کیا آپ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرنا چاہتے ہیں – محمد اسعد الدین




ڈیئر پیرنٹس …….! آپ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرنا چاہتے ہیں؟ انہیں اچھی اسکلز سکھارہے ہیں؟ گڈ، شاباش۔ بچوں کو ٹیلنٹڈ بنانے کی کوشش ضرور کریں لیکن پہلے گھر میں ایک”آبزرویشن سسٹم“ انسٹال کرلیں اور وقفے وقفے سے چیک کرتے رہیں ورنہ۔۔۔۔ بچوں کے حوالے سے آپ کی ساری کوششیں مٹی میں مل جائیں گی۔
یہ ”آبزرویشن سسٹم“ ، (silent coach) خاموش ٹیچر گھر کا ماحول ہے۔ بچے کی تعلیم کا معاملہ ہو یا تربیت کا،ہماری سوسائٹی میں پیرنٹس کی اکثریت سمجھتی ہے بلکہ عقیدہ رکھتی ہے کہ ہم بچوں کو بول کر سکھاتے ہیں،اپنے ساتھ بٹھا کر،متوجہ کرکے سکھاتے ہیں اور بس۔۔۔۔لیکن یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ ”گھر کا ماحول“ایک خاموش استاد ہے۔۔۔۔۔
صبح جاگنے کے بعد بیڈروم کی ترتیب کیسی رہتی ہے؟
ڈرائنگ روم کی سیٹنگ سلیقے سے ہے کہ نہیں؟
لاؤنج کی تمام چیزیں استعمال کے بعد واپسی جگہ پر رکھی ہوئی ہوتی ہیں یا ادھر ادھر بکھری رہتی ہیں؟
کچن میں کھانا بنانے کے بعد برتن ، شیلف کا سامان دوبارہ ترتیب سے رکھا جاتا ہے یا پھیلا ہوا نظر آتا ہے؟
گھر میں بڑے بات کرتے وقت ”ٹون“ کیسی رکھتے ہیں، سافٹ یا گلا پھاڑ آواز؟
آپس میں بات کرتے وقت ”لیگویج کا اسٹینڈرڈ“ کیا ہوتا ہے؟
گھر کے بڑوں کا سونے،جاگنے کا کوئی وقت ہے یا ہر وقت سونے جاگنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے؟
گھرمیں ناشتے، کھانے کا خاص وقت طے ہے یا اللہ ہی اللہ ۔۔۔۔!
یہ ڈیلی روٹین کے کچھ رویے ہیں . جو گھر کا ماحول بناتے ہیں اور یہ ”خاموش ٹیچر“ بن کر خاموشی سے بچوں کو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ کرنے کے کام یہ ہیں کہ پیرنٹس ایک ڈائری میں ڈیلی روٹین کے کاموں کے اندازکے بارے میں اپنا مشاہدہ غیر جانب داری سے نوٹ کریں ، باقی باتیں اگلے بلاگ میں ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں