کراچی،حالیہ بارشیں،حکومت – زبیر منصوری




چلیں بارش تو آسمانی آفت ہے ۔ ہمیں قبول ……..! چلیں نالوں پرچائنہ کٹنگ مصطفی کمال کی مسلط کردہ سلطانی آفت وہ انشااللہ جلد اسے بھگتیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس ڈھائی کروڑ کے شہر میں اس آفت سے نبٹنے کا سول حکومت کے پاس کوئی بندوبست ہی نہیں ؟
کامران ایک ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ ملیر ندی میں پھنسے ہوئے آدمی اور بوڑھی عورت کو بچانے تین دوستوں کے ساتھ تیز پانی میں اترا دو دوست مدد کرتے کرتے خود پانی میں بہہ گئےاور کامران رات بھر تیز ریلے سے بچنے کے لئے ایک پول کے ساتھ لٹکا رہا بھٹو اور الطاف کے کراچی میں کوئی ایسا سامان نہ تھے . جس سے اسے رات بھر زندگی اور موت کی کشمکش سے نکالا جا سکتا؟ کراچی کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ٹرک اور مزداگاڑیاں منگوا کر اپنے ورکر ز کو گھر بھجوایا . لوگ چھتوں پہ پھنسے ہوئے ہین کشتیوں میں سفر کر رہے ہیں گھروں سے باہر راتیں گزار رہے ہیں . کہیں کوئی سرکاری مشنری کوئی جدید طریقے کوئی ریسکیو کا سامان کچھ بھی نہیں ؟؟ کچھ ہے تو فوج کے جوان ہیں یا الخدمت کے گاڑیوں کو دھکے دیتے یا واٹر بوٹ پر بریانی کی دیگ لے جاتے کارکن عالمگیر ہے یا ایدھی ۔۔۔
کیا یہ کوئی ایسی آفت ہے جو پہلی بار دنیا پر نازل ہوئی؟ بارش ہے چلئیے شدید اور ریکارڈ بارش ہے مگر کیا اربوں کھربوں کما کر ان کی وزارتیں اسمبلیاں چلانے والا شہر مر رہا ہو تو ان کے پاس ہیلی کاپٹر ، بڑی گاڑیاں ، سیڑھیاں بڑی اور ٹرینڈ انسانی فورس بھی نہیں؟ سب ممکن ہے۔۔! بس ان کے مضبوط انتخابی حلقوں میں ہر سطح پر بہادر اور موثر متبادل کھڑے کر کے ان کی گرفت پر ضرب لگانی ہو گی ان کی طاقت کے مراکز کو زہین اور ذمہ دار حساس رائے عامہ کے ذریعہ بتانا ہو گا کہ اب جوڑ برابر کا ہے . ان بد بختوں نے دین داروں کو بس عید محرم میلاد کشمیر فلسطین شادی و جنازہ کے لئے رکھ چھوڑا ہے یا پھر آٹا بانٹتی “این جی او “ سمجھ لیاہے
جب تک زمین پر کی گئی مضبوط حقیقی منصوبہ بندی اور ڈیٹا ڈرون DATA DRIVEN فیصلے نہیں ہوں گے جب تک ان کی بدمعاشی اور کرپشن ثبوتوں کے ساتھ سینہ گزٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ایکسپوز نہیں ہو گی . یہ ہمارے سروں پر سوار ہمیں ڈوبتے دیکھ کر ڈرامہ بازیاں کرتے رہیں گے۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں