خواب ، تعبیر، تکمیل! – آمنہ صدیقی




میں وہ شخص ہوں جس نے پہلے خواب سے تعبیر پھر تعبیر سے اس نامکمل تکمیل تک کا سفر کیا . 1940ء سے 2020ء تک یہ سفر کرتے کرتے چور ہوگیا ہوں پر اب تک منزل کا کوئی نشان نہیں ملتا ……… چلیں سفرنامہ سناتا ہوں اپنا ، آغاز جس کا ہوا خواب سے ، اقبال کے خواب سے!!
“آپا ! پاکستان کیسا ہوگا ……. ؟”
ننھی سوچوں میں پاکستان کی تصویر بنانے کیلئے میں نے آپا کی مدد حاصل کرنی چاہی ۔ جس سے اماں نے بتایا تھا کہ ہم اپنے ملک جانے والے ہیں ، پاکستان جانے والے ہیں ، جہاں ہم آزاد ہوگے ، جہاں انگریزوں اور ہندوؤں کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی حکومت ہوگی ….. !! رات گہری ہوگئی تھی اور ہم دونوں سونے لیٹے تھے۔۔تب اچانک میں نے آپا سے سوال کیا۔۔
“جنت کا ٹکڑا ہوگا پاکستان ………. سب سے پیارا ہوگا پاکستان ………. گلستان کی طرح حسین ہوگا پاکستان ………. ہم اس میں آزاد ہوگے جیسے باغ میں تتلیاں …….. اور ہمارے پاکستان میں، ہمارے گلستان میں خزاں نہیں آئے گی کبھی…….!”
چھوٹی سی آپا جو ہمیشہ بڑی ہی لگتی تھیں نے پاکستان کا جو نقشہ ذہن میں بنایا تھا وہ مجھ تک پہنچایا۔ اور اس پیارے پاکستان کی تصویر دل و دماغ میں سجائے میں خوابوں میں اسی کی سیر میں مصروف تھا!!
“دادا ابو ! پاکستان کیسا ہوگا ؟” وہی سوال اب دادا سے پوچھا جو چند روز پہلے ہی لاہور سے قراردادِ پاکستان میں حصہ لے کر آئے تھے ۔ ” آپا کہتی ہیں کہ گلستان جتنا حسین ہوگا بلکہ جنت کا ٹکڑا ہوگا !!”
” بلکل اتنا ہی پیارا ہوگا پاکستان …….. کیونکہ وہ کسی اور کا نہیں بلکہ خالصتا ہمارا ہوگا …….. وہاں ہم خدا کے بندے ہوگے، اس کے بندوں کے غلام نہیں …….. وہاں ہمیں اللہ کی عبادت کرنے، بلند آواز میں قرآن پڑھنے کی آزادی ہوگی . اسلام کا نظام رائج ہوگا ادھر، قانون کتاب اللہ کا ہوگا جدھر!!” ، ‘پاکستان’ ایک بار پھر اس لفظ نے دل میں گھر کیا تھا!!
ہم جس آبادی میں رہتے تھے . وہاں ایک کثیر تعداد میں ہندوؤں کی آبادی تھی ، اور حال یہ تھا کہ جتنے بھی مسلمان بستے تھے سب نہایت خستہ حالت میں گذر بسر کررہے تھے۔۔طاقت کے زور پر جو زمین ان بیچاروں کے پاس تھی انگریز ہتھیا چکے تھے۔ ہندوؤں کو ہم پر ترجیح دی جاتی، تعلیم کا میدان ہو یا کھیل کا، ملازمت کا مسئلہ ہو یا حکومتی انہیں ہم سے برتر سمجھا جاتا۔۔۔وہ یہ چاہتے تھے کہ ہم ان کی برتری تسلیم کرلیں اور ہم میں سے اکثر نے یہ کیا بھی تھا ……… پر وہ کہتے ہیں نا
“شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے”
قائداعظم نے شیر کی زندگی چنی تھی، اور ہم سب نے پیروی کی تھی۔۔یہ خواب اب اکیلا اقبال کا نہ تھا بلکہ ہندوستان کے اکثر مسلمانوں کا خواب بن گیاتھا ۔ تب سفر نے رخ موڑا اگلی سمت کی طرف، جہاں سے تعبیر کا آغاز ہونا تھا۔
“بیٹا اُٹھو، اُٹھو” رات اندھیری تھی اور امی مجھے اٹھا رہی تھی سامنے خوف سے کانپتی آپا کھڑی تھی اور باہر سے شور کی آواز آرہی تھی۔ “اُٹھو، دشمن نے حملہ کردیا ہے!!پچھلے گیٹ سے نکلنا ہے” اماں بھی کچھ ڈری ہوئی لگتی تھی۔۔اپنے آنچل میں ہم دونوں بہن بھائیوں کوچھپائے رخ گھر کا پچھلا دروازہ تھا جہاں ابا اور دادا کھڑے تھے۔ شور بڑھ گیا تھا۔۔ایک دم ایک دروازہ ٹوٹنے کی آواز آئی۔۔ابا نے جلدی سے گیٹ کھولتے ہوئے کہا کہ سکھ دروازہ توڑ کر اندر آگئے ہیں۔۔یقینا برابر والے ہندوؤں نے مدد کی ہوگی” .
