سانحہ لبنان سے دھماکہ کراچی تک – بنت شیروانی




ابھی تو سانحہ لبنان ہی تازہ ہے کہ کراچی میں کشمیر کے لۓ نکالی جانے والی ریلی میں بھی دھماکہ ہوگیا- یہ دھماکہ کرنے والے افراد میں کیا انسانیت نام کی کوئ چیز نہیں ہوتی !!!! کیا ان کے پاس ایک دھڑکتا دل نہیں ہوتا کہ دوسرے انسان کے درد کو محسوس کر سکیں !!!!یا کیا انھیں دوسروں کو تکلیف دینے میں مزہ آتا ہے ؟؟؟
کیا انھیں بہتا انسانوں کا لہو دیکھنے میں آنکھوں کو راحت ملتی ہے؟؟؟ کراچی میں منظم طریقہ سے کشمیریوں کے حق میں ، بے بس کشمیریوں کے لۓ ریلی نکالی جارہی تھی ۔ کیا بگاڑا تھا ان لوگوں نے جو کہ ان پر حملہ کر دیا گیا اور بے گناہ افراد زخمی ہوۓ !!!!! کیا انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں کہ کہیں لبنان میں امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں دھماکہ کر دیا جاتا ہے تو کہیں دوسرے انسان کے حق میں ریلی نکالنے پر دھماکہ کر دیا جاتا ہے۔ اے دھماکہ کرنے والوں …! کچھ معلوم ہے کہ ایک انسان کو کس محنت و مشقت کے بعد بڑا کیا جاتا ہے؟؟؟؟؟؟مستقل دیکھ بھال ،نگہداشت کی جاتی ہے تو اسکے بعد وہ انسان جوان ہوتا ہے اور “دھماکہ کرنے والوں “تم ایک دھماکہ کر کے اتنے انسانوں کو زخمی کر دیتے ہو اور جان سے مار دیتے ہو !!!
کیا تمھیں ذرا ترس نہیں آتا ؟؟؟ کیا تمھارے اندر کی انسانیت ذرا نہیں جاگتی ؟؟؟؟ میری خدا سے دعا ہے کہ اگر تم لوگوں کے ہدایت موجود ہے تو تمھیں زندہ رکھے ورنہ تمھیں تباہ و برباد کر دے جیسے تم نے لبنان تباہ کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تمھارا حشر خراب کرے اور تمھیں رہتی دنیا کے لۓ نشان عبرت بنا دے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں