انسان کے کرب کی کہانی – جویریہ سعید




صبح تیز ہوا اور برستی بارش میں چھتری لیے تین ٹرینیں بدل کر اسپتال پہنچی تھی ، ملاقات تو کئی لوگوں سے ہوئی اور مگر ذہن پر اس روتی بلکتی عرب لڑکی کا خیال طاری رہا ……. جس کے ڈیپریشن کا ایک بڑا سبب اس کی ماں تھی ۔ اگرچہ باپ بچپن میں چھوڑ گیا تھا مگر اس کا غصہ ماں پر تھا۔
جس نے عمر بھر سخت اور سرد رویہ اختیار کیے رکھا ۔ ماں سے تائید اور اظہار توجہ کو ترستی رہی ۔ بچپن کا یہ بھوت اب اس پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ بپھرنے لگتی ہے ۔ ماں کی نواسوں سے محبت بھی اس کے دل کو بغاوت پر اکساتی ہے سوچتی ہے . اسی محبت کی حقدار میں کیوں نہ تھی ۔ فراغت ہوئی تو خنک فضا پر تاریکی کی چادر پھیل چکی تھی ۔ رات پھر آن کال تھے …… اس لیے گھر پہنچ کر ذرا سستا لیے تو دوبارہ بلاوا آگیا کہ کوئی گولیاں پھانک کر آگیا ہے ۔ رات کی تنہائی میں گاڑی نکالتے ذرا خیال آیا ، اگر پچھلی سیٹ پر کوئی بیٹھا ہوا ملا تو کیا ہوگا ۔ ان دیکھے کے خوف پر زندگی کی تلخ حقیقتوں کا کرب غالب آگیا اور خود کو اس سے ملاقات کے لیے تیار کرنے لگی جو اسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کے دروازوں کے بیچ بے یقینی کی کیفیت میں پڑا ہوگا۔
خواہش تو موت کی تھی مگر موت بھیانک بھی تو بہت ہے ۔ اعلی تعلیم یافتہ ذہین نوجوان تنہائی اور ریجیکشن کے کرب سے گھبرا کر چادر تان کر لیٹا تھا ۔ آنکھوں کو کئی بار جھپکایا الفاظ موزوں کیے کہ اس کو سنا جاسکے ، کچھ مداوا کرنے کی کوشش ہو……… بے گھر تھا، ٹھکرایا ہوا محسوس کررہا تھا ۔ والدین دوسرے شہر میں تھے اور بہن قریب تھی مگر ان کو مطلع کر کے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا ، اس لیے تنہا ہی اپنے آپ سے لڑ رہا تھا ۔ رات تین بجے اندھیری سڑک پر گاڑی میں بیٹھ کر دروازے لاک کرلیے ہیڈ لائٹس روشن کرتے سوچا یہاں چند میل کے فاصلے پر ایک نرم گرم بستر لیے میرا اپنا گھر میرا منتظر ہے ۔۔ مگر اس کا کیا کروں جو اسپتال کے بستر پر دراز رات بسر کرنے کو گوگل پر موٹلز ڈھونڈ رہا تھا .
علی الصبح پھر ٹرین پکڑنے کو بھاگتے ہالو کاسٹ کے شاہد ، اور اس پر کئی کتابیں لکھنے والے شاعر اور کیمیادان پریمو لیوی کی پراسرار خودکشی کا کیس سنتی رہی۔ دوران ڈسکشن کسی نے کہا۔۔۔
“ہم جس کو پسند کرتے ہیں اس سے وابستہ کوئی ناپسندیدہ شے ہمیں بے چین کردیتی ہے۔ ”
میں نے سوچا یہ تو پھر قابل قبول ہے۔۔۔ ہمارے یہاں تو ایسے کثرت سے پائے جاتے ہیں جو اپنے تجربے اور مشاہدے کی سرحدوں سے باہر کسی تکلیف کا اعتراف کرنے کو بھی تیار نہیں۔ اور میں ابھی انسان کے کرب کی کہانی میں ہی ڈوب کر ابھر رہی ہوں۔ صرف اس لیے کہ کل رات تین بجے میرے اپنے گھر میں میرا بستر میرا منتظر تھا، میرے والدین نے مجھے محبت دی، اور اس لیے کہ میں خود کو ایک قسم کی مشقت میں گرفتار پاتی رہی ہوں ۔۔ میں اس سے مختلف کسی اور کرب اور کسی اور مشقت کی انکاری نہیں ہوسکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں