جینے کا فن – ریاض علی خٹک




پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر میں پیڑ کے نیچے بیٹھے ایک موچی کے سامنے میں نے اپنا جوتا مرمت کیلئے رکھا. موچی نے مجھے سر اٹھا کر دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی لیکن جوتے کو ایسی محبت سے سہلا رہا تھا جیسے اس کی مشقت پر پرسا کر رہا ہو یا دلاسہ دے رہا ہو. بہت صفائی سے مرمت کر کے اس نے جوتا واپس کیا.
ایک سرسری سی نظر ڈال کر اس نے پیسے بتائے. ادائیگی کر میں چل پڑھا. اسے شائد ہی لمحہ بعد میرا چہرہ بھی یاد ہو. لیکن اس کی محبت و توجہ بتا رہی تھی جوتا اسے یاد رہا ہوگا. کسی لکڑی پر نقش و نگار بناتے اچھے کاریگر کو دیکھیں، اپنے فن میں یکتا مصور کے برش کو دیکھیں. یہ اتنی توجہ سے کام کر رہے ہوتے ہیں. اتنی باریکی سے معمولی سے معمولی نقش و نگار کو ابھار رہے ہوتے ہیں کہ دیکھتے ہوئے آپ کو تکمیل کی خواہش کوفت میں مبتلا کر دے گی لیکن وہ فنکار ایسا منہمک ہوگا جیسے بس یہی کام زندگی ہے. تکمیل کی اسے شائد خواہش ہی نہیں.
فن یہی ارتکاز ہے. یہی انہماک ہے. وہ تعلق جو آپ کو سر اٹھانے نہ دے. لیکن اکثریت ایسی نہیں ہوتی. انکا ارتکاز یعنی focus اتنا پھیلا ہوا ہوتا ہے جہاں یہ خود بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ چاہتے کیا ہیں.؟ وہ ایک کے بعد دوسری چیز و مختلف میدانوں میں گھستے ہیں. عدم ارتکاز ان کا انہماک نہیں رہنے دیتا. اور انہماک نہ ہو تو خواہش بس تکمیل یعنی جان چھڑانا رے جاتی ہے. زندگی جینا ایک فن ہے. اسے فنکار کی طرح جئیں. ورنہ جو جان چھڑاتے ہیں وہ زندگی نہیں بلکہ زندگی ان کو جی کر نکل جاتی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں