؟؟ ہم نے اب اپنی واٹس ایپ ر رکن اسمبلی دوست سے رابطہ کیا ۔۔بات تو کوی خاص نہیں مگر جس لفظ کا مطلب آپ کو خود نہ پتہ ہو آپ کا ضمیر اسکی وضاحت کرتے ہوے کیسے مطمئن ہوسکتا ہے اور آپ سے کیا پردہ …….. ڈاکٹر اپنی گفتگو میڈیکل اصطلاحات کی روشنی میں کرتا ہے وکیل وکالت کی زبان میں تو پہلی مرتبہ علم ہوا ایک رکن اسمبلی بھی گفتگو میں اسمبلیانہ طور طریقے ہی رکھے گی . ان کا جواب ملاحظہ فرمائیے ۔ یہ وہ لفظ ہیں جن کے متضاد یا متمم نہیں پائے جاتے۔ مثلاً تمباکو ، وقت ، کاغذ ، گنتی وغیرہ۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں ہر شے کی ضد بنفسِ نفیس موجود نہیں ۔ اکثر ضدین ایک مخصوص تناظر میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کے لیے زبان میں کوئی لفظ اس حوالے سے مخصوص نہیں ہوتا ۔ چوری اسی قسم کا ایک لفظ ہے ۔ یہ دراصل ایک واقعہ ہے جس کا الٹ محض اس واقعے کا نہ ہونا ہے ۔ مگر خاص اس واقعے یعنی چوری کے نہ ہونے کے لیے الگ سے کوئی لفظ شاید ہی دنیا کی کسی زبان میں موجود ہو۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو کسی لفظ سے متعلق کسی اور لفظ کی تلاش ہے تو پہلے تو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس کا متضاد ممکن بھی ہے یا نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو متضاد کی بجائے متمم کی ضرورت ہو۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا بھی کوئی لفظ نہ ہو اور آپ کے زیرِ غور لفظ مجرد ہو۔
قارئین یہ یے وہ مفصل جواب جو ہمیں ان کی طرف سے موصول ہوا ۔۔سچی بات ہے مضمون کے سیاق و سباق سے بڑھ کے ہم تو اپنی دوست پر صدقے واری جارہے تھے جس نے اپنی مختصر سی فانی زندگی کے اتنے لمحات ہمارے نام کیا اور ہمیں جراد مجرد کی شرح سمجھایئی ……. پر کتھوں مسئلہ تو جوں کا توں تھا . ہم نے سوچا سمندر کی وسعت اہالیان کراچی کے علم کے مقابلے میں بھلا کیا حیثیت رکھتی ہے ۔ ہم نے وہاں کی ارکان جماعت سے مدد طلب کی ……اللہ کا شکر ہے فوری کمک ملی ۔۔۔۔ سادہ اکثریت ……. اب کہنے کو تو سادہ اکثریت سے سب سمجھ میں اجانا چاہئے مگر کلاس کے طلبہ کی طرح ارکان کی ذہنی سطح بھی ایک جیسی نہیں ہوتی اگر ہم سے کسی سادہ سی رکن جماعت نے سوال کیا باجی سادہ اکثریت کسے کہتے ہین تو ہم کیسے وضاحت کریں گے . شاید اس کا جواب ہم ابھی اتنی عمدگی سے سوچ نہ سکتے کہ ہماری دوست نے از خود اس کی وضاحت کر دی . مثال کے طور پر امیر جماعت کے عہدے پر پانچ افراد کو ووٹ ملے .
1۔۔کو ۔۔50 ووٹ
2۔۔کو 15۔۔ووٹ
3۔۔100 ووٹ
4۔۔350 ووٹ
5۔۔کو 2۔۔ووٹ
ان میں سے 350 ووٹ سادہ اکثریت شمات ہوں گے
ہم نے اپنے اشک صاف کیے دل دماغ اور پھیپھڑوں تک سے ان کے دعا کی جمہوں نے ساری الجھن سلجھادی …… مگر ایک الجھن ابھی باقی تھی جماعت اسلامی کی دستورساز کمیٹی میں آیا کوی مجرد بھی تھا جس کی دلجوی بانی جماعت کو مطلوب ہو یا نہ ہو مگر دستور ساز کمیٹی نے ان چھڑوں کو اتنے حقوق دیئے کہ امیر جماعت کے انتخاب میں ان کی آراء کو سامنے رکھا . کل تک تو ہم سنا کرتے تھے کنوارے اللہ کے پیارے …… امیر جماعت کا انتخاب زوم پاور اللہ کی شان وہ جماعت کو بھی پیارے ہوگئے۔۔ہاں ساتھ میں یہ مت بھولیے کہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ یہ سادہ اکثریت بھی اتنی سادگی سے نہیں لتی ۔ باقی رہے نام اللہ کا

اپنا تبصرہ بھیجیں