ٹک ٹاک اور ہماری بگڑتی نسل – ثمرین عالم




ٹک ٹاک ایک الگ دنیا ہے . اس نئی دنیا نے بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنا عادی بنا لیا ہے ۔ ٹک ٹاک کے اپنے ہیروز اور آئیڈیل ہیں….. ٹک ٹاک کی محفلیں شہر شہر جم رہی ہے۔ آپ یقین نہیں کریں گے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے ……. اب نوجوان نسل تاریخ کے بارے میں جاننا پسند نہیں کرتی ہے ۔ اسلامی تعلیمات حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہے۔ بلکہ ان کا پسندیدہ مشغلہ ٹک ٹاک بن چکا ہے۔اپنا قیمتی وقت ٹک ٹاک کی ویڈیوز دیکھنے اور بنانے میں ضائع کرتے ہیں ۔
دراصل ، ٹک ٹاک میں بھرپور اپنائیت اور حقیقت کا عنصر ہے ۔ وہ ایسے کہ اس پر ہر ویڈیو اوریجنل ہے۔ اور کسی اداکار کی بجاۓ ہمارے معاشرے سے کسی لڑکے لڑکی نے بنائی ہے . انسان کی فطرت ہے کہ اسے اور اوریجنل پروفارمیینس زیادہ متاثرکرتی ہیں ۔ ٹک ٹاک نے اچھے خاصے عزت دار گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں …… چند لائکس کی خاطر الٹی سیدھی حرکتیں ، اداکاری کے جو رقص اور دیگر سرگرمیوں پر مجبور کر دیا ہے۔ فالورز بڑھانے ، لائکس اور شیرز کا نشہ کچھ ایسا ہے کہ سٹیج ڈراموں کی گھٹیا ترین جگتوں کو دوہرایا جاتا ہے۔ ان پر رقص ہوتا ہے۔ اخلاقیات کا بے لگام تفریح سے کیا تعلق سب پتہ چلتا ہے۔ ٹک ٹاک پرلائیو کی سہولت بھی اب دستیاب ہے ۔ اور رات بھر محفل سجانے کے چکر میں رومانوی فحش گفتگو کا سہارا لیا جاتا ہے۔
حدیث:
“میری امت کے کچھ لوگ شراب پیں گے مگر اس کا نام بدل کر ، ان کی مجلسی راگ باجو اور گانے والی عورتوں سے گرم ہوگی۔ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں بعض کو بندر اورخنزیر بنا دے گا ۔” (ابو داود،ابن ماجہ ، مسند ابن حیان).
ٹک ٹاک کی وجہ سے نوجوان اپنے والدین کا خیال نہیں رکھتے ھے اور اپنے بزرگوں کی عزت نہیں کرتے ہے۔ مسلمان نوجوانوں نے تقریباً نماز پڑھنا اور دینی تعلیم حاصل کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ عبادت کر رہے ہوتے ہیں تو ویڈیو ضرور اپلوڈ کرتے ہیں افسوس کہ نوجوانوں کو ٹک ٹاک اسٹارذ کے بارے میں بہت جانکاری ہوتی ہیں لیکن ہمارے صحابہ کرام علماء کرام کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا انہوں نے اسلام کے لئے کتنے قربانیاں دی ہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے کہ :
“اپنے گھروں میں قرار کی ساتھ رہو غیر مردوں کو بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی جاھلیت میں دکھایا جاتا تھا۔”۔ (سورت الاحزاب ) ۔ مسلمان نوجوان لڑکیوں کو اسلام میں پردے کرنے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے . نا محرم مردوں سے نرم لہجے میں باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے لیکن افسوس ٹک ٹاک پہ مسلمان نوجوان لڑکیاں نامحرم کے ساتھ رقص کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اسلام میں عورتوں کو چار دیواری میں رہنے کا حکم ہے . جو لوگ ٹک ٹاک پہ ہٹ ہو جاتے ہیں ان کے لیے بڑی بڑی کمپنیز ایک پروگرام منعقد کرتے ہے پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے پہلے ٹکٹس بک کیے جاتے ہیں ۔
رمضان کے بابرکت مہینے میں بہت سے سرگرمیاں نہیں کی جا رہی تھی کہ کرونا وبا کی وجہ سے لیکن ٹک ٹاک سٹار کے لیے ایک مخصوص پروگرام رکھا گیا تھا ایک نجی چینل لائیو ٹک ٹاک دیکھایا جاتا ھے۔اب عام انسان بھی آسانی سے دیکھتے ہیں۔۔۔ ہمارے نوجوان کچھ وقت کے انٹرٹینمنٹ کے لئے دنیا اور آخرت تباہ کر رہے ہیں ۔ ٹک ٹاک میں ہر دوسری ویڈیو میں گانا لازمی لگا ہوتا ہے جو کہ اسلام میں گانا سننا حرام ہے ۔ موسیقی بد روح کی غذا ھے۔
حدیث ہے کہ “حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ روایت ہے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”موسیقی دل میں نفاق (منافقت) اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیت کو پیدا کرتا ہے “۔(السنن الکبری للبیہقی 21537)
ایک اور جگہ آتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص گانا سنے گا تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا ۔ (کنز العمال334).
ایک اور جگہ آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ” میری امت میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو زنا اور شراب اور آلات موسیقی کو حلال قرار دیں گے۔” (صحیح بخاری)
ہر شخص اس دھوکے میں میں مبتلا ہوکرگناہ کرتا ہے کہ بعد میں توبہ کر لوں گا . حالانکہ بعض اوقات گناہوں کی نحوست کی وجہ سے توبہ کی توفیق ہی نہیں ہوتی ! کیا یہ عقلمندی ہے کہ یہ سوچ کر زہر کھایا جاۓ آئی کہ جب اثر ہونے لگے گا تو تریان پی لوں گا؟ ٹک ٹاک بنانے کے چکر میں ہمارے نوجوان بہت بڑی غلطیاں کرتے ہیں ۔ ٹک ٹاک کا شوق جان لیوا بھی ہو رہا ہے . کتنے سارے نوجوان اسکی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ بہت سارے نوجوانوں نے خودکشیاں کرلی ہے جو کہ اسلام میں حرام ہے . اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے آمین ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں