آہ ! ہماری صائمہ سالم – افشاں نوید




بادل بھی خوب کھل کے برسے ہیں …..! شائد ہمارے غم میں شریک تھے۔ تمہارے شہر میں سال میں کوئی دن ایسا موسم اترتا ہے ۔ رات کی ایک جھڑی نے زمین نرم کردی . تمہاری آرام گاہ , خواب گاہ , منٹوں میں تیار …….. ! ہاں وہ خواب گاہ تو نہیں , قبر تو حقیقت ہے ۔ خواب تو یہاں دیکھتے ہیں ہم ……! مٹی سے بنے , مٹی سے جڑے , مٹی پھانکتے لوگ

تھک گئی تھیں ناں !!!! بس اتنا سا سودا تھا ساتھی۔۔۔ اب کوئی تھکن نہیں اب آرام ان شاءاللہ ! تکیہ اپنے اعمال پہ نہیں رب کی رحمت پر۔ چھ ماہ سے زائد ہوئے ہونگے ، جب اس کے گھر گئی تھی ۔ کینسر تو سالوں سے وجود کا حصہ تھا ۔ پوچھا کیا احوال ہیں ۔ ایک قہقہہ ……. بولی اب جو اسٹیج ہے ناں افشاں باجی ، اب سہاروں کی محتاج ہوگئی ہوں ۔ فروزن ہوجاتا ہے جسم کا کوئی حصہ ۔ میں نے کہا جس کے ہاتھ میں شفا ہے اسی سے مانگتے ہیں کامل شفا ۔ بولی مغفرت کی دعا کیجیے گا ، جی لیے بہت …… دس بیس سال اور ہوتے حساب بھی بڑھ جاتا۔بمشکل چالیس برس عمر ہوگی ۔ سفید لباس پہن روانہ ہوگئی ۔ پلٹ کے نہ دیکھا ۔ پرسکون چہرے پر پیام کہ

موت کو سمجھا ہےغافل اختتام زندگی
ہے یہ صبح زندگی , شام دوام زندگی

ایک شام فون آیا ۔ میں نے کہا خوش کردیا دل۔ کچھ آوازوں سے خوشیاں جڑی ہوتی ہیں۔ ہنس پڑی …… آپ یہی بات ہر اک سے کہہ کر میری طرح سواسیر خون بڑھا دیتی ہونگی ۔ سنیں, چار لوگوں سے مشورہ کیا ہے کہ بڑی بیٹی کو جامعة المحصنات داخل کرانا ہے۔ پانچویں آپ ہیں کیا مشورہ دینگی ؟ میں نے کہا بقیہ چار نے کیا کہا ؟ خوشدلی سے بولی ، ویسے بہت چالاک ہیں آپ ۔ میں نے کہا, جانے دو۔۔۔ میرا مشورہ ہے کہ ہرگز نہیں …..! اگر روز آجا سکتی ہے تو ٹھیک ہے مگر ہاسٹل نہیں ۔ اگر وڈیو کال ہوتی تو میں دیکھ پاتی کہ اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ہوگا ۔ میں نے کہا ایسی بیماری , بڑی بچی دایاں بازو ہوتی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے مزید پانچ بچے ….! جذباتی فیصلوں سے بچنا چاہیے۔ بولی۔۔آپ اتنے نزدیک دیکھ رہی ہیں . میں دور دیکھ رہی ہوں کہ یہ مستقبل کی ماں ہے ۔ آج ہی تو تربیت کے دن ہیں , کل پرائے گھر ہوگی ۔ میں نے کہا وہ کل ابھی دور ہے . اچھی ماؤں کی اچھی بیٹیاں ہی ہوتی ہیں۔

پھر مجھے کراچی جامعة المحصنات سے اس کی بیٹی کے داخلے کی اطلاع ملی۔ ایک بار میں نے پرنسپل سے اس کی بیٹی کی رپورٹ لی بچی کی ذھنی حالت کے بارے میں دریافت کیا ۔ بیمار ماں کی بچی کا ہاسٹل میں کیسے دل لگتا ہوگا۔ سوچنا محال تھا میرے لیے …….. جو کچھ مجھے علم ہوا ، وہ بے حد اطمینان بخش۔ بہت ذہین بچی , ٹاپ کرتی ہے . اتنی عمدہ تربیت کہ کسی نے کہا میرا تو اس ماں سے ملنے کو دل کرتا ہے جسکی یہ تربیت ہافتہ ہے۔ (وہ بیماری کے باعث جا نہ پاتی ہوگی والدین کی میٹنگ میں)

