آپ کے بچے اغوا ہورہے ہیں! – محمد اسعد الدین




ڈیئر پیرنٹس پلیز الرٹ۔۔۔۔۔آپ کے بچے اغوا ہورہے ہیں !!مان لیجئے،یہ با ت بالکل صحیح ہے، لیکن ایک منٹ ٹھہریے،یہ ویسا اغوا نہیں جیسا آپ اخبارات میں پڑھتے اور ٹی وی پر دیکھتے اور سنتے ہیں،یہ اغوا کی نئی ٹائپ ”اسمارٹ کڈنیپنگ“ہے،اغوا کی یہ واردات کرنے والے انسان نہیں،یہ ہر وقت آپ کے گھر اور زیادہ تر استعمال میں رہنے والے کمپیوٹر اور موبائل ہیں۔

بچوں کے اغوا کی واردات کے نئے اسٹائل میں بچے فزیکلی پیرنٹس کے ساتھ موجود ہوتے ہیں لیکن ان دل،دماغ،جذبات،احساسات اورخیالات خاموشی سے اغواہورہے ہیں ، پیرنٹس یہ چند چیزیں دیکھ لیں باقی اسٹوری خود سمجھ آجائے گی ۔ خاندان کی ٹوٹ پھوٹ اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے ریسرچ کرنے والے ادارے ”فارایور“کی فائینڈنگس کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے کا ذہن شروع میں ایک وائٹ پیپرکی طرح ہوتا ہے، اس لیے وہ سب سے پہلے جو بھی چیز دیکھتا ہے،سنتا ہے اپنے مائنڈ میں محفوظ کرکے آٹوم  اپنا”برین پیٹرن“بنانا شروع کردیتا ہے،یہی برین پیٹرن اس کی عادات اور رویے بناتا ہے۔ پیرنٹس نے اپنے آپ کو فری اور بچے کو مصروف رکھنے کے لیے بچے کے ہاتھ میں موبائل پکڑایا بچے نے کارٹون دیکھنا شروع کیے،ساتھ ہی سیکھنے لگا۔۔۔

کسی کوبلاوجہ تنگ کرکے ”انجوائے کرنا“۔
اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے ”جھو ٹ بولنا“۔
ہر وقت جلد بازی کا مظاہرہ،یعنی ”بے صبری کی لرننگ“۔
اپنی خواہش /سوچ کو پورا کرنے کے لیے ضرورت ہو تو ”کرمنل ٹولز“استعمال کرنا۔
مرضی کے خلاف فیصلوں پر من مانی یعنی ”بغاوت“۔
کارٹون کریکٹرکا (بچے،بچیوں کی شکل میں)مختصر کپڑے پہننا،آپس میں گلے ملنا یعنی۔۔۔۔۔ ”vulgarity cultureکا انٹروڈکشن“۔

یہ لمبی لسٹ ہے لیکن فی الحال تھوڑا ٹائم نکالیں،اپنے بچوں کی عادتوں،رویوں اور مزاج کو دیکھ لیں اورساتھ ہی ”اسمارٹ اغوا“کی ان چند ٹیکنیکس پر غور کرلیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں