جمعیت چاند جیسی ہے – زبیر منصوری




جمعیت چاند جیسی ہے ……. نظریہ لا الہ جس کا یہ پاکستان جیسی ہے …….
اب سمجھ آیا یہ کیوں کھٹکتی ہے ہودبائیو کی آنکھوں میں؟ یہ مزاحمت کے ہر میدان میں جا پہنچتی ہے جہاں دو دن پہلے ناپاک پاؤں ناچے تھے . خزیمہ داود اپنے کارکنوں کے ساتھ اس جگہ کو سجدوں اور درس قرآن سے پاک کرنے پہنچ گئے . ان آنسووں کے ساتھ دھونے چلے گئے کہ مالک ہم میں اتنی طاقت تو نہیں کہ اسے قوت سے روک سکیں مگر ہمارا شمار مزاحمت کاروں اور ان مسخروں اور بھانڈوں کے سامنے کھڑے ہو نے والوں میں کرنا ان کے ساتھ کھڑے ہووں میں نہیں . ……. شاباش جمعیت! تم ان کی آنکھوں کا کانٹا بنے رہو کہ اکیسویں صدی میں یہ ایمان کا پیمانہ ہے کہ حق اور اس کے اتحادیوں کو جہاں جتنا جیسے ممکن ہو فائدہ پہنچاو
اور ہاں یہ کرنا کافی نہیں ……. بلکہ باطل اور اس کے اتحادیوں کو جہاں جتنا جیسے ممکن ہو نقصان پہنچاو۔۔تب ایمان مکمل ہوتا ہے . شاباش جمعیت! ایسے ہر موقعہ کو استعمال کرنے کا فن سیکھو ہر اس ابلاغی لہر پر سوار ہو جاو جو تمہیں اوپر اپنے ہدف کے قریب کر سکتی ہو . شاباش جمعیت! اللہ اور اسکے دین ، رسول اللہ ص اور ان کی امت کے ساتھ غیر مشروط وفاداری ثابت کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دو . شاباش جمعیت ! مگر کاش تم کبھی اپنی پرسیپشن منیجمنٹ پر توجہ دیتے . کاش تم اسے بھی دینی جدوجہد سمجھ سکتے
کاش تمہارا ابلاغی محاذ سوچ سمجھ کر تعمیر کیا گیا مورچہ ہوتا . تو دنیا یہ جان پاتی کہ اس زوال پذیر معاشرے میں تم خیر کی کتنی بڑی قوت ہو. جیو ہزاروں سال۔۔!
(ناچ گانے کا گند صاف کرنے مسجد وزیر خان پہنچنے پر جمعیت کو خراج تحسین)

اپنا تبصرہ بھیجیں