ہم سب باہر کی جانب بھاگے۔ مگر قسمت کچھ اور ہی فیصلے لکھ رہی تھی۔۔۔تاریخ کی کتابوں کو خون سے بھر دینے کا عزم لے چکی تھی۔۔۔
گھر کا پچھلا گیٹ توڑتے دشمن ہم پر حملہ آور ہوگئے تھے۔۔ابا ہماری ڈھال بن گئے ہم بھاگے۔۔پر ابا کب تک لڑتے۔۔ایک ظالم سکھ کی تلوار نے میرے پیارے ابا کے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ وہ ہم تک پہنچ گئے ہم بھاگ رہے تھے۔۔میرے سامنے اماں اور آپا کو قتل کیا گیا، ان تینوں کے جسم ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے ……… ہائے رے قسمت اس تاریک رات نے مجھ سے بہت کچھ چھین لیا۔دادا اور میں چھپ گئے تھے اس لئے بچ گئے اور اسی طرح بچتے بچاتے پاکستان تک کا سفر کیا، ہمارا رختِ سفر ایمان باللہ تھا، ہمارا کھانا تسبیح تھی اور ہماری منزل ہماری امید تھی . اسی کے سہارے دشمن کے نرغے سے بچ کر، ہندوستان میں خون کی ہولی جو کھیلی گئی تھی اس کا نظارہ کرتے کرتے۔
خاک و خون میں لپٹے ہم پاکستان پہنچ گئے ………!!!!!
آپا نے سچ کہا تھا ، جنت کا ٹکڑا ہوگا پاکستان ، واقعی یہ جنت کا ہی تو ٹکڑا ہے۔ آنکھوں کے سامنے اپنے والدین اور بہن کے لاشے آگئے جس کا ظالموں نے مسلہ بنا دیا تھا . پر اپنے خون کے بدلے، اپنی عصمت کے بدلے، انہوں نے آگے آنے والی نسل کو ایک قیمتی تحفہ دیا تھا
…….آزادی کا تحفہ …….
اور آگے آنے والی نسل کو اپنا قرضدار بنا دیا تھا۔۔
“اے راہِ حق کے شہیدوں ……. وفا کی تصویروں ……. تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں ……… لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو ……… وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دئیے تم نے …….. بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو …….. سہاگ کتنی بہاروں کے ……. رکھ لئے تم نے ……… تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں۔۔”
یہ سچ ہے کہ اگر انہوں نے قربانی نہ دی ہوتی تو ہم کسی ہندو کے گھر غلام ہوتے۔۔جو ہمیں بھیڑ بکری سے بھی کمتر سمجھتے۔ خواب سے تعبیر کا یہ سفر خون کے دریا کو پار کرکے مکمل ہوا . منزل اب قریب ہے۔ تکمیل کے سفر کا آغاز ہوچکا ہے! 65ء کی جنگ، پاکستان پر حملہ ہوا،دشمن ناکام رہا ……. دشمن سازش بُنتا گیا پھر بالآخر 71ء میں ان کی کی گئی سازش کامیاب گئی۔۔یہ ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔۔خبر سنی تو ایسا لگا میرا دل کسی نے کاٹ دیا ہے۔۔اس ملک کے نہیں بلکہ اس مقصد کے ٹکڑے کیے گئے تھے۔ معاشی، سیاسی بحران نے میرا ملک تباہ کیا تھا . پھر یہ ملک ایک عجیب مسئلے کا شکار ہوا، یہاں غیرت مٹی، حیا نے منہ موڑا۔ مرعوبیت کا دوڑا سر چڑھ کر بولا اور ہم جو خود کو آزاد سمجھتے تھے احساس ہوا ذہنی غلامی کا شکار ہیں،
دوسروں کی زبان کو اپنا کر، ان کے رسم و رواج کو اپنا کر، ان کے طرزِ زندگی گذار کر، اپنے رسم و رواج، نظام زندگی بھول گئے۔ کشمیر جسے ہم سے پاکستان بننے سے قبل ہی چھین لیا گیا تھا ہم اس کو 70 سال بعد بھی واپس حاصل نہ کرپائے۔ اپنا مقصد بھول بیٹھے، پاکستان کو ہم صرف زمین کا ٹکڑا سمجھ بیٹھے،
افسوس ہمارا خواب تکمیل کا سفر طے نہ کر پایا۔ افسوس!! یہ آج کا پاکستان،اقبال کا پاکستان نہیں، جس کو آپا نے جنت کا ٹکڑا کہا تھا، جس کو دادا آزاد کہتے تھے، جس کیلئے خون کا دریا پار کیا گیا تھا!!! پر ابھی بھی وقت ہے، کہ اس سفر کو جاری رکھا جائے۔ اور منزل تلک پہنچ جائیں۔ قرآن کو اپنی زندگی کا محور بنا کر۔ سنتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کر،
ہم لائیں طوفان سے کشتی نکال کر،
اس ملک کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کر!!

اپنا تبصرہ بھیجیں