لاک ڈاون اور ہمارے بچے – سعدیہ نعمان




وبا کے ان دنوں میں جہاں ہم والدین ایک ذہنی اضطراب اور ان دیکھے خوف کا شکار ہیں ……. اپنے پیاروں کے بارے میں فکر مند ہیں ، وہیں یہ معصوم بچے بھی ایک قطعی مختلف روز و شب سے گزر رہے ہیں – سوچنے کی بات ہے کہ ان کے ننھے منے دماغ اس سارے منظر نامہ کو کس طرح جذب کر پا رہے ہوں گے ……
وہ گھروں میں محصور ہیں نہ کھیل کے میدان نہ جھولے نہ اپنے ہم جولیوں  کا ساتھ نہ سکول اور نہ دوستوں سے ملنا ملانا اور سکول کی شرارتیں اور مصروفیات اور یہ سب کچھ بے حد اچانک ہوا – وہ اس کے لئے قطعی تیار نہ تھے —  اب  وہ اپنی اپنی عمر کے حساب سے نئ صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے  ایک پیچیدہ عمل سے گزر رہے ہیں عین ممکن ہے کہ وہ چڑچڑے ہو جائیں …… بے جا ضد کرنے لگیں . بات بے بات رونے لگیں شرارتی اور جھگڑالو بن جایئں . ایسے میں اگر والدین بھی اپنے  نگران ہونے کے رتبئہ کو پس پشت ڈال کے اپنی زمہ داری کو سمجھ نہ پائے جھنجلا ئے ہوئے رہے -مار پیٹ کرنے لگے تو معاملہ مزید بگڑ جائے گا ….! تو پھر ایک آسان راستہ یہ سوجھتا ہے کہ بچے کے ہسندیدہ کارٹون لگا دئے جائیں اور بے فکر ہو کے گھر کے سب کام نمٹاتے جائیں یا  ان کے ہاتھ میں موبائل تھا دیا جائے جس پہ وہ گھنٹوں اپنی من پسند گیمز کھیلتا رہے —
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح آپ جو ذہنی سکون یا آرام پا رہے ہیں کیا وہ دیر پا ہے؟ اور کیا آپ کو احساس ہے کہ جس نشہ کا عادی آپ کا بچہ بن رہا ہے وہ اس سے چھٹکارا حاصل کر پائے گا ؟ اس کا روزانہ تجربہ آپ گھر میں کر سکتے ہیں کہ جوں ہی بچہ سکرین چھوڑتا ہے اور اس تخیلاتی دنیا سے نکلتا ہے تو حقیقی دنیا اسے اچھی معلوم نہیں ہوتی وہ مزید چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتا ہے . تو پھر مسائل کا حقیقی حل کیا ہے- سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضرور ی ہے کہ بچہ ہمارے پاس ایک امانت ہے جس کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری والدین اور بالخصوص ماں کی ہے . اس سے فرار نہیں …….
امام غزالی رح فرمائے ہیں کہ ” والدین ایک کسان کی مانند ہیں جو اپنی فصل کی دیکھ بھال کرتا ہے اس سے کانٹے الگ کرتا ہے اور فالتو جڑی بوٹیوں سے اس کو صاف کرتا رہتا ہے تاکہ فصل پروان چڑھ سکے-”
ابن قیم رح فرمائے ہیں کہ”  قیامت کے دن پہلے والدین سے اولاد کے بارے میں سوال کیا جائے گا نہ کہ اولاد سے والدین کے بارے میں”
تو بچے میں اچھی  عادات  پختہ کرنے کے لئے ابتدائ سات سال بہت اہم ہیں جس میں وہ وعظ نصیحت سے زیادہ گھر کے ماحول اور والدین کے عمل سے سیکھتا ہے جو عادت آپ بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں پہلے خود اس سے چھٹکارا پانا ضروری ہے . اگرفیملی روم میں ماں یا باپ دن بھر ٹی وی نشریات دیکھتے ہیں خواہ وہ حالات حاضرہ کے پروگرام ہی کیوں نہ ہوں تو بچہ بھی اسکرین پہ وقت گزارنے کو ضروری جانے گا . اگرگھرکے بڑے کتاب پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو بچہ کہےبنا مطالعہ کا عادی ہوجائے گا.
ذیل میں کچھ  عملی تدابیر  ہیں جو بچوں کو اسکرین سے دور رکھنے میں معاون ہو سکتی ہیں . یہ بات جان لیجیئے کہ ٹیکنا لوجی کے اس دور میں  بچوں کو اسکرین سے سو فیصد دور رکھنا ممکن نہیں اسلئے بچوں کے ساتھ مل کے  لئے اس کے استعمال کے کچھ اصول طے کریں . ایک  اسکرین ٹائم مقرر کریں اور اس کی پابندی کروائیں . اس وقت میں بچہ اپنی عمر کے حساب سے اور دلچسپی کے اعتبار سے کیا دیکھے گا اس کا چناو اور اس معاملہ میں رہنمائی اور نظر رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے ……..! بچہ کو موبائل کے ساتھ تنہا نہ چھوڑیں
اسکرین ٹائم کے علاوہ ایسے بےشمار مشاغل ہیں جن میں بچوں کو گھنٹوں مصروف رکھا جا سکتا ہے . جیسا کہ اپنے بچپن کے واقعات قصہ کہانیاں بچوں کو سنائیں .
آپ نے بچپن میں جو کھیل کھیلے ان کو دلچسپ انداز میں بچوں کو متعارف کروائیں . لڈو  کیرم بورڈ اسٹاپو برف پانی  نام چیز جگہ کوکلا چھپاکی رسہ ٹاپنا وغیرہ ……. اگر آپ خود ساتھ کھیلیں گے تو بچہ بہت دلچسپی لے گا بچوں کے لئے ” فیملی ٹائم” کو خوشگوار بنائیں تو وہ . اس سے  بہت خوشی اور اطمینان حاصل کرتے ہیں . کوئی مزاحیہ پروگرام کوئ سبق آموز مووی کوئ اچھا شو اکھٹے بیٹھ کے دیکھیں جہاں ضرورت محسوس کریں بچوں کو درست غلط کے بارے میں بتایئں . بچوں کے ساتھ مل کے ککنگ بیکنگ  کر سکتے ہیں چھ سات سال سے ہی بچے کچن میں کپ کیک بنانے انڈا بنانے نوڈلز اور  ٹوسٹ بنانے وغیرہ میں دلچسپی لینے لگتے ہیں برتن دھونا بھی انہیں اچھا لگتا ہے . انہیں کام کرنے دیں حوصلہ افزائی کریں کپڑے گیلے یا گندے کرنے پہ جھڑکیں نہیں ……. کمرے کی سیٹنگ  میں تبدیلی کریں ان سے الماری ٹھیک کروائیں ڈسٹنگ کروائیں صفائی میں مدد لیں  بچے فرش پہ کپڑا بھی بہت شوق سے پھیرتے ہیں .
گھر میں لان  اور پودے ہیں تو  صبح یا شام میں ان پہ پانی کا چھڑکاو بچوں کو بہت دلپسند کام لگتا ہے انہیں بھیگنے اور مٹی سے کھیلنے دیں . لائبریری بنانا بچوں کے لئے بڑا دلچسپ مشغلہ ہے انہیں مزے دار کہانیوں کی کتب منگوا کے دیں ان کے ساتھ مل کے مطالعہ کریں
کلرنگ بچوں کا بہت پسندیدہ کام  ہے انہیں رنگوں کی دنیا میں جانا اچھا لگتا ہے …….. ان کو رنگوں والی پنسلیں واٹر کلر اور پرانی کاپیاں اور صفحات دے دیں اور اپنی مرضی کے رنگ بھرنے دیں . اس لاک ڈاون میں جب کہ پڑھائی اور سکول کے اوقات کا کوئی بوجھ بچوں پہ نہیں ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بچوں کو دین کی  بنیادی تعلیمات سمجھایئں . انہیں قرآن سے جوڑیں سیرت سے محبت سکھائیں . کچھ سورتیں حفظ کروائے جا سکتی ہیں اور اس سب میں اس کی خوب حوصلہ افزائ کریں چھوٹے چھوٹے انعامات دیتے رہیں . کہانی سننا بچوں کا دلپسند مشغلہ ہے انہیں مزے مزے کی کہانیاں سنائیں.
یہ کچھ تجاویز ہیں مزید بھی بہت کچھ آپ بچے کی نفسیات اور ضرورت دیکھتے ہوئے طے کر سکتے ہیں …… لیکن آخر میں پھر وہی بات دیراوں گی کہ بچہ ہمارا ہی عکس ہوتا ہے …… لہذا تبدیلی کا آغاز ہمیں خود سے کرنا ہو گا تاکہ بچوں کے صاف ستھرے ذہنوں پہ جو نقش بنیں وہ اسے ایک کامیاب انسان اور اچھا مسلمان بننے میں مدد دے سکیں

اپنا تبصرہ بھیجیں