کراچی کے سادہ لوگ! – زبیر منصوری




مطلب تم لوگ سمجھتے ہو کہ تمہارا کچھ بن جائے گا ؟ مطلب تم ڈوب جاو گے ، رو گے ، فیس بک پہ لکھو گے ، تمہاری مائیں رو رو کر ٹی وی پر کہہ رہی ہوں گی کہ میری زندگی کی جمع پونجی میری بچی کا سارا جہیز سرجانی ٹاون میں ڈوب گیا تو اس سے حالات بہتر ہو جائیں گے؟ اگلی بارش میں ایسا نہیں ہو گا ؟ تمہین گھروں سے پانی بالٹیوں میں بھر کر نکالنا نہیں پڑے گا تمہاری مسجدیں گٹر کے پانی سے نہیں بھریں گی ؟
بہت سادہ ہو یار ! تمہارے حاکم اور ان کے حاکم اور ان کے بھی حاکم تمہیں بس سمجھ چکے ہیں . واللہ کسی کے سینے میں دل نہیں ہے یہ اوّل تو ان مشکل دنوں میں ٹی وی سوشل میڈیا دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں نہ سنیں گے نہ پریشانی ہو گی زیادہ ہو تو بند کمروں سے ایک آدھ بیان اور ضرورت ہو تو شہباز مراد اور بزدار کی طرح لانگ بوٹ ٹائپ ڈرامہ بازی اور ایشو ختم ہونے یا موضوع بدلنے کا انتظار اور بس۔۔۔ پھر رات گئی بات گئی اگلی بارشوں تک !
بہت سادہ ہو یار ! 35 سال اپنوں نے چونا لگایا اور اورنگی کورنگی سے ڈیفنس اور دبئی شفٹ ہو گئے . اور اب چونا لگانے کا کا م نئے تازہ دم شکاریوں کو سونپ گئے کہاں ہے بابر غوری ؟ کہاں ہیں عشرت العباد ؟ اسی طرح جلد لکھوں گا کہاں ہے فردوس شمیم ؟ کہاں ہے خرم شیر زمان ؟ اور پی پی ؟ وہ تو تمہاری ازلی دشمن تھی ہے رہے گی !
بہت سادہ ہو یار ! لگے رہو منا بھائی اورفوٹو ڈالو کلپ شئیر کرو ، کچرے کے ڈھیر دکھاؤ ، ٹوٹی سڑکیں ، جابز ختم ، جب تک اصل ذمہ داروں کو پہچان کر یہ نہیں کہو گے کہ اب کی فصل پہ جاگیرداروں کے منہ پر یہ بولیں گے …….. گلشن کے سب پھول اور کانٹے آدھے آدھے تولیں گے ……. تب تک کچھ نہیں ہو گا میری جان کچھ بھی نہیں۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں