ہاں ! یہ ملک بدلے گا ضرور بدلے گا – زبیر منصوری




“بات شروع ہی مایوسی سے کرو تاکہ اختتام ناکامی پر ہو” ……. یہی تمہارا موٹو ہے نا؟ میں نے اسے غصے سے ڈانٹ دیا . شاید لمبے عرصہ بعد ایسا ہوا مگر ضبط بھی آخر کب تک؟ وہ بولے چلا جا رہا تھا
“کچھ نہیں ہوگا یہ عوام ہے ہی جوتوں کے قابل یہ راشن ہم سے لیں گے اور ووٹ انہیں کو دیں گے جو چونا لگائیں گے ۔۔انہیں جوتے کھانے دیں یہ ۔۔ ۔یہ۔۔۔ ”
“چپ ہو جاو بس ” ، میں نے اسے ڈانٹ دیا . وہ حیرت سے میرا منہ دیکھنے لگا بولا مگر۔ میں نے کہا کوئی اگر مگر نہیں ۔ تم دیکھنا یہ دنیا بدلے گی . یہ ملک بدلے گا ……! ہاں بس اس وقت تک نہیں بدلے گا جب تک تم جیسے لوگ ہر جگہ مایوسی کی الٹیاں کرتے رہیں گے . انسان ہو یا گروہ وہ غلطیوں سے سیکھتے ہیں ان کی اگلی نسلیں سیکھتی ہیں اس خطہ کی ہزاروں سالہ تاریخ شکست اور فاتحین کے جوتے اٹھاتے گزری ہے . غلامی اور طاقتور کا خوف ہم سب کی نس نس میں ہے اس قوم کو کھڑا کرنے میں نسلیں لگیں گی ایک نئی غیرت مند نسل پروان چڑھے گی تو ان میں سے وہ انقلابی گروہ اٹھیں گے جو ایک نیا زمانہ تخلیق کریں گے .
تم جیسے لوگ منفی لفظوں لہجوں کی آگ سے امید کی آخری کونپلیں بھی جلادینا چاہتے ہو زمین کی گود کو بانجھ بنا دینا چاہتے ہو …… خدا کے لئے کبھی عوام پر الزام دینے کے بجائے اپنے بارے میں بھی سوچو ……… تم نے آخر کب خود نبی مہربان ص کی سنت سے سیکھ کر اس نرمی مٹھاس محبت اور تسلسل سے دعوت کا کام کیا ؟ تم آخر کب خود تیار ہوئے یا اپنے ٹیلنٹڈ کمیونیکیشن اسٹریٹیجسٹس کو موقعہ دیا کہ وہ مارکیٹ ریسرچ کی بنیاد پر وہ پیغام تخلیق دیں اس زبان لہجہ اسلوب انداز اور ویو لینتھ کے مطابق تخلیق دیں جس میں وہ آج کی نسل کے دل ودماغ میں پیوست ہو سکے؟ تم نے کب اپنے پلانرز کو زمین پر کھڑے ہو کر حقیقی خاکے بنانے دئیے ؟ تم نے کب اپنے کرئیٹو دماغوں کو وہ ایوینٹس تخلیق کرنے دئیے کہ آج کا نوجوان کھنچا چلا آئے ….. تم کب آنے والے شیروں کے لئے کچھار غذا اور کام تیار کر پائے کہ وہ بس تمہارے پاس ٹہر جائیں تمہارا ہی ہو کر رہ جائیں؟
تم اپنے لیڈرز کے ساتھ کب پتا ماری کرنے کو کھڑے ہوئے اور اپنا سب کچھ کھپا دیا؟ سوائے باتوں تبصروں کہانیوں یہ غلط وہ درست کے سوا وہ کام بتاو جو پچھلے ایک برس میں کیا ہو؟ کوئی کام جوتم اللہ کے سامنے پیش کر سکو۔ خدا کے لئے! کچھ کر نہیں سکتے تو کم ازکم خاموش رہو ، راستہ چھوڑ دو جو لڑ رہے ہیں ان کی امیدیں نہ توڑو، مجھے یقین ہے انہیں میں سیکھ کر وہ نکلیں گے جو کر دکھائیں گے . انشااللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں