مقامِ بندگی اور ہے،مقامِ عاشقی اور ہے! – عائشہ فہیم




آپ نے کبھی غور کیا کہ اللہ تعالیٰ جہاں فرماتے ہیں:
لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ
“اگر شکر گزار بنو گے، تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا۔” (ابراہیم 7)
تو یہاں وہ کس بات کا یقین دلارہے ہیں ؟ یہ کہ اگر بندہ شکر کرے گا تو وہ “اضافہ” کرے گا۔ کس میں اضافہ؟ یہ مینشن نہیں کیا۔ یعنی ہر طرح کی نعمت میں اضافہ ۔ خواہ وہ مال ہو، صحت، رزق، صلاحیتیں، وقت یا کچھ بھی۔۔ اور یہ زیادتی نعمتوں کی “مقدار” میں بھی ہو سکتی ہے، اور ان کی “بقاء و دوام” میں بھی ۔ یعنی شکر اور نعمتوں کا بڑھنا directly proportional ہے ۔ یہ اُس کا ‘وعدہ’ ہے۔ تو ایک گہرا سانس لیں، “شکر” inhale کریں ۔ اور خدا سے ‘شکر’ کے ذریعے لینا شروع کریں۔
اگر آپ کے اعضاء سلامت ہیں تو شکر بجا لائیں کہ کتنے ہی لوگ کسی عضو کی معذوری کی بنا پہ محتاجی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔۔ اور یہ محتاجی کس قدر کٹھن ہوتی ہے ! اگر آپ اپنے ہاتھوں سے کھا سکتے ہیں، لقمہ منہ تک لے جاسکتے ہیں، سانسوں میں روانی ہے تو شکر ادا کریں کہ کتنے ہی ہسپتالوں کے بستروں پہ پڑے مریض کھانے، پینے اور سانس تک لینے کے لئے مشینوں کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ تعلیم حاصل کررہے ہیں ، آپ کا ایک وقت اس میں لگتا ہے ، بادلِ نخواستہ پڑھنا پڑتا ہے ، تو بھی شکر ادا کریں ۔ کہ کتنے ہی ہزاروں بچے پڑھنے کی طلب رکھنے کے باجود اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ پاتے ۔ کتنے ہی ایسے ہیں کہ معاشی حالات ان کی بیڑیاں بن جاتی ہیں۔۔۔
اگر آپ کے پاس اچھی صحبت ہے ، اچھے دوست ہیں ، کچھ ایسے ساتھی بھی ہیں جنہیں دیکھ کر آپ کا ایمان تازہ ہوجاتا ہے ، تو شکر ادا کریں . کہ روزِ حشر کتنے ہی ایسے ہوں گے جو اپنے دوستوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ کاش میں نے اسے دوست نہ بنایا ہوتا!” اگر آپ شادی شدہ ہیں اور آپ کے پاس ایک خیال رکھنے والا ، محبت کرنے والا ہم سفر ہے ، تو شکر ادا کریں کہ کتنے ہی ایسے ہیں جو ساتھ ہیں لیکن قربت نہیں ہے ۔ اور کتنے ایسے ہیں جو کئی عرصہ ساتھ رہنے کے بعد اب الگ ہیں ، اور اپنی ذات کی کرچیاں سمیٹ رہے ہیں ۔ اگر آپ اپنے بچوں کے شور ہنگاموں ، چیخ و پکار سے تنگ آجاتے ہیں . تو کچھ وقت الگ بیٹھ کر اس پہ شکر ادا کریں ! کہ کتنے ہی ایسے ہیں جن کی تنہائیاں اس کی طلب میں تڑپتے گزرتی ہیں۔۔
اگر آپ کے اردگرد بڑے موجود ہیں، جن کی روک ٹوک کبھی کبھار آپ کو کَھلتی ہے تو ان کا سوچ لیا کریں جن کے لئے تنہائیاں اور اکیلا پن عذاب بن جاتا ہے۔ اگر آپ رات سکون کی نیند سوجاتے ہیں، تو شکر ادا کرکے سوئیں کہ اس کی قدر وہی جانتا ہے جس کی راتیں بے چینی میں بستروں پہ کروٹیں بدلتے گزرتی ہیں۔ اگر آپ صبح نئی توانائی کے ساتھ اٹھتے ہیں تو اٹھتے ہی شکر ادا کریں کہ کتنے ہی لوگوں کی آنکھ خدشات اور خوف کے ساتھ کُھلتی ہے۔ اگر آپ کسی بیماری کے بعد صحتیاب ہوئے ہیں تو شکر ادا کریں کہ کتنے ہی لوگ طویل بیماری سہتے سہتے موت کی تمنا کرنے لگتے ہیں! اگر آپ کو چھت میسر ہے، آپ رات نرم بستر پہ سوتے ہیں، آپ دو اور تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں تو شکر بجا لائیں اور انہیں یاد کرلیا کریں جن کی راتیں فٹ پاتھ پہ گزرتی ہیں، یا جن کے لئے دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور وہ سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔۔
آپ مسلمان ہیں اور اپنے خالق کی رضا کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں تو شکر ادا کریں . کہ جنت کی امید آپ کو تازہ دم کردیتی ہے!
ورنہ کتنے ہی ایسے ہیں جو زندگی میں سب حاصل کرکے بھی ایک دن لاحاصل رہ جائیں گے۔۔۔ اگر آپ سے اردگرد کے لوگ محبت کرتے ہیں، چاہے جانے کا احساس آپ کے اندر مسرت پیدا کردیتا ہے تو شکر کا گہرا سانس لیں۔۔ کہ کتنے ہی ایسے ہیں جنہیں کبھی چاہے جانے کا احساس ہی نہ ہوا ہوگا، جو محبت کے اس مفہوم سے ناآشنا رہے ہیں۔ اور اگر آپ ٹوٹ گئے ہیں، غمگین ہیں، زندگی کٹھن سی لگنے لگی ہے، اور آپ روتے ہوئے اکیلے میں رب کریم سے راز و نیاز کرتے ہیں، گڑگڑاتے ہیں، اس سے بچوں کی طرح مانگتے ہیں تو شکر ادا کریں۔ کہ آپ کے پاس خدا ہے اور آپ اسے محسوس کرسکتے ہیں! کہ خدا تو سب کے پاس ہے، لیکن اس کی معیت کا احساس ہر کسی کو نہیں ہوتا۔ شکر ادا کریں کہ آپ کے پاس “دعا” ہے۔ کہ کتنے ہی اس دعا کے یقین اور امید کے بغیر زندگی میں خالی پن رکھتے ہیں۔ شکر ادا کریں کہ۔۔۔
وَ مَنۡ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ
“اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے۔”
بالکل ویسے ہی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاقوں بھری زندگی گزارتے ہوئے بھی جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ پاؤں میں ورم آجاتا۔ پوچھا جاتا کہ ایسا کیوں یا رسول اللہ؟ تو جواب آتا “کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟” ⁦ کہ
مقامِ بندگی اور ہے مقامِ عاشقی اور ہے!!

اپنا تبصرہ بھیجیں