اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ – بنت آفتاب احمد




کیا ہوا تھک گئیں ؟؟ عاصمہ نے سوالیہ نظروں سے جنت کو دیکھا
ہاں ۔۔۔۔۔ بس اب لگتا ہے کہ کچھ نہیں رہا ۔
ایسے نہیں کہتے اتنی جلدی مایوس نہیں ہوتے
اچھا تو کیا کروں اس مایوسی کا ۔۔۔۔۔؟ مجھے لگتا ہے میری کوئ دعا قبول نہیں ہورہی ہاتھ اٹھاتی ہوں دعا کیلۓ تو ہاتھ لگتا ہے خالی لوٹ آئینگے اللہ پاک ناراض ہوگۓ ہیں میں دھتکاردی گئ ہوں۔
عاصمہ نے کہا دیکھیں ایسا نہ سوچیں ہم مـایوسیـوں کی طـرف کیوں جاتے ہیــں ….؟ تنہائیاں ہمیـں کیوں گھیر لیتی ہیــں ….؟ کیونکہ جب زمین والے ہم پر زمین تنگـــــ کر دیتے ہیــں ! جب ســارے راستے بند ہو جاتے ہیں نا اور ہمیـں کوئی راہ دکھائی نہیــں دیتی تو ہم سمجھتے ہیــں کہ آسمــــان والا راستہ بھی بند ہو گیا . دعـــــا کا راستہ بھی بند ہو گیا ، نہیـــں آســــمان والا یہ رابطہ کبھی نہیــں ٹوٹنے دیتا ……. ساری دنیا تنہا چھوڑ دے لیکن وہ ربّ نہیــں تنہا چھوڑتا وہ نہیـــں بھولتا اپنے بندے کو …..! کوشش کریں کہ رب سےرابطہ کبھی نا ٹوٹے ,یقین جانیــں ربّ سے جُــــڑ جــانے والے ٹوٹ کر بھی جُــــڑ جاتے ہیں….
ہمارا رب بہت مہربان ہے۔ وہ ہر بات سنتا ہے …… ہر بار سنتا ہے۔ اور بار بار سنتا ہے۔ وہ کہتا ہے ۔
اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ
مجھ سے مانگو میں تمہاری دعائیں قبول کرونگا ۔ تو اسی سے مانگیں وہ دیگا اور وہی دے سکتا ہے ۔ جب آزمائش آتی ہے ہم سوچتے ہیں کہ اللہ کہاں ہے سن کیوں نہیں رہا ۔ یاد رکھیں …! امتحان میں استاد خاموش رہتا ہے۔
آزمائش میں ثابت قدم رہنے کی دعا مانگیں اللہ سے شکوہ نہ کریں بلکہ وہ نعمتیں یاد کریں جو اس نے نوازی ہیں آپکو ۔ کوئی بھی وقت ہمیشہ نہیں رہتا اگر اچھا نہیں رہا تو برا بھی نہیں رہے گا . اللہ پر یقین کا سفر بہت خوبصورت ہے۔ وہ بہت پاک ہے بہت پاک جسے چنتا ہے اسے بھی پاک کردیتا ہے . اللہ سے ہر حال میں ثابت قدمی کی دعا مانگیں۔ اللہ رب العزت ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ہمیں اپنے مقرب بندوں میں شامل فرماۓ …… آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں