مقدس کنکر – عالم خان




یہ تصویر ایک بار وال پر لگائی …….. پھر ہٹائی ، کیوں کہ جب گھر آیا اور گفٹ میں بھیجے گئے تمام ڈبوں کو کھولا تو اس کے اندر ایک تحریر ملی . جسے پڑھ کر کئی دن موزوں الفاظ تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ اس میں ان احساسات ، درد اور امت مسلمہ کی بے غیرتی کی ترجمانی ہو ……. جو مجھے چند سطور میں بھیجے گئے تھے۔ الفاظ نہیں ملے اس لیے اس فلسطینی پیغام کا اعادہ کرتا ہوں۔
استاذ محترم!
آپ کے لیے قبلہ اوّل بیت المقدس سے تین تحفے بھیج رہا ہوں ۔ ایک بیت المقدس کی تصویر جو غاصب اسرائیل کے شکنجے میں وقت کے عمر فاروق ؓ اور صلاح الدین ایوبیؒ کی راہ دیکھ رہا ہے ۔ ساتھ ایک کلو کھجور بھی ہے، جس کا حجم اور ذائقہ دیکھ کر آپ حیران ضرور ہوں گے کہ اتنی بڑی ، میٹھی اور خوشبودار کھجوریں کہاں سے ملتی ہیں تو آپ کو بتاتا چلوں کہ : اس کے باغات اور درخت ہمارے آباء واجد نے لگائے تھے . اس کے مالک ہم تھے ہمارے نام سے دنیا کی مارکیٹوں کو سپلائی کی جاتی تھیں . آج ہمیں انہی باغات کے قریب سے گزرنے نہیں دیا جاتا ……. دنیا میں جہاں بھی ملتی ہیں تو اس پر لیبل [ٹریڈ مارک] اسرائیل کا لگا ہوا ہوتا ہے . جس کو عالم اسلام کے غیرت مند مسلمان شوق سے خریدتے ہیں۔
پارسل میں ایک چھوٹی سے تھیلی بھی ہے ……. امید ہے آپکو پہنچ جائے گی . اس کے اندر کنکری کو سنبھال کے رکھنا کیوں کہ یہ بیت المقدس کے مرکزی دروازے کے سامنے سے اٹھا لایا ہوں . جس کو کئی بار آپ کی ماؤں ، بہنوں اور بھائیوں نے ہاتھوں میں اٹھایا ہے اور اللہ اکبر کے نعرے کے ساتھ ۔۔۔ بیت المقدس کی طرف یہودیوں کے قدموں کو روکنے کے لیے پھینکا ہے، اپنی جانوں اور عزتوں کے تحفظ کے لیے اس کو بطور ہتھیار بھی استعمال کیا ہے ۔
یقین کیجئے! مجھے سب سے پہلے یہی مقدس کنکری مل گئی جو مسلم دنیا کے اسلحہ ، بارود ، میزائل ، طیارہ شکن توپوں اور ایٹم بم سے زیادہ قیمتی اور طاقتور ہے۔ یہ ایک تو القدس کا پتھر ہے ……. دوسرا ہمارے مسلمان بہنوں اور بھائیوں کا ہتھیار ہے اور ہم سب مسلمانوں کی غیرت و حمیت کے لئے ایک للکار بھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں