قتلِ حسین اصل میں مرگ یزید ہے- عالیہ حمید




ماہ و سال ، گھنٹے اور دن سبھی ایک جیسے ہوتے ہیں . یہی 24 گھنٹے اس کائنات کا الٹ پھیر ہیں …… لیکن زندگی کے کسی لمحے میں ، تاریخ کے کسی موڑ پر کوئی مقام ایسا ضرور آجاتا ہے ، کوئی واقعہ ایسا ہوجاتا ہے ، کچھ ہستیاں ایسی گزر جاتی ہیں جو ان لمحات کو امر کر دیتی ہیں ۔ یہ عظیم ہستیاں اپنے عظیم فیصلوں کی بنیاد پر معمولی دنوں کو وہ اعزاز بخش جاتی ہیں جو رہتی دنیا تک برقرار رہتا ہے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے حق کی خاطر قربانی دے کر ماہ محرم کو امر کردیا ، ایسا رتبہ اور اعزاز بخش دیا کہ تا قیامت ایک مینارہ نور بن کر آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا . ان کا خون اہل اسلام پر ایک قرض ہے۔
اےکربلاکی خاک اس احسان کونہ بھول
تڑپی ہے تجھ پر لاش جگر گوشہ بتول
اسلام کے لہو سے تیری پیاس بجھ گئی
رنگین کر گیا تجھے خون رگ رسول
کیا فرق پڑتا تھا حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو کہ اگر وہ کفر کے ہاتھوں بک جاتے یا وقت کے جابر سلطان کے سامنے اپنا سر جھکا دیتے ۔ اگر یزید ابن معاویہ کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ، کربلا کا دلدوز معرکہ برپا نہ ہوتا کہ جسے رہتی دنیا تک بھلایا نہ جا سکے گا۔مگر
“بازی اگرچہ پا نہ سکا ، سر تو کھو سکا”
کے مصداق ہر معرکہ بازی پانے کے لئے نہیں ہوتا۔ایک حق پرست کے سامنے حق پر قائم رہنا اور اس پر ڈٹ جانا کامیابی ہے پھر چاہے اس کا سر نیزے پر ہی کیوں نہ ٹکا دیا جائے،پھر چاہے اس کا سارا خاندان ہی کیوں نہ کٹ جائے۔ مگر رقیب روسیا کو کیا خبر کہ جس سر کو نیزے کی انی پر ٹکائے ، وہ خود کو کامیاب سمجھ رہا ہے ، دراصل یہ اس کی ناکامی ہے اور ایسی ناکامی کہ جس نے اس کی آخرت اور دنیا دونوں تباہ کر دیں۔ اور رہی بات موت اور زندگی کی تو وہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ حق پر سودا کر لینے اور اسے تھوڑی سی قیمت پر فروخت کرنے کے بعد اس کے بدلے دنیا جہان کی کامیابیاں سمیٹ کر خود کو عقلمند سمجھنے والے یہ جان لیں کہ موت تو بہرحال پھر بھی آنی ہے۔ تو
“جب موت مقدر ہے، پھر موت سے کیا ڈرنا”
حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا دل اس پر مطمئن تھا کہ موت مقدر ہے تو کیوں نہ جو زندگی قسمت میں ہے تھوڑی یا زیادہ اس کو حق کے لیے وقف کر دیں۔نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکے خاندان کو بیعت یزید، میدان کربلا میں قتل ہونے سے بچا سکتی تھی لیکن آپ نے اپنی جان پیش کر کے ثابت کردیا کہ نااہل اور عیاش حکمرانوں کی بیعت کرنے سے، حق کی خاطر تلوار اٹھانا بہتر ہے
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہو ہم نشین تومحمل نہ کرقبول
ہم اور ہمارے آباء ہمیشہ سے 9 محرم حضرت امام حسین کی عقیدت اور محبت میں پرجوش انداز میں مناتے آ رہے ہیں ، روزے رکھے جاتے ہیں ، سبیلیں لگائی جاتی ہیں ، کنڈیاں پکائی جاتی ہیں ، پروگرام کیے جاتے ہیں اور شیعہ حضرات پیٹنےاور ذوالجناح کا جلوس نکالنے کو امام حسین کے ساتھ محبت کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس وقت کسی کے بھی انداز محبت پر تنقید کرنا ہمارا مقصد نہیں۔ہر ایک کا اپنا انداز ہے اور وہ اپنے اپنے طریقے سے حضرت امام حسین کے ساتھ محبت کا ثبوت دیتا ہے ۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ حضرت امام حسین کے اس اہم دن کے موقع پر ان کی قربانی کی روح تک پہنچا جائے اور اس پیغام کو سمجھا جائے جو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی شہادت کے بدلے امت مسلمہ کو دیا
کہ حق و باطل ایک سرزمین پر قدم ملا کر نہیں چل سکتے، ذاتی غرض کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی جاسکتی، نظام خلافت ہی حکومت کی بنیاد ہونا چاہیے، ووٹ یا حق رائے دہی کا اسلامی تصور قائم رہنا چاہیے وقت کا حکمران نائب خدا ہے اور خدا کے آگے جواب دہ ہے، بادشاہت کا اسلام میں کوئی تصور نہیں, مرد مومن کو ڈر کر جھکنا نہیں چاہیے۔ اس لیے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے چاہیے کہ میدان کربلا کی جنگ محض دو انسانوں کی جنگ نہ تھی یہ ایک ریاست کی دوسری ریاست سے جنگ تھی۔یزید کی حکمرانی اسلام کے اندر بادشاہت کی بنیاد بننے والی تھی۔اسلام کی بنیاد خلافت پر قائم ہوتی ہے،جس کے اندر مرد مومن کی صفات سے متصف ہونے والا مسلمان ہی خلیفہ ہونے کا مستحق ہو سکتا ہے۔اسی لیے کہنے والے ہمیشہ سے یہ کہتے آئے ہیں کہ
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
لیکن اے یزید ! تیری بدنصیبی پر افسوس ہوتا ہے, تیرے حوصلے پہ حیرت ہوتی ہے, تو نے گلشن رسالت کے پھول کو مسل ڈالا . نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کے بارے میں فرمایا
“یہ دونوں اس دنیا میں میرے پھول ہیں۔اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔اور جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔”
اور یہ کربلا صرف ایک بار برپا نہیں ہوئی۔مجھے تو اندلس کے فاتح اور افریقی سپہ سالار موسی بن نصیر کی بے رحمانہ قید ، طائف کے محمد بن قاسم کی سندھ میں المناک سزائے موت ، سراج الدولہ کو اپنے ہی دوستوں کی بے وفائی کے نتیجے میں ملنے والی شکست اور سرنگا پٹم کے سلطان ٹیپو کی حلیف ریاستوں کی غداری کے نتیجے میں انگریزوں کے ہاتھوں شہادت میں بھی کربلا نظر آتی ہے۔۔۔۔ ! ان سب شہادتوں میں دو چیزیں مشترک ہیں ……… اسلام کی خاطر دشمن کا مقابلہ کرنا …….. مگر غداری کے نتیجے میں شکست کھا لینا ……. اور جان گنوا دینا۔ مطلب شہادت !!! اگر دیکھا جائےتو ظاہراً کامیابی نہیں ملی مگر رہتی دنیا تک ان سپاسالاروں اور رہنماؤں کی قربانیوں کو سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ یہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر اور امت مسلمہ کے لیے فخر کا نشان ہیں۔ لوگ آج بھی موسی بن نصیر کو فاتح اندلس, محمد بن قاسم کو سحری کا ستارہ ، سراج الدولہ کو مجاہد آذادی ، ٹیپو سلطان کو شیر اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ تو ان سب کے امام ہیں ۔
جب کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو
قائم رہو حسین کے انکار کی طرح
امت مسلمہ کے لیے پیغام یہ ہے کہ سیاسی چالبازیاں کرنی پڑیں تو کریں ،معاہدے کرنے پڑیں تو کریں۔لیکن جہاں اسلام کے اصولوں پر زد پڑتی ہو وہاں ڈٹ جائیں اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے باطل کا سامنا کریں۔ظالم کو للکارنے کی جرات پیدا کریں اور مظلوم کا ساتھ دیں۔
دیتے ہیں اجالے میرے سجدوں کی گواہی
میں راتوں کو چھپ کر عبادت نہیں کرتا
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

اپنا تبصرہ بھیجیں