وہ اجتماع ارکان کی سہ پہر تھی۔ میں اسٹیج کے بائیں جانب کرسی پر بیٹھی تھی . وہ چار قدم آگے دری پر۔ اسکارف سے اوپر آۓ چھوٹے چھوٹے بال بتارہے تھے کہ کیمو کا عمل مکمل ہوا ہے ۔ میں نے کہا آپ کو فرش پر نہیں بیٹھنا تھا ۔ بولی , آرام سے ہوں ۔ میں نے کہا یہ سینکڑوں کرسیاں آسمانی مخلوق کے لیے نہیں ہیں ۔ فورا اٹھو۔۔ بولی دیکھیں, ان کرسیوں کے مجھ سے زیادہ مستحق لوگ ہیں اس شامیانے کے نیچے ۔میں نے انتہائی خفگی سے کہا میری التجا نہ سمجھا جائے حکم ہے یہ ۔ وہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔ میں نے ساتھ والی خاتوں جو نسبتا کم عمر تھیں ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ بیمار ہیں کیمو ہوئی ہے ۔وہ لمحہ بھر میں جھپاک سے دری پر بیٹھ گئیں ۔

وہ کیسا منظر تھا …..! استقبال رمضان کے لیے بینکوئٹ بک کرایا تھا۔ چار بیٹیوں کے بعد رب نے بیٹا دیا۔ میں جا نہ سکی تھی مبارکباد کے لیے اس لیے نظریں ہال کے دروازے پر تھیں۔ وہ تین چار ماہ کے سفید کرتے شلوار میں ملبوس بیٹے کو اٹھائے داخل ہوئی ۔ دو بچیوں نے اس کا کوٹ تھاما ہوا تھا ۔ استقبالیہ سے اس نے نظم وضبط کا بیج ایک بچی کو لگایا ۔ کارکن برائے پانی کا باقی دو بچیوں کو۔ بڑے تپاک سے ملی۔ میں نے کہا صائمہ ! اتنی سی بچیوں کو ڈیوٹیاں دیدیں۔ بولی گھر سے بریف کر کے لائی ہوں ۔ آج سیکھیں گی تو کل سکھائیں گی ۔ ایک بار کہیں اسکے ساتھ جانا ہوا . اسکی بچیاں سفر میں باآواز بلند دعائیں پڑھتی رھیں۔بچیوں نے اس کے کہنے پر خوب صورت ملّی ترانے سنائے۔ ایک ساتھی نے کہا اتنا عرصہ لڑی ہے کینسر سے۔ اللہ نے اس بیماری میں دوبیٹوں سے نوازا۔ میں نے کہا ایک تو بندہ ہسپتال کی پیشیوں سے وقت سے پہلے ہی گزر جاتا ہے۔بولی ارے نہیں اب اتنا کہاں نکل پاتی ہوں بیماری تو پورے وجود پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔اسی بہانے نئی ملاقاتیں ہوجاتی ہیں۔اب تو لٹریچر خوب تقسیم کرتی ھوں۔ھسپتال تو دکھیاروں کے آشیانے ہیں ہاتھوں ہاتھ سب لٹریچر تقسیم ہوجاتا ہے۔

اس روز ہم نے بہت ڈھونڈا اس کا نیا گھر….! بلآخر مل گیا۔ پتہ چلا چند ہفتوں میں وہ ھفتہ وار درس , قرآن کلاس بہت کچھ شروع کرچکی ہے۔ گلی کا کوئی گھر نہ چھوا ۔ پڑوسیوں کی تعریف کرنے لگے۔ میں نے دل میں کہا تم جس کی پڑوسی ہو اس کے بھی نصیب ہیں ۔ جس دن اس کے جوان بہنوئی کا قتل ہوا تھا ۔ جنید زاھدی شہید …..! تانتہ بندھا ہوا تھا لوگوں کا ۔ وہ ایک ایک سے یہی التجا کررہی تھی دعا کریں قبر کی منزلیں آسان ہوں۔ بہت سفاکانہ قتل تھا انکا۔میں نے اظہار افسوس کیا تو بولی ہم سوچ رہے ہیں بے دردی سے قتل کیا ممکن ہے انکے لیے اس موت میں لذت ہو۔شہید تو بار بار دنیا میں آنا اور شہید ہوناچاھے گا ناں۔ وہ ہم جیسی نہ تھی۔رخصتوں کی جویا۔سہاروں کے ساتھ چلنے والے۔وہ صبیحہ شاھد کے قبیلے کی جہادی روح تھی۔۔ اس نے کسی دوراھے پر نظریاتی اختلاف کے موقعوں پر خون کے رشتوں کے درمیان بھی مداھنت نہ برتی۔جو حق سمجھا وہ کہا اور نبھایا …… وفادار تھی ۔ وفا کا حق ادا کرگئی۔

اس نے شہر خموشاں میں بسیرا کر لیا۔جہاں اس کا استقبال ہے اور۔۔۔۔۔ وہاں فضائیں لب کشاں ہیں کہ

شہر میں آ تو سہی گنبد بے در سے ن کل
تو صدف ہے تو ذرا اپنے سمندر سے نکل
اے  کہ پیوند زمیں وقت کی تسبیح کو توڑ
چندلمحوں کوسہی سانس کےچکرسےنکل

اپنا تبصرہ بھیجیں