آیا صوفیا کی خریداری کے کاغذات – عالم خان




ترکی کی انتظامی عدالت کے حکم کے بعد بعض لوگ آیا صوفیا کی ابتدائی حیثیت کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں کہ ……. ۱٤٥٣ء میں اس کو مسجد بنانا درست نہیں تھا اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ فقہ کی کتابوں میں سے ایسا کوئی قول پیش کیا جائے ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنا جائز ہے ۔
میں نے اس کا تذکرہ کیا تھا کہ ۱۹۲۸ء تک دنیا کا دستور یہی تھا اور اسی طرح قرطبہ و غرناطہ کی کئی مساجد کو چرچوں میں تبدیل کیا گیا تھا ، لیکن بعض سنجیدہ دوستوں کا مطالبہ ہے کہ وہ بھی غلط اور یہ بھی غلط ہے . ان سے گزارش ہے کہ ……. بزور شمشیر (عنوۃ) اور بزور “صلح” جو مفتوحہ علاقے مسلمانوں کے پاس رہے ہیں ، ان کے احکام میں فرق ہے . اس لیے دونوں کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے آیا صوفیا پر رائے دیں کیوں کہ بزور شمشیر جو علاقے فتح ہوئے ہیں، اس میں تصرف کا اختیار فاتح کے پاس ہوتا ہے . جیسا کہ ابن قیم الجوزیہ (ت ٧٥١ھ) نے احکام أھل الذمہ ۱۲۰۰/۳ میں لکھا ہے ۔ اگر قرون اولیٰ کے کسی فاتح نے چرچوں کو بحال رکھا ہے تو وہ احسان کی مثالیں ہیں کہ مسلمان فاتحین نے اس وقت کے ذمیوں پر احسان کیا تھا . کیوں کہ وہ قانون کے پاسدار تھے . جزیہ دیتے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ خوش تھے . اس لیے ان کے عبادت خانوں کو اسی حال پر چھوڑا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر فقہاء نے “جاز” کے الفاظ استعمال کیا ہے کہ اگر چرچوں کو اپنے حال پر چھوڑا جائے تو جائز ہے . اس کا مفہوم مخالف یہ ہرگز نہیں کہ اگر حثیت تبدیل کی جائے تو حرام ہے اور آج بھی ہمارا یہی ماننا ہے کہ اگر خلیفہ وقت کے مطابق مصلحت اس میں ہے کہ وہ بزور شمشیر مفتوحہ علاقوں کے چرچوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں . تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ جائز ہے اور مثالیں موجود ہیں ۔ رہی بات آیا صوفیا کی تو …….. اس کی تاریخ اور ہے. ترکی کے مستند تاریخی وثائق کے مطابق سلطان محمد الفاتح نے ١٤٥٣ء میں فتح کے بعد اس میں پہلا جمعہ پڑھایا تھا . لیکن اس کو رسمی طور پر جامع میں تبدیل نہیں کیا تھا . اس وقت کے اہل علم کے ساتھ جو احناف ہی تھے . ان کے ساتھ مشورہ کیا اور آیا صوفیا کو اپنے زاتی پیسوں سے خریدا . جس کی رسیدیں اور کاغذات تاحال موجود ہیں اور سرکاری فرمان جاری کیا کہ آج سے یہ وقف ہے. کسی کو بھی اس زمین کو مسجد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کی اجازت نہیں اگر استعمال کیا گیا تو اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔
محترم بیرسٹر ظفر اللہ خان صاحب نے سوال کیا کہ استنبول فتح ہوا تو کس سے خریدا گیا تو اس کا جواب یہ ہے……. استنبول فتح کی تاریخ بتاتی ہے کہ سلطان محمد الفاتح نے کوئی خون ریزی نہیں کی تھی . حکومت نہیں تھی لیکن یہاں عرصہ دراز تک عیسائی موجود تھے . جو ان ممتلکات کے دعویدار تھے جن سے یہ خریدا گیا تھا اور یہ کوئی نئی بات نہیں کہ عیسائیوں سے مسلمانوں نے چرچ خریدا ہو. عصر قریب میں ہی اس کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب حکومت وقت نے آیا صوفیا کو میوزیم بنانے کے مصطفی کمال اتاترک ۱۹٣٤ء کے حکم کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کو کوئی دشواری کا سامنا کرنا نہیں پڑا . اور نہ عدالت کو فیصلے میں کوئی تردد کا، کیوں کہ اس کی ملکیت کے کاغذات موجود ہیں .
جس کا تقریبا ہر ترکی کو علم ہے اس لیے فیصلہ سے قبل و بعد مخالف سیکولر پارٹیوں نے پر زور مخالفت بھی نہیں کی بلکہ کئی سیاستدانوں نے اس کی تحسین کی یہاں تک کہ سابقہ صدارتی امیدوار محرم اینجہ جو نظریاتی کمالسٹ ہے اس نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے دعوت دی گئی تو میں بھی افتتاحی تقریب میں نماز پڑھنے آیا صوفیا جاؤں گا۔
نوٹ: یہ سند بعد میں سرکاری ریکارڈ کے لیے لاطینی حروف میں تحریر کی گئی ہے اور اصل کے ساتھ موافق کی تصدیق کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں