نغمے اور کشمیر کی آزادی – زبیر منصوری




دیکھیں بات سیدھی سی ہے دو جمع دو چار کی طرح …….. کشمیر پر زبانی جمع خرچ کرنے کے سواکچھ نہیں ہے کسی کے پاس ۔ ستر برس کی کشمیریوں کو کھڑا رکھنے کی اسٹریٹیجی اپنےعروج پر پہنچ کراب بتدریج نیچے آرہی ہے . اس بوڑھے کمانڈر سید علی گیلانی اور اسکی پارٹی نے سینکڑوں ڈرائنگ روموں کو اسکولوں میں بدل کر جو پاکستان پاکستان کے دیوانہ وار نعرے لگاتی نسل تیار کی تھی وہ ادھیڑ عمری کو پہنچ گئی مگر کوئی پاکستانی ابن قاسم نہیں آیا۔۔۔
جو آئے بھی اپنی ذاتی حیثیت میں اور سستی لیبر بنا کر بھیجے گئے۔ ہم ترانے جو بھی گائیں ہمارے فیصلہ ساز دل کی گہرائیوں سے یہ سمجھتے ہین کہ ہم کئی گنا بڑے بھارت سے نہیں لڑ سکتے ایٹم بم ایک ڈیٹرنٹ کے طور پر بھارت کو بھی روکے ہوئے ہے اس لئے کہ وہ لڑائی کا نہیں اس سے روکنے کا ہتھیار ہے ۔ ایسے حالات میں بس پنجاب کی عوام اور مذہبی گروہوں کے درد سر کو کم کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی تقریرکے چورن ، کبھی خاموشی کبھی کھڑا کرنے کبھی بٹھانے سڑکوں کے نام کبھی نقشہ کی نقشہ بازی ….! بس یہی کچھ رہ گیا ہے ۔ آہ ….! جس ملک کے وزیر خارجہ غداروں کی اس نسل سے ہوں جنہوں نے اپنے ہم وطن جنگ آزادی کے حریت پسندوں کو مار کر انعام لئے ہوں . ان سے کشمیریوں کے ساتھ وفاداری کی امید ……..! صاف بات یہ ہے کہ اس قوم کی ایک بڑی اکثریت آٹے دال چینی کے چکر میں ایسی الجھا دی گئی ہے کہ اسے خدا یاد رکھوانا مشکل ہو رہا ہے . کشمیر تو کہیں دور کی بات ہے یہ بات ملک کے مالکان بخوبی جانتے ہیں .
اس لئے وہ ایسے پانچ فروری اور پانچ اگست کسی نئے منجن کے ذریعہ گزار دیتے ہین اورہر اگلا کل ایک نیا موضوع لے آتا ہے . رات گئی بات گئی . جنہیں کشمیر سے کوئی حقیقی غرض ہے. وہ پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کریں اور اس کے حق میں پانچ فیصد ملکی آبادی کو اسلام آباد لانے کا خاکہ بنائیں ۔ باقی رہی سرحدی گولہ باری سو وہ جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں