اس شہر سے جماعت کا تعلق نصف صدی کا قصہ ہے – زبیر منصوری




کیا اس شہر میں کوئی قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں؟ کوئی پولیس ؟ کوئی رینجرز ؟ کوئی انٹلی جنس؟ سر عام دن دیہاڑے شہر کے بیچوں بیچ ہزاروں لوگوں کی ریلی پر یوں کھلا حملہ؟
انتظامیہ لمحہ لمحہ کی خبر رکھے ہوئے ، اُڑتے چڑیا کے پر گن لینے کا دعوی کرنے والے اداروں کے کارندے موجود ،امن کے دعوے اور پھر یہ کھلی دہشت گردی بتاتی ہے کہ کراچی جماعت کی فوکسڈ ٹارگیٹڈ مسلسل اور جرات مندانہ عوامی حکمت عملی کی پیش قدمی کسی کو کھٹکنے لگی ہے پہلے تو یہ ایم کیو ایم کیا کرتی تھی . اب مگر کون ہے جس کو خطرہ محسوس ہونے لگا ہے ؟ یہ سوال زیادہ گہرائی میں دشمن کھود کر نکالنے کا تقاضہ کرتا ہے۔ خیر جن لوگوں کو لقمان بیگ اور اسلم مجاہد کی شہادت پیچھے نہ دھکیل سکی انہیں یہ کریکر حملے کیا روکیں گے مگر پرامن اور قومی کاز کے لئے نکلے ہوئے لوگوں پر یہ حملے بتاتے ہیں کہ شہر پر صوبائی حکومت کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے .
اسٹاک ایکسچینج پر منظم کاروائی ، پولس پر حملہ سندھی علیحدگی پسندوں کی کاروائیاں سندھ حکومت اور بالخصوص آئی جی سندھ پر سوالیہ نشان ہیں . آئی جی صاحب میڈیا سے اچھے تعلقات بنا کر سمجھ رہے ہین کہ سکیورٹی گیپس بھر جائیں گے . تو یہ ان کی مجرمانہ غفلت ہے۔ جماعت کا کارکن نہ پہلی بار زخمی ہوا ہے نہ اللہ عافیت رکھے آخری بار وہ اب بھی وہیں کھڑے ہیں اور ان کی حافظ نعیم جیسی جی دار قیادت بھی ،شہر کورونا مہم میں انہیں دیکھ کر چرم قربانی میں اپنی پسندیدگی بھی دکھا چکا ہے اس شہر سے جماعت کا تعلق نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں .
یہ شہر اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کرنے والوں کا شہر ہے اور جانتا ہے کہ انہیں کے دامن میں ان کی پناہ ہے….. یہ کروٹ لے گا پھر سنبھلے گا بیدار ہو گا . ایم کیوایم کو کافی جان چکا پی پی کی سازش کی بنیادوں پر شہر کے اداروں میں خاموشی سے بناتی جڑروں سے بھی واقف ہو گا اور کسی ایک ہی ہلے میں انہیں الٹ دے گا . ان شاء اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں