امر بالمعروف و نہی عن المنکر – آمنہ صدیقی




قدرتِ خدا پر نظر ڈالی ، تو سرِ فہرست انسان نظر آیا ……… جسے خدا نے خاص جسم کا مالک بنایا ، اور ایک عدد دل بھی اسی میں فٹ کرایا . دل!!
یہ بھی الگ مزاج کا مالک ہے، اس کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ اگر چلتا ہے تو سب کو سارے اعضاء کو ساتھ لے کر چلتا ہے . جب دھڑکنا چھوڑ دے تو باقی بھی ہمت ہار بیٹھتے ہیں . کام اسکا ہے معمولی سا ! سارے جسم کو خون عطیہ کرتا ہے . خوب ثواب کماتا ہے، مگر حقیقت میں یہ احساسات کی چھوٹی سی دنیا …..! جو سننا بھی جانتی ہے ، ان دیکھی آنکھوں سے دیکھنا بھی، معاملہ فہمی کا کام ہے سنبھالے ہوئے۔ سمو لیتی ہے تمام خوشیاں اور غم خود میں، جذباتی سی نازک سی یہ دنیا، سنا ہے بیمار بھی پڑ جاتی ہے . زنگ آلود ہوکر، بے سکونی کی آرام گاہ بن جاتی ہے . ایسا کیوں ہوتا ہے؟
یہ اس وقت ہوتا ہے، جب بندہ کردے انکار یومِ جزاء کا، آیاتِ قرآنی کو مذاق میں اڑا دے، تکبر سے سینا پھلا لے، فانی زندگی کو ابدی زندگی پر ترجیح دے .عہد توڑ ڈالے،اپنے ساتھ اوروں کو بھی صراطِ مستقیم سے روکے، ضمیر کو خاموش کردے، ہوتا کچھ یوں ہے، کہ ایک گناہ دل پر سیاہی کا ایک نقطہ چھوڑ جاتا ہے. گر معافی سے نہیں دھویا، تو سارا کا سارا دل سیاہ پڑ جاتا ہے،دل میں ٹیڑھ خدا پیدا کردیتا ہے…… مہر جس دم ثبت ہوجائے دل پر……. یہ احساسات کی دنیا اندھی بہری ہوجاتی ہے،
اب اس بیمار دل کا علاج کیا ہے! بصارت و سماعتِ قلبی کا راستہ کیا ہے ؟ معالج بتاتا ہے …… پڑھو تم آیاتِ قرآنی ….. اور موت کو یاد کرو زیادہ،تو کردے گا وہ مولی،تمہارے اس بیمار دل کو، تندرست و توانا!!
چلو ایک کام کرتے ہیں …… دوا کا آغاز کرتے ہیں . دل کو سختی سے بچا کر، سکون کا گھر بناتے ہیں، آؤ یہ عہد باندھتے ہیں،لائیں گے ایمان آیات الہی پر، لبوں پر ورد جاری رہے گا توبہ و استغفار کا ہر دم، بچائیں گے خود کو غرور سے، انکساری کا عمل اپنا کر،دنیا کے بجائے آخرت کی فکر کر کے، حقیقی کامیابی کیلئے محنت کریں گے، خدا کے دین کی دعوت عام کریں گے۔۔
ہم!! ‘امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ‘ کے مشن کا آغاز کریں گے۔۔ انشاءاللہ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں