آیڈئیل پیرنٹنگ کیسے کریں؟(حصہ دؤم) – محمد اسعد الدین




پچھلے بلاگ میں بچے کے کام کے دوران اس کے چہرے کے تاثرات نوٹ کرنے اور سوچنے کا ذکر تھا اس کے بعد پھر۔۔۔۔۔ ؟؟ پھر پیرنٹس کو feel ہوگا کہ بچہ کچھ کام کرتے ہوئے ”خوش“تھا اور کچھ کام کرتے ہوئے چڑچڑا ، بے زارتھا،اب اس سچویشن کو ایک “موقع” سمجھئے اور جلد مناسب ٹائم اور بچے کا موڈ دیکھ کر بچے کو ساتھ بٹھائیں اور اس سے ”انوسٹی گیشن“کے بجائے سافٹ ٹون میں “ڈسکس” کریں کہ۔۔۔۔
*کام کرتے ہوئے وہ کیوں خوش تھا یا کس چیزکی وجہ سے کام کرنے میں مزہ آرہا تھا؟؟
*کام کرتے ہوئے چڑچڑ ا کیوں ہورہا تھا، یا کیاوجہ تھی جو اسے کام سے بے زار کررہی تھی؟؟ سوالات اس کے علاوہ بھی بہت سارے کیے جاسکتے ہیں لیکن ان دو چیزوں سے شروع کریں،آپ کو بچے کے رویے ”خوشی اور بیزاری“کے حوالے سے ”کیوں“کا جواب ملنے لگے گا۔ اس کے علاوہ
*پیرنٹس کو خاص طور پر بچے کے ساتھ اپنے attechment level کا ٹھیک اندازہ ہوجائے گا۔
*پیرنٹس کی بچے کے ساتھ comunication skills کی ایکسرے رپورٹ بھی سامنے آجائے گی۔
*کن چیزوں کو improve کرنا ہے اور اپنی کن عادتوں کوکنٹرول کرنا ہے اس کا پتا چل جائے گا.
فی الحال ان چند باتوں پر ریگولر پریکٹس کرلی جائے تو مزیدار پیرنٹنگ کی شروعات ہوجائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں