ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں ، حصہ 1 – ماہین خان




بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم
سو جاؤ عزیزو کہ فصیلوں پہ ہر ایک سمت
ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں
اللہ رب العزت کا فرمان ہے:

وَلا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ (سورہ البقرہ ۔ 154 )
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمھیں خبر نہیں۔

حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شہید کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں سات انعامات ہیں ( 1) خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے۔ ( 2) اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔ (3) عذاب قبر سے اسے بچا دیا جاتا ہے۔ (4) قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے اسے امن دے دیا جاتا ہے۔ (5) اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ (6 ) بہتّر حور عین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے۔ ( 7) اور اپنے اقارب میں ستّر آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔
( مسند احمد )
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے

جنہیں تو نے بضشا ہے زوق خدائی
شہادت ہے مطلوب مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
دونیم ان کی ٹھوکرسےصحراودریا
سمٹ کر پہاڑان کی ہیبت سےرائی

اسلام میں شہید کا مرتبہ اور شہادت کا مقام انتہائی بلند ہے، جس کی کئی مثالیں ہمیں قرآن و حدیث میں ملتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جابجا شہید کا رتبہ بیان کیا ہے ۔ اور اس کی عظمت کی گواہی دی ہے ۔
یہ پاک سرزمین انہیں شہیدوں کے لہو سے سیراب ہوکر اب اپنے تہتر73 سال مکمل کرچکی ہے ۔ ان تہتر سالوں میں اس سرزمین کی ماوؤں نے کئی ایسے بیٹے جنم دیئے ،جنہوں نے نا صرف اس ملک کی بقا کی ضمانت دی ۔۔۔۔۔۔ بلکہ اپنے لہو سے اس مٹی کی گواہی بھی لی ۔ کتنی ہی ماوؤں نے اپنے جگر گوشوں کو اس مٹی کے حوالے کیا ۔ آج سے ہم ایسے ہی نوجوانوں کا ذکر کرنے جارہے ہیں جنہوں نے اس وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کیا ۔
ان جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے انہیں کئی عسکری اعزازات سے نوازا ، جن میں سرفہرست نشان حیدر ہے ۔

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرنگوکرکے

نشان حیدر:

نشانِ حیدر پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے۔ جو دورانِ جنگ دشمن سے قبضے میں لیے جانے والے اسلحے کو پگھلا کر تیار کیا جاتا اور اس میں 20 فیصد سونے کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور نشانِ حیدر اب تک پاک فوج کے دس جوانوں کو مل چکا ہے۔ پاکستان کی فضائیہ کی تاریخ اور پاکستان کی بری فوج کے مطابق نشانِ حیدر حضرت علی کے نام پر دیا جاتا ہے کیونکہ ان کا لقب حیدر کرار تھا اور ان کی بہادری ضرب المثل ہے ۔ یہ نشان صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے، جو وطن کے لیے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو چکے ہوں ۔ یہ نشان اب تک گیارہ جوانوں کو دیا جا چکا ہے ۔

نائیک سیف علی جنجوعہ
کیپٹن راجہ محمد سرور
میجر طفیل محمد
میجر راجہ عزیز بھٹی
پائلٹ آفیسر راشد منہاس
میجر محمد اکرم
میجر شبیر شریف
سوار محمد حسین جنجوعہ
لانس نائیک محمد محفوظ
کیپٹن کرنل شیر خان
حوالدار لالک جان

نائیک سیف علی جنجوعہ شہید آف منڈھیر :
نائیک سیف علی جنجوعہ ، کھنڈباز (کھنڈہار) تحصیل نکیال (کوٹلی آزاد جموں و کشمیر ) میں 25 اپریل 1922ء میں پیدا ہوئے۔ سیف علی جنجوعہ 18 سال کی عمر میں 18 مارچ 1941ء کو وہ برٹش انڈین آرمی میں رائل کور آف انجینئرز میں شامل ہوئے ۔ 1947ء میں وہ اپنے وطن واپس آئے اور سردار فتح محمد کریلوی کی حیدری فورس میں شامل ہو گئے۔
یکم جنوری 1948ء کو حیدری فورس کو شیر ریاستی بٹالین کا نام دے دیا گیا اور اس کا کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل شیر خان کو بنایا گیا۔ اس بٹالین میں سیف علی خان جنجوعہ کو نائیک کو عہدہ دیا گیا اور انہیں بدھا کھنہ کے مقام پر دشمن سے دفاع کا حکم دیا گیا . سیف علی جنجوعہ نے26 اکتوبر 1948 کو جاں بہ حق ہوئے۔ توپ کا گولہ ان کی پوسٹ پر لگا، جس وقت نائیک سیف اللہ جنجوعہ کی موت ہوئی ان کی عمر 26 سال 6 ماہ تھی۔ آپ کا مزار آپ کے آبائی گا‎ؤں میں واقع ہے۔
پہلا ہلال کشمیر:
نائیک سیف علی جنجوعہ شہید پیر کلیوہ راجوری کی چوٹی پر بھارتی فوج کے ایک بریگیڈ کا مقابلہ ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری کے ساتھ کیا اوربریگیڈ کو پسپا کرتے ہوئے انتقال کر گئے ۔ اسی طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔ ان کی بے مثال بہادری دکھانے پر14 مارچ 1949ء کو حکومت آزاد جموں و کشمیر نے نائیک سیف علی خان جنجوعہ کو آزاد جموں و کشمیر کا سب سے بڑا جنگی اعزاز” ہلال کشمیر “ دیے جانے کا اعلان کیا۔ ان کو سب سے پہلا” ہلال کشمیر “تمغا سے نوازا گیا جو پاکستان کے نشان حیدر کے مساوی ہے ۔ حکومت پاکستان نے آپ کی قربانی کی یاد میں 30 اپریل 2013 کو ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا ہے جو محکمہ ڈاک سے دستیاب ہے۔
اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لیے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔ جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسیایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے ۔ بالاخر 30 نومبر 1995ء کوحکومت پاکستان نے ہلال کشمیر کو پاکستان کے سب سے بڑے عسکری اعزاز نشان حیدر کے مساوی تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ۔
پی ایس اے کی سفارش پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6 ستمبر 1999 کو نائیک سیف علی جنجوعہ کے لیے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان فرما کر ان کے بیٹے صوبیدار میجر محمد صدیق کو”نشان حیدر” دیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں