رب سے وفا اور توکل – حرا غضنفر




ابراہیم علیہ السلام ، حاجر علیہا السلام ، اسماعیل علیہ السلام …….. کیسا باپ اور شوہر؟؟؟ حکم ہوا، وادی ذی زرع میں اپنے اکلوتے بیٹے اور بیوی کو چھوڑ آؤ ! کیسی ماں اور بیوی؟؟؟ “پوچھا ہمیں کیوں اکیلا چھوڑے جا رہے ہیں ….. کوئی جواب نہ پایا تو پوچھا ، “کیا اللہ کے کہنے پر ہمیں یہاں چھوڑے جارہے ہیں؟؟
“تو وہ مجھے ضائع نہیں کریگا” ……. کیسا اطاعت گزار بیٹا؟؟؟ “ابا جان، جو کچھ آپکو حکم دیا جارہا ہے،اسے کر ڈالیئے۔ آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں پائیں گے”۔ ایسے ہی تو قرآن میں نہیں آیا
وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى ( سورة النجم ، آیت 37) ……. ابراہیم وہ جس نے وفا کا حق ادا کر دیا –
اللہ سے وفا کا حق ہاں رب سے وفا کا حق تو ابراہیم علیہ السلام نے ادا کیا……
واتخذ الله ابراهيم خليلا (سورة النساء ، آیت 125) ……. وه ابراہیم جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا
اور حاجر ، وہ جن کی سعی کی بھاگ دوڑ کے لئے جن پہاڑیوں کے درمیان تھی …. انہیں
اِنَّ الصَّفا وَ المَرْوَةَ مِنْ شَعائِرِ اللہِ …… شعائر اللہ کہا قرآن نے
وہ مکہ کی بنیاد ڈالنے والی ہاجرہ علیہا السلام – جن کی مدد کے لئے اللہ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ آب کا وہ چشمہ پھوٹا ہاں وہی جبرائیل امین جو انبیاء پہ وحی لایا کرتے تھے وہ جب کھجور پانی سب ختم ہوا اور شیر خوار بیٹا رویا ، اسے اس صحرا میں لٹا کر بھاگتی ہوئی ہاجر ، سلام ہو آپ کے صبر کو آپ کے توکل کو ، کہاں سے لائی تھیں ایسا صبر اور توکل ، اللہ نے تو واقعی ضائع نہ کیا بلکہ ان کی اس صبر اور توکل کی بھاگ دوڑ کو مسلمانوں کی سعی بنا دیا ، وہ تو سبقت لے جانے والوں میں سے تھیں ناں کیسے پیچھے رہتیں۔
ایمان والے اللہ سے کیسی محبت کرتے ہیں ، سیکھنا ہے تو ابراہیم علیہ السلام سے سیکھیں اور اللہ ان سے کیسی محبت اور ان پر کیسی رحمت کرتا ہے اپنی نمازوں کی تکمیل سے سیکھیں ، ابراہیم وہ جن پہ درود پڑھے بغیر ہماری پانچ وقت کی نماز مکمل نہیں ہوتی!
بیت اللہ کی تعمیر تو ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے کی تھی اور اس آب زم زم کا آج تک جاری رہنا کیا سکھاتا ہے، حاجر علیہا السلام کا توکل ……! اللہ ایمان والوں کو ضائع نہیں کرتا ، اللہ توکل اور صبر ضائع نہیں کرتا بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے مثال بنا دیتا اور دنیا کے ان قدموں پہ چلنے کو ان کے لئے نجات کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ دنیا کی وہ واحد عورت جن کے دوڑنے بھاگنے کے توکل اور صبر کے نشانات پہ مرد و عورت سعی کرتا ہے ، وہ ابراہیم علیہ السلام کی دوسری بیوی واقعی سبقت لے گئیں ۔ دل کرتا ہے کہ ان سے ملوں تو انکے پاس بیٹھ کر پوچھوں کہاں سے لائی تھیں ایسا صبر ….!
کس طرح صحرا میں تن تنہا اللہ پہ ایسا توکل کر کے بیٹھی تھیں آپ اس دنیا کی عورت نہیں تھیں آپ تو بس اللہ کی تھیں ، نیکیوں اور توکل میں اکیلی سبقت لے جانے والی تو آج تک آپ اکیلی ہی ہیں جن کے اس عمل کی سعی پہ چلتی دنیا ، ہاں آپ روز قیامت تک کے لئے وہ واحد عورت ہیں۔ اللہ ہمیں روز قیامت انکا ساتھ نصیب فرمائے ۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں