فرقہ ملامتیہ! – زبیر منصوری




جنہیں اپنے دین سے چڑ ہے …… جو ہر بات میں سے خود ترسی خود رحمی اور خود شرمندگی نکال لاتے ہیں . جو مسلمان اسلام دین مدارس جہاد خلافت روئیت ہلال ہر بات میں سے تنقیص تنقید کے کیڑے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور منہ تیڑھا کرکے انگلش بولتے ہوئے کسی چوڑے چمار کے جوتے اٹھانے کو بھی راضی ہو جاتے ہیں

اپنی تہذیب پر فخر اعتماد محبت اس کے غالب ہونے ، اس کے برحق ہونے کا انہیں ہر گز یقین نہیں …… ہاں ! اس پر اہل کفر کے جھوٹے سچے الزامات میں انہیں وزن نظر آتا ہے . یہ خاندان ذہنی غلامان کے لوگ دولہ شاہ کے چوہوں جیسا مرعوب ذہن لے کر پیدا ہوتے ہیں . اسی کے ساتھ جیتے ہیں اور اسی میں سسک سسک کر مر جاتے ہیں . مایوسی ناامیدی کم حوصلگی کی الٹیاں کرتے دانشور ، سیدھی بات کے بجائے الفاظ کے گورکھ دھندے میں امت کو الجھائے ہوئے بے پیندے کے لوٹے. اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ شرمندہ معافی تلافی کرتے وضاحتیں پیش کرتے یہ لوگ کاش یہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہی نہ ہوتے اور اگر بد قسمتی سے ہو بھی گئے تھے تو ہوتے ہی مر جاتے۔۔

سن لو یہ محمد عربی کے شیروں کی امت ہے. اپنے رب اپنے رسول اپنی کتاب اپنی تاریخ پر فخر کرنے والوں کی امت ۔ مردوں کی طرح جینے اور حوصلے اور بہادری سے شہادت کا جام پینے والوں کی امت ……. سلطان محمد فاتح جیسے ذہین جرنیلوں کی امت ….. قتیبہ ، ابن قاسم ، طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر جیسے سالاروں کی ، نہ کہ سیسی اور قذافی مشرف اور ایوب ویحی جیسے ضمیر فروشوں کی قوم …… ! تم سب ایک ہی بار سن لو……..

اپنےماضی سےجوورثےمیں ملےہیں ہم کو
ان اصولوں کی تجارت نہیں ہو گی ہم سے
فکر  و  اظہار میں  ہم  حکم کے  پابند نہیں
شاعری حسب ہدایت نہیں  ہو گی  ہم  سے
غیر  مشروط  رفاقت  کے  طلبگار  ہیں  ہم
شرط کے ساتھ رفاقت نہیں ہو گی ہم  سے
سرخ پتھرکےصنم ہوں کہ وہ مرمرکےصنم
بتکدوں میں تو  عبادت نہیں  ہو گی ہم  سے
جھوٹ بھی بولیں صداقت کےپیمبر بھی بنیں
ہم کو بخشو یہ سیاست نہیں ہو گی ہم سے

اپنا تبصرہ بھیجیں