میں مدت سے اس آس پر جی رہی – افشاں نوید




وہ ہمارے پرانے محلہ میں رہتی تھیں ۔ ہمارے بچپن میں سب ہی متوسط یا غریب ہوتے تھے ۔ شائد معیار زندگی بے حد سادہ ، نمودونمائش سے پاک ۔ حلال آمدنی ، واحد کفیل بڑے کنبے ……. وہ ایک ملگجا سا رومال لائی تھیں اس دن ۔ کچھ تڑے مڑے سے نوٹ نکال کر امی مرحومہ کو دیئے کہ آپ کے فلاں رشتہ دار حج پر جارہے ہیں . کبوتروں کو دانہ ڈلوا دیجئے گا ۔ ہم وہاں کے کبوتروں سے بھی کتنی محبت کرتے ہیں ۔
کسی نے کہا رشک آتا ہے ان کبوتروں پر ہم سے تو وہ خوش نصیب ہیں جو ہر وقت روضہ رسولﷺ کے گرد منڈلارے ہیں . ان مبارک فضاؤں میں رہتے ہیں ۔ میں نے کہا ہم سا خوش نصیب تو کوئی نہیں ….. جس کو نبی پاکﷺ اپنا مشن سونپ کر گئے ۔ روز حشر آپ ﷺ کتنا بے چین ہونگے ؟ ہم امتیوں سے ملنے کے لیے ۔ ہم بھی اربوں کھربوں کی بھیڑ میں آپ ﷺ ہی کو تلاش کررہے ہونگے ۔ یہ الگ بات ہے کہ دل ڈر رہا ہوگا کہ میرا اعمال نامہ آپ ﷺ کے سامنے کھولا گیا تو کیا لاج رہ جائیگی ۔ ہاں …..! ذکر تھا پرانے محلہ کا ۔ بچپن کی یادیں بھی کیا خزانہ ہوتی ہیں ۔ وہ خاتون جن کی بیٹی اور داماد حج پر جارہے تھے۔ رجسٹر لے کر ایک ایک گھر میں جاتیں اور لوگ دعا کے لیے نام لکھواتے۔
میری بیٹی کے رشتے ، میری میاں کی بیماری ، میرے بیٹے کی ملازمت ، فلاں عزیز کی شفا کی دعا کرا دیجیے گا ۔ اصل میں اس وقت محلہ خاندان جیسا ہوتا تھا ۔ محلہ بھر کی عورتیں روپیہ روپیہ جوڑ کر بی سی ڈالتی تھیں تو اس لیے کہ حج پر جانا ہے . عمرے کے لیے جوڑے ہیں یہ پیسے ۔ گھر میں دال دلیہ,دوجوڑوں میں سال بتا دیا مگر حج کی بی سی سالہا سال چلتی رہتی ۔ وہ سو,پچاس روپے ماھانہ کی بیسیاں کتنی مبارک تھیں۔ ایک زندہ دل کی علامت جسکی دھڑکن میں عشق رسولﷺ بسا ہے۔ ہم نے نہیں دیکھا تہ والدین پیسہ پیسہ جوڑتے ہوں …… عزہزوں کے پاس امریکہ یا یورپ جانے کے لیے ۔ مگر وہ گھر تو بیت اللہ ہے ۔ وہاں تو ضیوف الرحمان پوری تکریم کے ساتھ بلائے جاتے ہیں ۔ ان کے ناز اٹھائے جاتے ہیں ۔ انکو جلووں سے سیراب کیا جاتا ہے۔
مسلم دنیا کا کون سا ایسا خاندان ہوتا ہوگا جہاں سے کوئی حج پر نہ جاتا ہو؟ یوں یہ حج چند لاکھ نہیں کروڑوں لوگوں کی آرزوؤں کا مرکز ہوتا ہے ۔ ہم بچپن سے میدان عرفات کے ہجوم میں اپنے رشتہ داروں اور ہڑوسیوں کس تلاش کرتے ۔ لاکھوں لوگ کروڑوں پیارے پیچھے چھوڑ کر جاتے جن کے لیے اعزاز ہوتا کہ ہمارا فلاں بھی میدان عرفات میں موجود ہے ۔ اس جملہ سے سماعتیں کتنی مانوس ہیں کہ روضہ رسولﷺ پر میرا بھی سلام کہنا ۔ خود جانے کی سعادت نہیں بھی ملی تو یہ ڈھارس بہت ہے کہ میرا سلام پہنچ گیا ……. اس ہستی کو جو میرے لیے جیتی تھی ، میرے لیے روتی تھی ، شب بھر امتی امتی کہتی تھی ۔۔ ایک فرد حج کرکے آتا تھا درجنوں گھروں میں آب زم زم اور عجوہ کی سوغات پہنچ جاتی تھی۔ یہی تو اس سرزمین کا سب سے نایاب تحفہ ہوتا ہے۔
مجھے یاد ہے کوئی حج سے کھجوریں لاتا تو اباجی ان گٹھلیوں کو فرش پر پھینکنے نہ دیتے کہ کچرے میں جائیں,۔بڑی تکریم کے ساتھ ان گٹھلیوں کو رکھا جاتا۔ حاجیوں کے آنے کے بعد وہ محفلیں جو حاجیوں کے اعزاز میں ہوتیں۔ہم کتنی محفلوں میں صرف حجاج کے مشاہدات اور آنکھوں دیکھا حال سننے جاتے۔کیسی روحانیت اور سرشاری کی فضا ہوتی تھی ۔ خاندان کا کوئی ایک فرد حج کرکے آتا تو ہورے خاندان پر روحانی اثرات نظر آتے ۔ یکم ذی الحج سے دل کی دنیا بدل جاتی جیسے ہم نے اپنا دل جانے والے پیاروں کے ساتھ بھیج دیا ہے۔ یہ زندگی کا پہلا رمضان تھا جب مرد نمازی بھی گھروں سے نہیں نکلے۔ یہ زندگی کا پہلا حج ہے …….! جب کوئی فون نہیں آیا کسی نے تسلی نہیں دی کہ میں پہنچاؤنگی یا پہچاؤنگا آپکا سلام روضہ رسولﷺ پر۔ کسی نے نہیں کہا کہ ، مبارک سفر سے پہلے سوچا اپنے پیاروں سے کہا سنا معاف کرالوں۔ ہمارے حج کی قبولیت کی دعا کیجیے گا۔۔
اللہ کریم میدان عرفات کے اٹھے ہاتھوں کی لاج رکھ لے۔ لبوں سے نکلی ہر دعا قبول ہو ۔ لاکھوں عاشق جو سامان سفر تیار کرنے کو بے تاب تھے, جن کے نام قرعہ اندازیوں میں آگئے تھے۔وہ ذی الحج آتے ہی یوں اداس ہیں جیسے ماں بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی ہو۔ ان شاءاللہ۔اچھے دن پھر آئیں گے۔ حج کا موسم اپنی ساری بہاروں کے ساتھ لوٹے گا۔ اللہ کریم جانتے ہیں کمزور ہیں بندے۔ مسجد سے دوری,حرم سے دوری برداشت نہ کرسکیں گے۔ ایک وہی تو در تھا جو غم کے ماروں کو سینے میں چھپا لیتا تھا۔دربدر کی ٹھوکریں کھائے اس دامن میں منہ چھپا کر رو لیتے تھے۔جینے کا سہارا تھا۔مدتوں اسی آس میں جی لیتے تھے کہ کبھی تو اس در سے بلاوا آ ئے گا۔ مولا سانسوں سے یہ آس کا بندھن بندھا رکھیے گا۔ آپ کے گھر آنے کا خواب ہی تو زندگی کے بوجھل پن کو کم کردیتا تھا۔ پھر لاکھوں لوگوں کو بلائیے گا جو تڑپ رہے ہیں دوری پر۔۔۔
بہت دل گیر ہیں مولا, بہت دل گیر۔ نہ اپنے گھر کے دروازے بند کیجیے ……. نہ عرش پر توبہ کے دروازے۔ یوم عرفات امت پر رحم کی نظر کیجیے گا مولا۔۔۔ امت پہ بہت کڑا وقت پڑا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہ پڑا تھا۔ ہمارے گناہوں کی سمت نہ دیکھیے مولا کہ۔ ہم آپ کی رحمتوں کی سمت دیکھتے ہیں .

اپنا تبصرہ بھیجیں