ہم ماتم سرا – صدف عنبرین




ہم بحثیت قوم جہاں کچھ مخصوص مزاج رکھتے ہیں وہاں ہماری اکثریت نوحہ کناں ہیں، جی کچھ تو اس عمل کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں اور باقی تعزیت کا، میری مراد ہرگز بھی کسی مخصوص فرقے سے نہیں یہ لوگ ہر فرقے میں ہیں ہر اجتماع میں، ہر مجلس میں ، ہر محلے میں بلکہ اگر میں کہوں تو شاید آپ کے اپنے خاندان میں بھی نظر آ جائیں گے۔
آپ کو ان کی تلاش میں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ان سب کی ایک ہی مخصوص نشانی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب حادثوں کے کے منتظر رہتے ہیں ،جی صحیح پہچانا! افتخار عارف کا باروہاں کھلاڑی …….. کہیں حادثہ ہوجائے ……… کوئی سانحہ ہوجائے ……… پھر میں بھی کھیلنے نکلوں …….. تالیوں کی جھر مٹ میں ! آج کل تواتر سے لوگوں کے تعزیتی کالم نظر سے گزر رہے ہیں ایک ایسے شخص کے دنیا سے. چلے جانے کی تعزیت جس کی ناقدری کے جرم میں اہل کراچی سر فہرست رہے ہیں،اب درویشی بھی یاد آتی ہے اور فقیری بھی اور الیکشن میں کھڑے ہم کہ رہے ہوتے ہیں کہ “کون ہے جو کرپشن سے پاک ہے ,سب ایک سے ہیں” اب ریمینڈویس کی کتاب جسے شائع ہوئے سالوں گزر گئے کےحوالے یاد آرہے ہیں ،” کہ منور حسن وہ فرد واحد رہ گیا تھا جو میری رہائی میں رکاوٹ تھا”
ایک سید صاحب ہی کیا اس قوم نے کسی مسیحا کی قدر نہیں کی پھر اس کے مرثیے لکھے بالکل اسی طرح جسطرح ڈھاکہ میں سرینڈر کے بعد بازو کٹنے کا درد لیےپھرتے ہیں۔ بلوچستان سے مسلسل ناانصافی کے بعد اسٹاک ایکسچینج جیسے واقعات ہر دل پکڑے بیٹھ جاتے ہیں۔
ہمارے مزاج میں ماتم سرائی ہے ہم موقعے پر حق کا ساتھ دینے سے گھبراتے ہیں ہاں گریباں چاک قتل حق کے بعد نکلنے والے ہم ہی اول ہونگے۔ کے الیکٹرک کے مظالم ہوں یا پیڑول مافیا کے ستم ، ہم اہنے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کہ وہ تجزیے پیش کرتے ہیں کہ وفاقی وزیر بھی سن لے تو عش عش کر اٹھے ہاں اب ہم حافظ نعیم کی طرح کراچی کی سب سے گرم دوپہر میں اپنے سر پھروں کے ساتھ شاہرائے فیصل پہ احتجاج ریکارڈ نہیں کراسکتے یوں بھی ان کے احتجاج اور کورٹ میی پٹیشن دائر کرنے سے جو فائدہ کراچی کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے اس سے تو ہم سب مستفید ہو ہی جائیں گے۔ اسی مزاج کے لوگ آپکو میڈیا میں بھی مل جائیں گے کوئی پاکستان کے تباہ و برباد ہونے کی داستان سنا رہا ہو گا کوئی حکومت کا آج ہی رات تختہ الٹنے کی پیشن گوئی کررہا ہوگا،
آہ! کوئی تو آج ہی کی رات انڈیا ہاکستان کی جنگ بھی ایسے منعقد کرادیتا ہے جیسے جنگ نہ ہو انڈیا پاکستان میں میچ ہو۔ ہاں اگر بات مرثیے لکھنے ،نوحے پڑھنے ،سینہ کوبی کرنے سے آگے بڑھ جائے اور حادثہ ہونے سے پہلے،مہرباں گزر جانے سے پہلے اگر ضرورت قوم ہو!! تو پھر اسے خواب خرگوش میں تلاش کریں اس کے سوا یہ ماتم سرا اور کہیں نہیں ملیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس کا ادراک ہمیں ہر مشکل گھڑی میں ہوتا ہے کہ مسائل کے انبار اور وسائل کی عدم دستیابی کے وقت کون ہوتے ہیں …….. جو سینہ سپر رہتے ہیں اکثریت مایوسی اور نا امیدی کی ایسی تصویر کشی کرتی ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب کچھ بھی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جیسے ہمارے ایک عزیز نے تو پاکستان میں کرونا کی آمد کے پہلے ہی ماہ فرمادیا تھا ،گھر گھر میں مریض ہونگے ،ہر گلی میں میتیں ہونگیں استغر اللہ!
پھر ایس او پیز کو سازش قرار دے کر شہر بھر میں لاک ڈاون میں بھی خوب گھومے …….. جب وبا بڑھ گئی تو کہنے لگے میں نے تو پہلے ہی کہا تھا، خیر میرے ان عزیز کو آپ حکمران طبقے میں نییں ڈھونڈئے گا……. مماثلت اتفاقی ہوگی ۔ المیہ یہ ہے کہ کیا ہمارا یہ مزاج اقوام عالم کے درمیان ہماری حیثیت کھونے تو نہیں جارہا کہ اب ہم اگلی صفوں کے بجائے بس لاشوں پہ بین کرتے نظر آتے ہیں ،صرف ماتم سرا اور بس……..!

اپنا تبصرہ بھیجیں