ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں ، حصہ 8 – ماریہ عبدالواسع




سوار محمد حسین جنجوعہ شہید:
اقبال نے تب و تابِ جاودانہ کو جو صلہء شہید قرار دیا تھا ……. تو یہ سو فیصد درست تھا اور اسکی زندہ مثال ہمارے وہ شہداء ہیں ، جنہوں نے ملک کے دفاع کے لۓ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کۓ . اور ہمارے تحفظ اور ترقی کے لۓ اپنا سب کچھ اس طرح قربان کیا کہ پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ۔ ان شہداء کی تعداد ہزاروں میں ہے اور سب کے سب ہی قابلِ تعظیم ہیں۔
آج ذکر ان شہید کا ہے جو دسمبر 1971 کی انڈیا پاکستان کی جنگ میں مسلسل دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوۓ نوجوانی میں شہادت کے عظیم رتبے پرفائز ہوۓ۔
یہ راہِ عشق ہے، مقتل سے ہوکے جاتی ہے
سو اس سفر میں کوئی دل میں ڈر نہیں لاتا
سوار محمد حسین شہید جنجوعہ راجپوت فیملی میں 18 جنوری 1949 کو ڈھوک پیر بخش راولپنڈی ، پنجاب میں پیدا ہوۓ( اب یہ گاؤں ڈھوک محمد حسین جنجوعہ کے نام سے موسوم ہے)۔ وہ ستمبر 1966 کو 17 سال کی عمر میں فوج میں بھرتی ہوۓ اور ڈرائیور کی تربیت حاصل کی۔ جب 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ چھڑی تو ، وہ 20 لانسرز کے ساتھ خدمت انجام دے رہے تھے ۔ وہ اگرچہ ڈرائیور تھے مگر انہوں نے اپنے یونٹ کے ہر معرکے میں گرمجوشی سے حصہ لیا۔ کتنا ہی سنگین مرحلہ کیوں نہ ہو دشمن سے مقابلے کے لۓ تیار رہتے تھے۔ 5 دسمبر 1971 کو ظفر وال، شکر گڑھ کے محاذ پر دشمن کی براہ راست گولہ باری کی پرواہ کۓ بغیر ایک ایک مقام میں جاکر گولہ بارود پہنچاتے رہے۔
10 دسمبر کو انہوں نے جب دشمن کو ” ہرد خورد ” گاؤں میں ہماری بارودی سرنگوں کے قریب مورچے کھودتے دیکھا تو انہوں نے فورا یونٹ کے نائب کماندار کو اطلاع دی اور پھر خود اپنے طور پر یکے بعد دیگرے اپنی ٹینک شکن توپ کے پاس پہنچتے اور دشمن کے ٹینکوں پر فائر کرواتے رہے جس کے نتیجے میں دشمن کے سولہ ٹینک تباہ ہوگۓ۔ 10 دسمبر کی سہ پہر چار بجے سوار محمد حسین شہید اپنے ایک رائفل کو دشمن کے ٹھکانے دکھارہے تھے کہ اس کے ایک ٹینک سے مشین گن کی گولیوں کی ایک بوچھار نے انکی چھاتی چھلنی کردی اور وہ میدان میں شہید ہوگۓ اور فقط 22 سال کی عمر میں شہادت کے اس عظیم رتبے پر فائز ہوۓ۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے
میں تجھ کو تجھ سے زیادہ اور سب سے زیادہ چاہوں گا
مگر شرط یہ ہے کہ اپنے اندر میری جستجو تو پیدا کر
اگر نہ بدلوں تیری خاطر ہر چیز کو تو کہنا
تو اپنے آپ میں پہلے اندازِ وفا تو پیدا کر
سوار محمد حسین شہید کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ نشانِ حیدر پانے والے پہلے نوجوان تھے۔
اللہ تعالی انکی کوششوں کو جو انہوں نے وطنِ عزیز کیلۓ کی ہیں انہے قبول فرماۓ۔ آمین
شہیدانِ وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل
وہاں پر شکر کرتے تھے جہاں پر صبر مشکل تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں