دعا،عبادت کا مغز- سیدہ ابیحہ مریم




حارث نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیر کر جاۓ نماز اٹھا رہا تھا, جب اس نے دادی جان کی آواز سنی, “حارث دعا نہیں مانگنی کیا؟؟”
“دعا… وہ دادی جان, میں کھیلنے جا رہا تھا!!!”
“ہمم… اچھا اور ظہر کی نماز میں اس لئے نہیں مانگی تھی دعا کیونکہ اسکول کا پڑھنا تھا. ہے ناں ؟؟” اس نے بمشکل سر کو اثبات میں جنبش دی . وہ شرمندہ تھا. “بیٹا, ایک بات بتاؤں … یہ جو دعا ہوتی ہے ناں …… یہ عبادت کا مغز ہوتی ہے اور اس کے بغیر ہماری عبادات مکمل نہیں ہوتیں. ہم جب اللہ تعالی سے دعا مانگتے ہیں تو ہمارا اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے . تم کوشش کیا کرو کہ ہر نماز کے بعد دعا ضرور مانگو تاکہ تمہارا بھی اللہ سے تعلق اچھا ہو جاۓ.”
دادی جان نے پیار سے سمجھایا تو حارث سر ہلا کر پھر سے جائے نماز بچھانے لگا. وہ جانتا تھا کہ اسے دعا کے ذریعہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں